.سفر کے نقطہ نظر سے….یورپ کم لیکن پاکستان زیادہ خوبصورت

کُمراٹ ویلی – پاکستان کا وہ جنت نظیر گوشہ جسے دیکھ کر دل مسحور ہو جائے

پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جنہیں قدرت نے بے پناہ حسن، موسموں کی لطافت اور مناظر کی دلکشی سے نوازا ہے۔ شمالی علاقہ جات کی بات ہو تو ہر گھاٹی، ہر چشمہ، ہر پہاڑی اور ہر وادی اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ انہی حسین خطّوں میں سے ایک کُمراٹ ویلی ہے—ایسی وادی جو پہلی نظر میں اپنے حسن سے قائل کر لیتی ہے۔ یہاں کے دیودار کے گھنے جنگلات، گنگناتی ندیاں، برف پوش چوٹیاں، پرسکون فضائیں اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی ایسا امتزاج پیدا کرتی ہیں جو ہر مسافر کے لیے یادگار بن جاتا ہے۔

کُمراٹ ویلی خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں واقع ہے۔ چند سال قبل تک یہ مقام بہت کم لوگوں کو معلوم تھا، مگر جب سے سوشل میڈیا پر اس کے مناظر وائرل ہوئے، یہاں آنے والوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ آج یہ وادی محبت، سکون اور قدرتی حسن کے متلاشی سیاحوں کی پہلی پسند بن چکی ہے۔

کُمراٹ پہنچنے کا سفر

کُمراٹ کا سفر بذاتِ خود ایک تجربہ ہے۔ اسلام آباد یا پشاور سے تیمرگرہ، دارہ آدم خیل، شرینگل اور پھر تھل تک کا راستہ پختہ سڑک پر مشتمل ہے۔ تھل سے کُمراٹ ویلی تک کا سفر جسمانی طور پر تھوڑا مگر روحانی طور پر بہت تازگی دینے والا ہوتا ہے کیونکہ یہاں سے جیپ ٹریک شروع ہو جاتا ہے۔ جیپیں چیڑ اور دیودار کے لمبے درختوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی وادی کے دل میں پہنچا دیتی ہیں جہاں آواز صرف پہاڑوں سے ٹکراتی ہوا کی ہوتی ہے یا پھر دریائے پنجکورہ کی بےتاب لہروں کی۔

راستے میں چھوٹے چھوٹے گاؤں آتے ہیں جن کی سادگی، مقامی عمارتوں کے انداز اور لوگوں کے چہروں پر مستقل موجود مسکراہٹ مسافر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں، اکثر مسافر کو بلا جھجک چائے یا پھل کی دعوت دیتے ہیں۔

دیودار کے جنگلات – کُمراٹ کی پہچان

کُمراٹ ویلی کا سب سے نمایاں حسن اُس کے دیودار کے جنگلات ہیں۔ پاکستان میں بہت کم مقامات ایسے ہیں جہاں اتنے وسیع اور قدیم دیودار کے درخت موجود ہوں۔ ان درختوں کی بلندی اور شان دیکھ کر انسان خود کو بہت چھوٹا محسوس کرتا ہے۔ دن کے وقت جب سورج کی روشنی ان درختوں میں سے چھن چھن کر زمین پر پڑتی ہے تو ہر منظر کسی جادوئی فلم کا منظر محسوس ہوتا ہے۔

یہ جنگلات ماحول کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے اور قدرتی ماحول کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور مقامی لوگ ان جنگلات کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

دریائے پنجکورہ – وادی کی جان

کُمراٹ کے حسن کو چار چاند لگاتا ہے دریائے پنجکورہ۔ یہ دریا وادی کے بیچوں بیچ بہتا ہے اور اپنی نُوری لہروں سے ہر طرف ٹھنڈک اور تازگی بکھیرتا ہے۔ دریا کا پانی اتنا صاف ہوتا ہے کہ نیچے تک پتھر صاف نظر آتے ہیں۔ سیاح اکثر دریا کنارے بیٹھ کر خاموشی سے بہتے پانی کو دیکھتے رہتے ہیں یا پھر ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈال کر سکون محسوس کرتے ہیں۔

یہ دریا فشنگ، پکنک اور کیمپنگ کے لیے بھی بہترین جگہ ہے۔ رات کے وقت جب دریا کی روانی کی آواز اور ٹھنڈی ہوا کا لمس ایک ساتھ ملتے ہیں تو کیمپنگ کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

جہاز بانڈہ – کُمراٹ کا تاج

کُمراٹ ویلی آئے اور جہاز بانڈہ نہ گئے تو سمجھیں آپ نے اصل حسن دیکھا ہی نہیں۔ جہاز بانڈہ ایک سرسبز میدان ہے جو بلند پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کے لیے ہائیک کرنا پڑتی ہے، لیکن جب آپ اس مقام پر پہنچتے ہیں تو آپ کے سامنے ایسے مناظر کھلتے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

سبزہ زاروں پر گھوڑے اور بکریاں چر رہی ہوتی ہیں۔ اطراف میں بلند پہاڑ دھند اوڑھے کھڑے ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں چھوٹے چشمے بل کھاتے ہوئے بہتے ہیں۔ اکثر سیاح یہاں پہنچ کر کہتے ہیں کہ یہ منظر کسی یورپی کارڈ یا فلم کا حصہ لگتا ہے۔

