
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف ناول نگار اور براڈکاسٹر گل بانو کی نئی تصنیف ”نوشتِ گُل“ کی تقریبِ رونمائی
دوسروں کی مدد کرنے سے جو سکون ملتا ہے اس کا اثر دیرپا رہتا ہے، ڈاکٹر اقبال محسن
اپنی تخلیق کردہ کتاب بھی اپنی اولاد کی طرح پیاری ہوتی ہے ، احتشام ارشد نظامی
کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف ناول نگار اور براڈکاسٹر گل بانو کی نئی کتاب ”نوشتِ گُل“ کی تقریبِ رونمائی حسینہ معین ہال میں منعقد کی گئی، تقریب کی صدارت اردو ادب کے نامور ادیب ڈاکٹر اقبال محسن نے کی جبکہ احتشام ارشد نظامی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اخلاق احمد، اقبال اے رحمن، تابش قریشی اور سید مسرور علی نے کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض حامد اسلام خان نے انجام دیے، اس موقع پر صدرارتی خطبے میں ڈاکٹر اقبال محسن نے کہا کہ دوسروں کی مدد کرنے سے جو سکون ملتا ہے اس کا اثر دیرپا رہتا ہے، کتاب ”نوشتِ گُل“ ایک نوجوان ادیبہ کی دل کی آواز ہے جو اس کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گل بانو نے اس کتاب میں اپنے بچپن اور موسمیاتی تبدیلیوں کو قدرتی آفات کے طور پر بیان کیا ہے جس سے اس کی تحریروں کی حقیقت پسندی اور سچائی عیاں ہوتی ہے۔ اقبال اے رحمن نے اس کتاب کو ”پھولوں کی زبان“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گل بانو جب ادب کی دنیا میں آئیں تو بہت سے لوگوں کی بتیاں مدھم ہو گئیں۔ ”نوشتِ گُل“نہ صرف تخلیقی کاوش بلکہ ایک گہری بصیرت بھی پیش کرتی ہے جو قاری کو نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں تین اہم باب ہیں جن میں گل بانو نے معاشرتی مسائل کو ممتا کے جذبات کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اخلاق احمد نے کتاب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مجھے لگا یہ ایک فکشنل کتاب ہوگی لیکن جب میں نے اسے پڑھا تو احساس ہوا کہ یہ ایک منتشر تحریر ہے جس میں سفرنامہ، مضمون، اور کئی مختلف اقسام کی تحریریں شامل ہیں۔ ان میں ایک بے پناہ توانائی اور جذبہ ہے، خاص طور پر جیکب آباد کے حوالے سے ان کا لکھنا بہت دلچسپ لگا۔ انہوں نے گل بانو کی تحریر کی سادگی اور انکسار کو سراہا اور کہا کہ ان کے اندر معاشرے کو تبدیل کرنے کی ایک بھرپور خواہش ہے۔ مہمانِ خصوصی احتشام ارشد نظامی نے کہا کہ اپنی تخلیق کردہ کتاب بھی اپنی اولاد کی طرح پیاری ہوتی ہے۔انہوں نے گل بانو کی تحریروں کو نہ صرف سبق آموز بلکہ تحقیق سے بھرپور قرار دیا اور کہا کہ ان میں چھوٹے چھوٹے نکات اور گہرے معنی موجود ہیں جو قاری کو نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کتاب گل بانو کی شخصیت اور ان کے ادبی سفر کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ مصنفہ گل بانو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ میرے بچوں کی محبت نے مجھے ہمیشہ مضبوط کیا اور مجھے یہاں تک کا سفر طے کرنے میں مدد دی۔ یہ کتاب میری پہلی کتاب ہونی چاہیے کیونکہ اس میں وہ باتیں ہیں جو میں نے اس وقت لکھیں جب مجھے نہیں لگتا تھا کہ یہ قابلِ اشاعت ہو گی مگر میں لکھتی رہی اور آج وہ بکھری ہوئی تحریریں ایک کتاب کی صورت میں سامنے آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کچھ تحریریں بچوں کو نصیحت کے طور پر لکھی گئی ہیں۔ ایڈمن ڈائریکٹر شکیل خان نے کہا کہ گل بانو نے اس کتاب میں اپنے دل کی آواز کو بے باکی سے پیش کیا ہے۔ گل بانو ہمیشہ فنون کے قدردانوں کو پروموٹ کرنے کے لیے سرگرم رہتی ہیں ، ان کی کتاب اس مقصد کے تحت ایک اہم قدم ہے۔ تابش قریشی نے کہاکہ میری والدہ نے اس کتاب پر بہت محنت کی ہے آج اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے، سید مسرور علی نے کہا کہ گل بانو نے اس کتاب میں اس معاشرے کے دکھوں اور بگڑتے ہوئے حالات کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے ’گل‘ کو زبان دے کر ہمیں آئینہ دکھایا ہے کہ ہم کس طرح بے حسی کے لبادے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آخر میں تعبیر آغائی نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔























