پنجاب کے مختلف شہر شدید سموگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں، جبکہ لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد 500 سے تجاوز کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق صوبے کے بڑے شہروں — لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور قصور — میں فضائی معیار تیزی سے خراب ہورہا ہے۔ گوجرانوالہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 762 ریکارڈ کیا گیا جو اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
محکمہ ماحولیات کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ ایف ایف پاکستان میں اے کیو آئی 790، سول سیکرٹریٹ 770، ساندہ روڈ 718 اور بیدیاں روڈ پر 714 تک پہنچ گیا۔ دیگر مقامات جیسے برکی روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ، جی ٹی روڈ، واہگہ بارڈر اور ایجرٹن روڈ پر بھی انڈیکس 500 کے قریب ریکارڈ ہوا۔ ڈی ایچ اے فیز 6 میں فضائی معیار 369، سفاری پارک میں 357 جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں 355 درج کیا گیا۔
محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کا کہنا ہے کہ صبح 4 بجے کے بعد شہر میں آلودگی کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اس وقت مشرقی اور جنوب مشرقی سمت سے چلنے والی ہوائیں بھارتی پنجاب کے علاقوں — لدھیانہ، جالندھر، امرتسر اور ہوشیارپور — سے دھواں اور مضر ذرات لاہور، قصور، ساہیوال، فیصل آباد اور ملتان کی فضا میں لے جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارتی سرحد پار سے آنے والے دھوئیں کی آمیزش سے آلودگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ صبح کے وقت ہوا کی کم رفتار کے باعث آلودہ ذرات زمین کے قریب جمع رہتے ہیں، البتہ دوپہر میں معمولی بہتری جبکہ شام کے وقت ہواؤں کی شدت بڑھنے پر یہ ذرات اندرونِ پنجاب کی جانب منتقل ہوسکتے ہیں۔ درجہ حرارت میں الٹے تغیر (Temperature Inversion) کے باعث ٹھنڈی ہوا زمین کے قریب ٹھہر جانے سے آلودگی پھیلنے میں رکاوٹ پیش آرہی ہے۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بالخصوص بچے، بزرگ اور سانس یا دل کے مریض صبح 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک اور شام 7 بجے کے بعد غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
دوسری جانب، محکمہ ماحولیات نے آلودگی کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے ایک بڑے صنعتی یونٹ کو سیل توڑنے پر منہدم کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں کاربن بیگز اور غیر قانونی سامان برآمد ہوا، جبکہ گرفتار افراد کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔























