
طرحی شعری نشست بیادِ راہی معصوم رضا
مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو
۲۱ نومبر ۲۰۲۵ء
مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو کے زیرِ اہتمام عالمی مشاعرہ بیادِ راہی معصوم رضا کے سلسلے کی دوسری طرحی شعری نشست آج ۲۱ نومبر ۲۰۲۵ء کو نہایت وقار، شائستگی اور ادبی گرمجوشی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس نشست نے اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کو تازہ کرتے ہوئے راہی معصوم رضا کی یاد اور ان کے ادبی مقام کو ایک بار پھر پوری شان کے ساتھ روشن کر دیا۔
نشست کا آغاز راہی معصوم رضا کے تعارف سے ہوا، جن کا شمار برصغیر کے اُن تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب، فلم اور ٹیلی وژن میں یکساں عظمت کے نقوش چھوڑے۔ راہی صاحب نے فلمی دنیا میں اپنی فنی مہارت کا لوہا منواتے ہوئے فلم فئیر ایوارڈ برائے بہترین مکالمہ نگاری تین بار حاصل کیا۔ ’میں تلسی تیرے آنگن کی‘ (1979)، ’طوائف‘ (1985) اور ’لمحے‘ (1991) جیسے شاہکاروں کے مکالمے آج بھی ان کی قابلیت کے زندہ ثبوت ہیں۔ ان کی تخلیقی عظمت کا سب سے روشن باب دوردرشن کا شہرۂ آفاق ڈرامہ ’’مہابھارت‘‘ ہے، جس کے اسکرین پلے اور مکالموں نے انہیں پورے برصغیر میں امر کر دیا.اسی کے ساتھ ان کی فلمی شاعری نے بھی دلوں کو چھوا۔ پردیس میں بسنے والے آج تک ان کے لکھی ہوئی اس دُھن کے سائے سے نکل نہیں سکے:
ہم تو ہیں پردیس میں، دیس میں نکلا ہوگا چاند
اپنی رات کی چھت پر کتنا تنہا ہوگا چاند
یہ نغمہ صرف ایک گیت نہیں بلکہ وہ دل کی دھڑکن ہے جو وطن سے دور ہر فرد کی رگوں میں بہتی ہے۔ تڑپ اور جدائی کی نمی کو انہوں نے ایسے اشعار میں پرویا کہ سُننے والا لمحوں میں اپنے اندر کا چاند دیکھ لیتا ہے،وہ چاند جو آنگن والے نیم میں اٹکا ہو یا وہ چاند جو کسی کی آنکھوں میں آنسو بن کر پگھلتا ہو۔
نشست کی صدارت معروف ادیب اور رائٹر انجینئر رضوان احمد نے فرمائی جن کی موجودگی نے محفل کے وقار میں اضافہ کیا۔ بحرین کے ممتاز شاعر جناب احمد عادل مہمانِ خصوصی تھے اور ان کے خیالات اور فنی تاثر نے نشست کو ایک خوشگوار رنگ بخشا۔ مقامی شعرا نے طرحی غزلیں نہایت خوبصورتی سے پیش کیں جن میں جناب احمد عادل،خورشید علیگ، ریاض شاہد، سعید سعدی اور اسد اقبال شامل تھے۔ ان کے اشعار کی تازگی، زبان کی مٹھاس اور خیال کی لطافت نے حاضرین کو مسحور رکھا۔
مجلس کی اس نشست کی انفرادیت یہ بھی ہوتی ہے ، کہ بیرونِ ملک سے ممتاز شعرا کے طرحی کلام بھی پیش کیے جاتے ہیں ۔ ہندوستان کے معروف شاعر محترم زبیر فاروقی کا کلام نہایت سلیقے سے پڑھا گیا، جبکہ پاکستان کے استادِ فن محترم عباس تابش کا کلام بھی محفل کا خاص حصہ رہا۔
اس موقع پر مجلس کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ شکیل احمد صبرحدی نے سری نگر یونیورسٹی میں ڈاکٹر راہی معصوم رضا پر منعقد ہونے والے ایک اہم بین الاقوامی سیمینار کی روداد بھی پیش کی، جس نے سامعین کو راہی صاحب کے فکری کمال، شخصی عظمت اور ادبی جہات سے مزید روشناس کرایا۔ نشست کے اختتام پر آئندہ منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کے اہم نکات، طرحی مصرعوں اور آئندہ نشستوں کے شیڈول کے بارے میں بھی آگاہی دی گئی۔
