جرمنی کے شہر ویورسلین میں ایک 44 سالہ نرس کو کم از کم 10 مریضوں کو چھپ کر درد کم کرنے والی اور نیند لانے والی ادویات دینے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نرس پالیئیٹیو کیئر میں کام کرتا تھا اور الزام ہے کہ اس نے مریضوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھانے کے بجائے اپنے رات کے کام کو آسان بنانے کے لیے انہیں مارنے کے مترادف ادویات لگا دیں۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم نے زیادہ تر بزرگ مریضوں کو مرفین اور مڈازولیم جیسی طاقتور ادویات لگائیں، جو امریکہ میں بعض اوقات پھانسی کے وقت بھی استعمال ہوتی ہیں، اور اس کا مقصد صرف اپنی رات کی شفٹ آسان کرنا تھا۔
ملزم نے عدالت میں کہا کہ وہ صرف اپنے مریضوں کو سلا دینے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ نیند بہترین دوا ہے اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ادویات اتنی مہلک ثابت ہوں گی۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ نرس نے 2020 سے ہسپتال میں کام کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے میں کوئی دلچسپی یا لگن نہیں دکھائی اور مریضوں کے دکھ درد کے بارے میں کوئی ہمدردی محسوس نہیں کی۔
تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ جن مریضوں کو سب سے زیادہ نگہداشت کی ضرورت تھی صرف وہ اسے تنگ کرتے تھے۔ ایچن کی عدالت نے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے اور اسے بریت کی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔























