*ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ کے زیر انتظام، آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے 17 تا 20 نومبر سندھ بھر کے تعلیمی اداروں میں آل سندھ تھیم بیسڈ چلڈرن ویک منایا گیا*

*پریس ریلیز برائے ایجوکیشن ڈیسک*
*ورلڈ چلڈرنز ڈے 20 نومبر 2025*
*ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ کے زیر انتظام، آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے اشتراک سے 17 تا 20 نومبر سندھ بھر کے تعلیمی اداروں میں آل سندھ تھیم بیسڈ چلڈرن ویک منایا گیا*
*مرکزی تقریب کراچی میں پورے جوش و جذبے سے منعقد کی گئی*
*ورلڈ چلڈرنز ڈے کے موقع پر ہونے والی مرکزی تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی جبکہ اعزازی مہمانوں میں چئیرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی فقیر محمد لاکھو ،ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ پروفیسر افضال انصاری ایڈیشنل ڈائریکٹر رفیعہ جاوید، مانیٹرنگ آفیسر اخلاق احمد،ایڈیشنل ڈائریکٹر کالجز پروفیسر گلاب رائے،ڈپٹی ڈائریکٹر پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز قربان علی بھٹو ،ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدرعلی اور مرکزی رہنما شامل تھے۔*
*تقریب میں اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی*
*تقریب میں پورے ہفتے پر مشتمل موضوعات کا احاطہ کیا گیا جس میں بچوں کے صحت و تحفظ کے حقوق، تعلیمی حقوق، معاشرتی حقوق، ماحولیاتی حقوق۔اور سماجی انصاف کے حقوق شامل تھے*
*مہمان خصوصی سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کے حقوق پر توجہ مرکوز کر کے آنے والے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے*
*چئیرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو نے کہا کہ ہر صاحب حیثیت کو ایک بچے کی تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لینی چاہیے۔*
*ایڈیشنل ڈائریکٹر پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ رفیعہ جاوید نے کہا کہ بچوں کے عالمی دن کا مقصد یہ ہے کہ ہر بچے کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے۔جسمانی سزا، ہراسمنٹ ،اور منشیات جیسے سنگین معاملات کو دیکھنے کے لیے اداروں، گھر اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔*
*ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدرعلی نے کہا کہ آج کے دن بچوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ بڑوں کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔*
*ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل دوست محمد دانش، سینئر وائس چیئرمین مرتضی شاہ، وائس چیئرمین پروفیسر توصیف شاہ،مرکزی رہنما اعجاز کاشف، محمد ساجد، اشفاق حسین، شہاب اقبال، نعمان رضا، امتیاز ڈوگر طاہرہ منصور ،منور علی عادل بلوچ، خان محمد، امتیاز صدیقی، زبیر بلوچ اور دیگر ایگزیکٹو ممبران بھی موجود تھے*