میرپور خاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
اینٹی کرپشن (سنٹرل) سیکورٹی حیدرآباد کے جج اشوک کمار ڈوڈیجا کو اچانک عہدے سے معطل کیا گیا ہے، اینٹی کرپشن کورٹ کے جج کی معطلی پر عدالتی اور وکلاء کے حلقوں میں تشویش اور بیچینی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جج اشوک کمار ڈوڈیجا کو حال ہی میں نیب کورٹ کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا، جہاں انہوں نے زیرِ سماعت ریفرنسز میں انصاف اور میرٹ پر مبنی فیصلے صادر کیے، جس کے بعد انہیں معطل کیا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ سرمد ستار لغاری،
ایڈوکیٹ جہانزیب ڈاھری، ایڈوکیٹ سحرش اور حیدرآباد کے دیگر وکلاء کا کہنا ہے کہ حال ہی میں دیئے گئے فیصلے مبینہ طور پر بعض بااثر حلقوں کو پسند نہیں آئے۔ اطلاعات ہیں کہ جج اشوک کمار ڈوڈیجا کی معطلی کے پسِ پردہ اُن کی غیرجانبداری اور اصول پسندی ہی بنیادی وجہ بنی، جج ڈوڈیجا نے کسی بھی قسم کی “ڈکٹیشن” یا غیرقانونی دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا، جس کے باعث اعلیٰ حکام کے مفادات متاثر ہو رہے تھے، اسی تناظر میں اُن پر بدانتظامی اور نااہلی کے الزامات لگا کر معطلی کا فیصلہ کیا گیا، جسے عدالتی حلقے ایک انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جج اشوک کمار ڈوڈیجا کا شمار اُن چند ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فیصلوں میں ہمیشہ قانون کی بالادستی، شفافیت اور انصاف کو مقدم رکھا۔ اُن کی معطلی کو عدالتی آزادی پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ وکلا برادری میں اس اقدام کے خلاف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے ایماندار افسران کو محض دباؤ نہ ماننے کے جرم میں نشانہ بنایا گیا تو اس سے عدلیہ میں خوف اور عدمِ اعتماد کا ماحول پیدا ہوگا، جو انصاف کے پورے نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔
Load/Hide Comments