دو جی درہ اور کٹورہ لیک

اگر کوئی سیاح ایڈونچر کا شوق رکھتا ہو تو دو جی درہ اور کٹورہ جھیل اس کے لیے بہترین مقامات ہیں۔ دو جی درہ خوبصورت گھاٹی ہے جہاں چھوٹے چشمے، کھلے سبز میدان اور جنگلی پھول مل کر دلکش ماحول پیدا کرتے ہیں۔

اسی درے سے کئی گھنٹے کی ہائیک کے بعد سیاح کٹورہ لیک تک پہنچتے ہیں۔ کٹورہ جھیل اپنا نام اس وجہ سے رکھتی ہے کہ یہ جھیل کٹورے کی شکل کی ہے۔ اس کا پانی نیلگوں ہے اور اردگرد برف پوش پہاڑ اس کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ یہاں کا سکوت ایسا ہے کہ انسان خود سے ہمکلام ہو جاتا ہے۔

موسم اور بہترین وقتِ سفر

کُمراٹ ویلی میں سردیاں کافی سخت ہوتی ہیں اور اکثر سڑکیں بند ہو جاتی ہیں۔ بہار سے لے کر اوائلِ خزاں یعنی مئی سے ستمبر تک کا وقت یہاں آنے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران موسم معتدل رہتا ہے اور ہر طرف ہریالی کا راج ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی برف باری کا شوقین ہو تو دسمبر اور جنوری میں بھی یہاں کا دلکش منظر دیکھ سکتا ہے، مگر موسم کی سختی اور راستوں کی مشکلات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

کیمپنگ، بون فائر اور رات کا حسن

کُمراٹ ویلی کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ یہاں کیمپنگ کلچر بہت مشہور ہے۔ وادی میں جگہ جگہ کیمپنگ سائٹس موجود ہیں جہاں سیاح رات گزار سکتے ہیں۔
جب رات ہوتی ہے تو آسمان پر بے شمار ستارے روشن ہو جاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ستاروں کی کوئی بارات اُتر آئی ہو۔ دریا کی آواز اور لکڑیوں کی خوشبو دیتے بون فائر کے اردگرد بیٹھنا ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر عمر کے لوگوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

کُمراٹ کے لوگ سادہ مزاج، محنتی اور بے حد مہمان نواز ہیں۔ ان کی زبان پشتو ہے مگر وہ سیاحوں سے بڑی خوش دلی سے بات کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے زائرین مقامی کھانوں جیسے چپل کباب، سُوپ، مقامی شینئی چائے اور شہد کا ذائقہ ضرور چکھتے ہیں۔

ان علاقوں کی آبادی کا زیادہ تر دار و مدار زراعت اور مال مویشی پر ہے۔ سیاحت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے مقامی لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا ہے، اور وہ اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

اگرچہ کُمراٹ ویلی بے حد خوبصورت ہے، مگر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کے باعث ماحولیات کے حوالے سے کچھ مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ فطرت کا حسن اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب ہم سب مل کر اس کی حفاظت کریں۔
کُمراٹ کا سفر کرتے وقت چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے:

دریا یا جنگلات میں کچرا نہ پھینکیں

کھلے عام آگ جلانے سے اجتناب کریں

جنگلی حیات کو نقصان نہ پہنچائیں

مقامی لوگوں اور ان کی ثقافت کا احترام کریں

اگر ہم یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اپنا لیں تو یہ خوبصورت وادی ہمیشہ اسی طرح دلکش رہے گی۔

کُمراٹ ویلی تیزی سے پاکستان کا ایک اہم سیاحتی مقام بنتی جا رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان یہاں بہتر سڑکیں، ہوٹل اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اگر یہ اقدامات ذمہ داری کے ساتھ مکمل کیے جائیں تو آنے والے چند برسوں میں کُمراٹ بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت حاصل کر سکتا ہے۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ کُمراٹ میں ایکو ٹورزم یعنی ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینا چاہیے۔ اس سے نہ صرف ماحول محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ مقامی لوگ بھی بہتر معاشی حالات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

کُمراٹ ویلی اُن لوگوں کے لیے ہے جو قدرت، خاموشی اور سکون کے دلدادہ ہوں۔ یہ وادی ہماری زمین کا ایک ایسا گوشہ ہے جہاں جا کر انسان رُک جانا چاہتا ہے۔ جہاں ہوا کی خوشبو، دریا کی لہروں کا شور، جنگلات کی سرسراہٹ اور پہاڑوں کا جاہ و جلال مل کر دل کو چھو جاتا ہے۔

اگر آپ نے ابھی تک کُمراٹ ویلی کا رُخ نہیں کیا تو یہ سفر ضرور کیجیے۔ یقیناً واپسی پر آپ کے دل میں بھی یہی خواہش ہوگی کہ کاش اس جنت نظیر مقام میں چند دن اور گزر جاتے۔ کُمراٹ کی فطرت، اس کی سادگی اور اس کا حسن ایسا ہے جو ہر مسافر کو دوبارہ آنے کی دعوت دیتا ہے—اور شاید یہی کسی بھی حسین وادی کی اصل خوبصورتی ہوتی ہے