سوڈان کی زمین پر لگی آگ — غزہ سے الفاشر تک انسانیت کا زوال

سوڈان کی زمین پر لگی آگ — غزہ سے الفاشر تک انسانیت کا زوال
تحریر: شبانہ ایاز
shabanaayazpak@gmail.com

دنیا کے دو گوشے — غزہ اور سوڈان — آج انسانیت کے امتحان بنے ہوئے ہیں۔ غزہ میں سات سو پچپن دن گزر گئے، نہ آگ بجھی، نہ زمین ٹھنڈی ہوئی، نہ دنیا جاگی۔ اسرائیل کے حملے صرف غزہ تک محدود نہیں رہے بلکہ مغربی کنارے تک پھیل چکے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اگرچہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مغربی کنارے پر کچھ نہیں ہوگا، لیکن عالمی میڈیا کے مناظر اس کے برعکس ہیں۔ وہاں مستقل قبضے جاری ہیں، مکانات گرا دیے گئے ہیں، زیتون کے باغ اجاڑ دیے گئے ہیں۔ القدس گورنریٹ کے مشیر معروف الرفاعی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ کے اردگرد زمین کے نیچے سرنگوں کی خفیہ کھدائیاں کر رہا ہے۔ ان کھدائیوں سے زمین میں دراڑیں پڑ رہی ہیں جو مسجد کے بعض حصوں کے گرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اردن نیوز کے مطابق یہ کام کسی سائنسی تحقیق کے لیے نہیں بلکہ مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت مٹانے اور یروشلم کو ایک ’’یہودی شہر‘‘ ثابت کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

یہی عمل اب افریقہ کے شمال مشرق میں موجود سوڈان میں ایک مختلف انداز سے دہرایا جا رہا ہے۔ غزہ کی طرح یہاں بھی مسلمان ہی نشانے پر ہیں۔ وہاں اسرائیلی بم برستے ہیں اور یہاں اپنے ہی ملک کے ہاتھوں اپنے لوگ قتل ہو رہے ہیں۔ یہ جنگ دو فوجی گروہوں کے درمیان ہے — سوڈانی مسلح افواج (SAF) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF)۔ لیکن اس کے پیچھے اصل کہانی اقتدار کی نہیں بلکہ زمین، سونا، معدنیات اور بحیرہ احمر کے ساحلی راستوں پر قبضے کی ہے۔

15 اپریل 2023 کو شروع ہونے والی یہ خانہ جنگی اب دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکی ہے۔ غزہ میں دو سال میں انہتر ہزار مسلمان شہید ہوئے، لیکن شمالی سوڈان میں صرف ڈھائی سال کے اندر دو لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا کسی سیاست یا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف اتنا جرم کرتے ہیں کہ ان کی زمین زرخیز ہے اور اس کے نیچے سونا ہے۔

اکتوبر 2025 میں دارفور کے مرکزی شہر الفاشر پر RSF نے قبضہ کیا۔ چند دنوں کے اندر دو ہزار سے زائد عام شہری مار دیے گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ تقریباً ڈھائی لاکھ لوگ شہر میں محصور ہیں، چھ ہزار سے زیادہ بچے بھوک اور بیماری کے باعث زندگی کی آخری حد پر ہیں۔ امدادی تنظیمیں داخل نہیں ہو سکتیں اور دنیا صرف تماشائی ہے۔ وہی مناظر ہیں جو ہم نے غزہ میں دیکھے، بس یہاں قاتل اور نام مختلف ہیں۔

سوڈان افریقہ کا تیسرا سب سے بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک ہے۔ دارفور کی سونے کی کانیں بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے خزانہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی بڑی کمپنیاں، جیسے انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی اور جنان انویسٹمنٹ، پہلے ہی پچاس ہزار ہیکٹر سے زائد زمین پر قابض ہو چکی ہیں۔ مزید ایک لاکھ باسٹھ ہزار ہیکٹر زمین پر چھ ارب ڈالر کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ جب سوڈانی حکومت نے ان منصوبوں کو غیر منصفانہ کہہ کر مسترد کیا تو جواب میں خانہ جنگی بھڑکا دی گئی۔ RSF کو بطور جنگی آلہ استعمال کیا گیا تاکہ عوام کی مزاحمت کو ختم کر کے زمین اور وسائل پر قبضہ آسان ہو سکے۔ یہی آج کی دنیا کی نئی نوآبادیات ہے، جہاں توپوں کی جگہ سرمایہ اور ملیشیائیں استعمال کی جاتی ہیں۔

یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ سوڈان نے 1956 میں آزادی حاصل کی، لیکن فوجی حکومتوں کا سلسلہ کبھی نہ رکا۔ 1989 میں عمر البشیر نے اقتدار سنبھالا اور تئیس سال حکومت کی۔ 2019 میں عوامی احتجاج کے بعد وہ ہٹا دیے گئے۔ اس کے بعد جنرل عبدالفتاح البرہان اور RSF کے سربراہ محمد حمدان دگلو، جنہیں حمیدتی کہا جاتا ہے، کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی۔ RSF دراصل دارفور کے باغیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی ایک فوج تھی، جو اب خود اقتدار کے لیے لڑ رہی ہے۔ اس لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان سوڈان کے عام شہریوں کا ہو رہا ہے۔

علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ نے جدہ میں مذاکرات کروانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ مصر اپنی جنوبی سرحد کے تحفظ کے لیے سوڈانی فوج کی مدد کر رہا ہے، جبکہ امارات پر الزام ہے کہ وہ RSF کو اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ ایران نے الفاشر کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سوڈانی افواج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ترکیہ نے ثالثی کی کوشش کی اور یورپی یونین نے نوّے ملین یورو کی امداد دی، لیکن یہ سب اقدامات کاغذوں سے آگے نہیں بڑھے۔

آج سوڈان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ تیس ملین افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ آٹھ اعشاریہ آٹھ ملین لوگ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں اور ساڑھے تین ملین پڑوسی ممالک میں پناہ گزین بن چکے ہیں۔ غزہ کی طرح یہاں بھی مائیں اپنے بچوں کو کھانے کے لیے پتے ابال کر دیتی ہیں۔ مرد یا تو مارے جا رہے ہیں یا جنگی گروہوں میں زبردستی شامل کر لیے جاتے ہیں۔

المیہ یہ نہیں کہ دنیا خاموش ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسلامی دنیا بھی تماشائی بن چکی ہے۔ پچاس سے زائد مسلم ممالک میں سے کوئی ایک نہیں جو سوڈان کے لیے مؤثر آواز اٹھا سکے۔ قوم پرستی اور مفاد پرستی نے امت کا تصور مٹا دیا ہے۔ غزہ، سوڈان، برما، شام — ہر جگہ کہانی ایک ہی ہے، صرف جغرافیہ بدل گیا ہے۔

سوڈان کبھی افریقہ کا سب سے بڑا ملک تھا۔ دریائے نیل کی برکت، سونے کی دولت، اور زرخیز زمین اس کی پہچان تھی۔ مگر اب وہی زمین خون میں نہا رہی ہے۔ یہ جنگ صرف ایک ملک کی نہیں، یہ انسانیت کے ضمیر کا سوال ہے۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سونا بچائیں گے یا انسان۔ کیونکہ اگر خاموشی برقرار رہی تو یہ آگ صرف الفاشر تک نہیں رہے گی، یہ پوری انسانیت کو جلا ڈالے گی۔