
پریس ریلیز:
ماں کا دودھ بچے میں قوت مدافت اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، ماں کا دودھ نہ صرف بہترین غذائیت، اینٹی باڈیز اور تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ مختلف وائرس اور بیکٹیریا سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے،پروفیسر مسعود صادق، پروفیسر وسیم جمالوی، ڈاکٹر خالد شفیع، ڈاکٹر محسینہ نور ابراھیم، ڈاکٹر سعداللہ چاچڑ اور ڈاکٹر حیات بزدار کی پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر): ماں کا دودھ بچے میں قوت مدافت اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، ماں کا دودھ بچے کے لیے نہ صرف بہترین غذائیت، اینٹی باڈیز اور تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ مختلف وائرس اور بیکٹیریا سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے جو کہ بچے کے ابتدائی مہینوں میں بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی نصف خواتین اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی جس کی وجہ سے بچے قبل از وقت پیدائش، اسہال اور سانس اور دیگر بیماریاں کا شکار ہو کر جان بحق ہوجاتے ہیں، یہ بات ماہر امراض اطفال اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر مسعود صادق، سیکٹری جنرل پروفیسر محسینہ نور ابراھیم، ڈاکٹر خالد شفیع، پروفیسر وسیم جمالوی، ڈاکٹر سعداللہ چاچڑ اور ڈاکٹر حیات بزدار نے ہفتے کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
ان ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے کو پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی شرح صرف 48.4 فیصد ہے جبکہ 50فیصد مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں۔ پاکستان میں ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے تحفظ کے قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن یہ قوانین تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر رہے تھے، اس لیے ان کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن نے یونیسیف اور محکمہ صحت کے تعاون سے نیا قانون تیار کیا جو سندھ اسمبلی نے منظور کرلیا گیا۔ اس قانون میں غذائیت سے منسلک مصنوعات، دودھ کے متبادل مصنوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، پاکستان پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن نے حکومت کی مشاورت سے سندھ پروٹیکشن اینڈ بریسٹ فیڈنگ ایکٹ منظور کروایا جس پر فوری عملدرامد شروع کردیا گیا۔ ان ماہرین نے بتایا کہ اس حوالے سندھ حکومت نے ایک بورڈ تشکیل بھی دیا گیا جس میں سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن اور پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی شامل ہیں۔اگر کسی بھی ڈاکٹر نے مصنوعی دودھ کی پروموشن کی تو اس کے خلاف 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی سزا دے جائے گی۔مختلف اسپتالوں میں کسی بھی مصنوعی دودھ کے بورڈ اویزاں بھی نہیں کئے جاسکیں گے۔ میڈیکل اسٹوروں سے ڈاکٹری نسخے کے بغیر مصنوعی نہیں لئے جاسکیں گے۔اگر نوزائیدہ کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مصنوعی دودھ دیا گیاتو اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہدایت پر چند دن دودھ دیا جائے گا۔ مصنوعی دودھ سے بچوں میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوتی جس کی وجہ کم عمری میں بچہ مختلف امراض کا شکار ہورہے ہیں۔























