عدالت نے ثانیہ زہرہ کے شوہر کو بیوی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنادی


ملتان میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گزشتہ سال قتل ہونے والی 20 سالہ حاملہ ثانیہ زہرہ کے شوہر کو سزائے موت سنادی۔

9 جولائی 2024 کو 2 بچوں کی ماں ثانیہ زہرہ اپنے کمرے میں چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی مردہ پائی گئی تھیں۔

ثانیہ زہرہ کے والد سید اسد عباس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی کی اچانک موت خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے جب کہ ان کی بیٹی کے سسرالی قتل کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مرحومہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ نیو ملتان میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 148 (تشدد)، 149 (غیرقانونی اجتماع) اور 302 (جان بوجھ کر قتل) شامل تھیں۔

18 نومبر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان محسن علی خان نے قرار دیا کہ سید محمد علی رضا مرحومہ سانیا زہرا کے قتل کے جرم میں باقاعدہ طور پر قصوروار ثابت ہوا ہے اور مجرم کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (بی) کے تحت بطور تعزیر سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

عدالتی حکم میں مزید لکھا گیا ’سید محمد علی رضا مجرم کو پھانسی دے کر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو جائے‘۔

پی پی سی کی دفعہ 302 (بی) کے مطابق جو کوئی قتلِ عمد کرے گا، اسے بطور تعزیر سزائے موت یا عمر قید دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے مجرم کو ہدایت کی کہ وہ ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 544-اے کے تحت مقتولہ کے خاندان کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے، ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں مجرم 6 ماہ قید کاٹنے کا پابند ہوگا۔

دو الگ عدالتی فیصلوں میں مرکزی مجرم کے بھائی سید حیدر رضا اور اس کی والدہ سیدہ ازرا پروین کو بھی سانیا زہرا کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ وہ مقتولہ کے خاندان کو 5، 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں۔

ثانیہ زہرہ کیس
جولائی کے اوائل میں پنجاب کے شہر ملتان میں 20 سالہ ثانیہ زہرہ کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں 14 جولائی کو سیدہ ثانیہ زہرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی گردن پر موجود نشان پھانسی کے نشان سے مطابقت رکھتا ہے اور ان کی موت پھانسی کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان کے گلے کی ہڈی نہیں ٹوٹی اور جسم پر زخم یا تشدد کے کوئی نشان بھی نہیں ملے، معدے، جگر اور تلی کے نمونے مزید تجزیہ کے لیے پی ایف ایس اے کو بھیجے گئے ہیں، رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ خاتون اپنی موت کے وقت حاملہ نہیں تھی۔

جب فرانزک ماہر نے مقتولہ کی گردن میں بندھی رسی کھولنے کی کوشش کی تو وہ بہت آسانی سے کھل گئی۔ مزید بتایا گیا کہ جائے وقوع پر موجود ڈاکٹر نے کہا کہ مقتولہ کی موت اسی روز شام 6 بجے ہو چکی تھی۔

پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مرحومہ کے شوہر علی رضا، اس کے بھائی علی حیدر، والد جیون شاہ، والدہ ازرا بی بی، بہن کنول بی بی اور بھابھی سیدہ دعا کے خلاف پی پی سی کی دفعات 302، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کیا۔

20 جولائی کو ملتان پولیس نے مذہبی رہنما اسد شاہ کی بیٹی ثانیہ زہرہ کی مبینہ خودکشی کے کیس میں نامزد ملزم مقتولہ کے شوہر علی رضا کو گرفتار کرلیا تھا۔