فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہو گئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی فیصل راٹھور آزاد کشمیر کے 16ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آزادکشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری مکمل ہوگئی، ارکان اسمبلی نےہاتھ کھڑے کرکے رائے شماری میں حصہ لیا، پیپلزپارٹی کے نامزد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے حق میں 36 ووٹ آئے جب کہ مخالفت میں 2 ووٹ آئے، نئے وزیراعظم کے حلف کی تقریب کل منعقد کی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوئی جہاں پیپلز پارٹی نے فیصل راٹھور کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے 35 سے زائد ووٹوں کی حمایت کا دعویٰ کیا۔

معلوم ہوا ہے کہ آزاد کشمیر کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے جس میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت حاصل ہوئی، مسلم لیگ ن نے بھی انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا جب کہ وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمعہ 14 نومبر کو ارکان اسمبلی چوہدری قاسم مجید، سردار جاوید ایوب، ملک ظفر اقبال، علی شان سونی اور محمد رفیق نیئر نے جمع کروائی تھی۔

وزیراعظم ممتاز راٹھور کی حلف برداری کل ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ علالت کے باعث صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نئے وزیراعظم سے حلف نہیں لیں گے، ان کی جگہ اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نئے وزیر اعظم سے حلف لیں گے۔

قبل ازیں، پیپلز پارٹی کے رکن قاسم مجید نے ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

یہ تحریک جمعے کی دوپہر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی تھی، جس پر 25 اراکین نے دستخط کیے تھے، جن میں 23 ارکان کا تعلق پیپلز پارٹی اور 2 کا مسلم لیگ (ن) سے تھا۔

اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ساتھ ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ فاروق احمد بھی شریک ہیں۔

اجلاس کے آغاز کے کچھ دیر بعد وزیراعظم انوارالحق 4 ارکان کے ہمراہ ایوان میں پہنچے اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار راجا فیصل ممتاز راٹھور سے مصافحہ کیا۔

اتوار کو پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے 2 وزرا دیوان علی چغتائی اور تقدیس کوثر گیلانی صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی۔

اکتوبر میں بھی پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی جس سے اس کی تعداد 27 تک پہنچی تھی۔

چونکہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 27 ارکان درکار ہوتے ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی واضح برتری رکھتی ہے۔

آئینِ آزاد کشمیر کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ڈالا جانے والا ووٹ اسی رکن کے حق میں شمار ہوتا ہے جو اسی قرارداد میں بطور متبادل وزیراعظم نامزد کیا گیا ہو۔

اس طرح تحریک کی منظوری کی صورت میں راجا فیصل ممتاز راٹھور بلا مقابلہ نئے وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے، اور موجودہ اسمبلی کی مدت میں یہ وزیراعظم کی چوتھی تبدیلی ہو گی۔

2021 میں قائم ہونے والی اس اسمبلی نے 4 برس میں 3 وزرائے اعظم تبدیل کیے ہیں، ابتدا میں پی ٹی آئی نے عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم منتخب کرایا تھا، جو 35 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، تاہم 9 ماہ بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد سردار تنویر الیاس وزیراعظم بنے تھے۔

اپریل 2023 میں توہینِ عدالت کے الزام میں تنویر الیاس کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا، جس کے بعد چوہدری انوارالحق نے منصب سنبھالا تھا، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں راجا فیصل ممتاز راٹھور باقی 6 ماہ کے لیے چوتھے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