نشست کی نظامت خرّم عباسی نے نہایت خوش اسلوبی، برجستگی اور وقار کے ساتھ انجام دی۔ ان کی رواں گفتگو اور ادبی شعور نے پوری محفل کو مربوط رکھا اور نشست کے حسن میں اضافہ کیا۔
یوں یہ دوسری طرحی نشست اپنے تمام تر حسن، فکری توانائی اور ادبی رعنائی کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ یہ محفل نہ صرف راہی معصوم رضا کی عظیم وراثت کو خراجِ عقیدت تھی بلکہ گنگا جمنی تہذیب، اردو زبان کی کلاسیکی روایت اور بحرین کے ادبی ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک یادگار تحفہ بھی ثابت ہوئی۔
آخر میں نشست میں پیش کیے گئے کلام سے منتخب اشعار آپ کی نذر ہیں:
ہم تہی دست تری بزم سے کب آۓ ہیں
دامن دل میں نیا درد چھپا لاۓ ہیں
گھر کا آنگن تو نہیں وسعت صحرا کا جواب
ہم ہی دیوانے ہیں صحرا سے چلے آۓ ہیں
جس بلندی پہ پہنچ کر ہے تمہیں ناز بہت
ہم وہاں جاکے کئی بار پلٹ آۓ ہیں
زبیر فاروقی
——————————
میرے احباب مرے ہم نفساں کیسے ہیں
جن سے آباد تھا یہ قریۂ جاں کیسے ہیں
کوئ آتا بھی نہیں کوئ بلاتا بھی نہیں
میرے احباب جہاں بھی ہیں وہاں کیسے ہیں
شہر میں ٹھیک ہے سب کچھ تو پھر اے حاکم شہر
شب کے سناٹے میں یہ نالہ کناں کیسے ہیں
زبیر فاروقی
—————————
شہر لاہور ترے تلخ زباں کیسے ہیں
میرے حق میں نہ سہی ان کے بیاں کیسے ہیں
ہو گئی شام ترے شہر میں پھرتے پھرتے
ہم سے پوچھا نہ کسی نے کہ یہاں کیسے ہیں
چاک رکھتے نہیں اور توڑتے جاتے ہیں ہمیں
روز آخر یہ ترے کوزہ گراں کیسے ہیں
عباس تابش
————————-
“آکے دیکھو مری یادوں کے جہاں کیسے ہیں”
پھول یہ بر سرِ دامانِ خزاں کیسے ہیں
اس کے گفتار میں اعجازِ سخن کیسا ہے
اور خمو شی میں نۓطرزِ بیاں کیسے ہیں
جن کو میں آئینے سمجھا تھا سر را ہ جنوں
جگمگاتے ترے قدموں کے نشاں کیسے ہیں
احمد عادل
———————–
خیریت ہے کہاں رہتے ہیں، میاں، کیسے ہیں
مدتوں بعد ملے ، آپ، اماں ، کیسے ہیں
ہو گئے قتل کے الزام سے تو آپ بری
آستیں پر یہ مگر خوں کے نشاں کیسے ہیں
ایک ویرانی ہے ، تنہائی ہے ،خاموشی ہے
آ کے دیکھو میری یادوں کے جہاں کیسے ہیں
خورشید علیگ
——————–
جو ہوئے عشق میں پاگل وہ یہاں کیسے ہیں
کرب چہرے پہ ہے پر زخم نہاں کیسے ہیں
شام اُتری تو یہ خاموش ہوا بول اٹھی
عشق والوں کے لیے سود و زیاں کیسے ہیں
روز بستر پہ بھی کروٹ یہ مجھے پوچھتی ہے
لوگ آباد ہیں جو دل میں وہاں کیسے ہیں
ریاض شاہد
———————
اس نے پوچھا ہے، کہیں، آپ وہاں کیسے ہیں
کیا کہیں، ہم غمِ ہجراں میں یہاں، کیسے ہیں
کھویا کھویا سا جو رہتا ہوں میں اکثر یارو
“آ کے دیکھو مری یادوں کے جہاں کیسے ہیں”
میں تو ہربار اسے اپنا سمجھ لیتا ہوں
دیکھ لو دل کو مرے اس پہ گماں کیسے ہیں
سعید سعدی
——————-
طَیش کے پیڑ پہ نفرت کے ثمر پائے ہیں
پیار نے کتنے مسائل تھے جو سُلجھائے ہیں
ہم نے حالات کا شکوہ نہ کِیا ہجرت سے
ہم مَسافَت کی تھکن ساتھ اُٹھا لائے ہیں
شہر کے شور سے اُکتائے ہوئے ہیں سب لوگ
“ہم ہی دیوانے ہیں صحرا سے چلے آئے ہیں”
اسد اقبال























