
ریڈ بس کے اضافی کرائے،اچھی ٹرانسپورٹ سروس سے محروم کرنے کی سازش ہے:پاسبان
بڑھائے گئے کرائے آر ٹی اے سے منظور کرا کے نوٹیفیکیشن جاری کیاجائے:ابو بکر عثمان
ہائبرڈ بسین ڈیزل اور بیٹری پر چلتی ہیں،فلیٹ ریٹ مقرر کئے جائیں
سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی شہر پر اجارہ داری جما کر عوام کا خون چوسنا بند کرے
شہریوں کی بنیادی ضروریات کے تمام ادارے نو پرافٹ نو لوس پر چلائے جائیں
کراچی( ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈائریکٹر پبلک ایشوز کمیٹی ابو بکر عثمان نے کہا ہے کہ پیپلز بس سروس کے اضافی کرائے،عوام کو اچھی ٹرانسپورٹ سروس سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ ریڈ بس کے مسافر زیادہ تر ملازمت پیشہ ہیں جن کے لئے 120 روپے یکطرفہ کرائے کی مد میں دینا انتہائی مشکل ہے اس لئے چیئرمین پی پی پی، وزیر اعلی سندھ، وزیر ٹرانسپورٹ،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی فوری نوٹس لیں۔ سندھ ماس ٹرانزٹ آزاد ادارہ نہیں ہے۔یہ صوبائی وزارت ٹرانسپورٹ اور ریگولیٹری کے تحت چلتا ہے اس لئے بڑھائے گئے کرائے اس ریگولیٹری سے منظور کرا کے نوٹیفیکیشن لیا جائے۔ پیپلز بس سروس سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے تحت چل رہی ہے۔ آغاز میں 35 کلومیٹر تک اس کا کرایہ 50 روپے تھا۔اب کرایہ 50 جگہ 80 اور 120 روپے لیا جا رہا ہے جبکہ چلانے کی لاگت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پیپلز بسیں ڈیزل پر چلتی ہیں اور اس کی رفتار 40 کلومیٹر پر آنے کے بعد خودکار نظام کے تحت ہائبرڈ یعنی بیٹری پر چلی جاتی ہے اور بیٹری کے چلنے کا خرچہ صفر ہے۔ دریں اثناء ہائبرد بسیں ڈیزل بھی کم استعمال کرتی ہیں۔روٹ کی کوسٹ آف رننگ ڈیزل پر آنے کے باوجود 50 روپے کرایہ لینے پر بھی کوئی نقصان نہیں ہے۔ پیپلز بس سروس کا کرائے بڑھانے سے قبل روزانہ جمع ہونے والا ریونیو 16ہزار روپے تھا جو اب 32 سے 38ہزار روپے یومیہ ہے۔ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی شہر پر اجارہ داری جما کر عوام کا خون چوس رہی ہے۔ جس طرح پانی، بجلی،روڈانفرا اسٹرکچر، لاء اینڈ آرڈر، شہریوں کی بنیادی ضرورت اور ریاست کی ذمہ داری ہے اسی طرح ٹرانسپورٹ بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حکومت اپنی زمہ داری ادا کرے اور پیپلز بس سروس کا ایک فلیٹ ریٹ مقرر کرائے جو زیادہ سے زیادہ 60روپے ہو۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات کے تمام ادارے نو پرافٹ نو لوس پر چلائے جائیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے رہنما ابو بکر عثمان نے مزید کہا کہ کراچی میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسافر،پیپلز بس سروس سے بھرپور استفادہ کررہے تھے لیکن کرایوں میں ظالمانہ اضافہ کے بعد شہریوں نے چنگ چی رکشوں کا رخ کر لیا ہے۔ پاسبان ہیلپ لائن پر رابط کرنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ پیپلز بس سروس کے کرائے کلو میٹر کے حساب سے بڑھائے گئے ہیں لیکن کنڈیکٹرز کلومیٹر کے بجائے اسٹاپس کے حساب سے اضافی کرائے وصول کرر ہے ہیں۔ شہریوں کے بس سروس کی انتظامیہ سے بات کرنے پر بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے انتظام لوکل ٹھیکیداروں کو دے دیا ہے اور اب من مانے لوکل کرائے ہی چارج کئے جائیں گے۔ پاسبان رہنما نے کہا کہ کنڈیکٹرز مقررہ کرایوں سے زائد رقم وصول کر رہے ہیں جو غیر قانونی اور مسافروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاسبان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پیپلز بس سروس کا کرایہ بڑھانے کے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ عام آدمی بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتا رہے۔ سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کہتے ہیں کہ جتنے بھی فیصلے کیے اس کی نیت اچھی ہے، 40 روپے فی مسافر کے حساب سے 50 لاکھ روزانہ حکومت سبسڈی دے رہی ہے لیکن پیپلز بس سروس انتظامیہ کا کہناہے کہ حکومت نے کوئی بھی سبسڈی دینے سے انکار کردیا ہے اور اب ہم اپنی مرضی سے کرائے وصول کریں گے#
جاری کردہ پاسبان پریس انفارمیشن سیل
اعظم منہاس: چیئرمین پریس اینڈ انفارمیشن سیل























