اسلام آباد ہائی کورٹ میں ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ کے خلاف عریاں مواد شیئر کرنے کی درخواست دائر

نامناسب اور عریاں مواد شیئر کرنے کے الزامات کے تحت ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

’لازوال عشق‘ ریئلٹی شو کی پہلی قسط گزشتہ ماہ 29 ستمبر کو یوٹیوب پر جاری کی گئی تھی، شو کی اب تک نشر کی جانے والی قسطوں میں پر صارفین نے اظہار برہمی کیا ہے۔

شو کی میزبانی عائشہ عمر کر رہی ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ ان کا شو ’ڈیٹنگ شو‘ نہیں ہے جب کہ صارفین ان کے شو پر اسلامی ملک میں فحاشی پھیلانے کے الزامات عائد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شو کے ٹیزر اور ٹریلرز سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے واضح کیا تھا کہ مذکورہ شو یوٹیوب پر نشر ہوگا اور اس پر پابندی عائد کرنا ان کے دائرہ کار میں نہیں۔

شو کی چند قسطیں جاری ہونے کے بعد اب اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے پیمرا سمیت پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو شو کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انگریزی اخبار ’ایکسپریس ٹربیون‘ کے مطابق امن ترقی ترقی پارٹی کے چیئرمین محمد فائق شاہ کی جانب سے ’لازوال عشق‘ کے خلاف درخواست دائر کرادی گئی۔

آئینی درخواست میں شو کے مواد کو غیر اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امن ترقی پارٹی کے چیئرمین کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شو ملک کی مذہبی و سماجی اقدار، روایات اور اخلاقیات کے خلاف مواد پیش کر رہا ہے۔

درخواست کے مطابق شو تفریح اور آزادیِ رائے کے نام پر بے حیائی کو فروغ دیتا ہے اور اظہار کی آزادی کے نام پر ایسی بے حیائی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیمرا اور پی ٹی اے کو ہدایت کی جائے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر اخلاقی مواد کی سخت نگرانی کریں۔

درخواست میں کونسل آف اسلامک آئڈیالوجی (سی آئی آئی) کے کردار کے حوالے سے بھی رہنمائی مانگی گئی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ وہ فن اور آزادیِ رائے کی حمایت کرتے ہیں لیکن آزادی کے نام پر اخلاقی زوال اور بے حیائی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس اقدام کو ملک کے ثقافتی اور مذہبی ڈھانچے کے تحفظ کی کوشش قرار دیا۔

دائر کی گئی درخواست میں وفاق پاکستان، پیمرا، پی ٹی اے، سی آئی آئی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو فریق بنایا گیا ہے۔