
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم ٹریڈ یونینیسٹ کا مزدوروں کی سیاست کا انداز یہی رہا تو ہم نہیں چل سکتے اور آنے والے 10 سال کے بعد اور زیادہ نیچے چلیں جائیں گے۔ہمیں بدلتے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ جو خرابیاں ہماری ٹریڈ کے اندر ہیں ہمیں اس کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورلائزیشن آف سوشل سیکورٹی پر کام شروع کیا گیا ہے اور بینظیر مزدور کارڈ کا اجراء اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہم صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہر اس مزدور کو چاہیے وہ پرائیویٹ سیکٹرز میں ہو، چاہے وہ رکشہ اور ٹیکسی چلاتا ہو، کوئی پرائیویٹ ڈرائیور ہو یا کوئی ٹھیلہ لگاتا ہو، ہم سب کو سوشل سیکورٹی کے نیٹ میں شامل کرکے ان کے بچوں کو مفت اور اعلٰی تعلیم اور اس کی پوری فیملی بمعہ اس کے والدین کے مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز کراچی پریس کلب میں آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن(ایپنک) کے سالانہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے عہدیداران کی تقریب حلف برداری میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے مظہر عباس، طاہر حسن خان، حبیب الدین جنیدی، لیاقت شاہی، امتیاز خان فاران، خورشید عباسی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں ایپنک کے نومنتخب چیئرمین اور عہدیداران کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں ہمیشہ جہاں مجھے موقع ملتا ہے یا مزدور تنظیم ہوتی ہے میں اس بات کا اظہار کرتا ہوں اور اس لیے کہ بار بار کرتا ہوں تاکہ لوگوں کا اندازہ ہو میں آج بھی خود کو ٹریڈ یونین ورکر سمجھتا ہوں اور اس پر مجھے کبھی بھی شرمندگی نہیں ہوئی۔ میرا ملکی یا صوبائی سیاست میں آنا بعد کا عمل ہے۔ میری سیاسی زندگی کا اغاز ٹریڈ یونین سے ہوا اور وہ میرے والد صاحب کی شہادت کے بعد سے ہوا اور میں پارٹی میں تو ظاہر ہے والد صاحب کی وجہ سے تھا۔ لیکن جب ہم لڑ رہے میاں منشا کے ساتھ اور مجھے فخر ہے کہ اس وقت بھی میں نے بڑی جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں اپنے دفتر میں بیٹھا کرتا تھا وہاں میں نے اپنے جو دوست ہیں جو میرے ساتھ اکٹھے بیٹھا کرتے تھے ان سے میں نے اجازت لی ان سے میں نے کہا کہ دیکھیں میں روزانہ یا صبح آتا ہوں اور شام تک آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں اگر آپ مجھے اجازت دیں تو یہ وقت میں تھوڑا پارٹی کی طرف ذرا لگاؤں تو مجھے یقین ہے کہ میں پارٹی میں کوئی اپنا مقام کھڑا کرلو گا جس سے شاید اس کا ہمیں بھی فائدہ ہو۔ اس پر انہوں نے مجھے اجازت دی اس کے بعد میں نے جو پارٹی سیاست کی طرف زیادہ تھوڑا سا میں ڈائیورٹ ہوا اور تھوڑا زیادہ وقت دینا شروع کیا اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ میں پہلے یوسی کا چئیرمین بن گیا آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے مجھے اس مقام پہ پہنچایا کہ آج میں ایک صوبائی وزیر کی حیثیت سے آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور کراچی کی پارٹی کا بھی صدر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان سب باتوں کو اس لئے بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اگر میں یہاں پہنچا اس مقام پر تو میرے جدوجہد کے ساتھیوں کی اجازت لے کر یہاں پہنچا ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں تیسری مرتبہ محکمہ محنت کا وزیر بنا ہوں اور میری پارٹی اور پارٹی چیئرمین کی مزدوروں کے حوالے سے پالیسی واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جب بھی اس محکمہ کہ وزارت کو سنبھالتا ہوں پہلے ہی روز اپنے تمام افسران کو بٹھا کر یہ بات ان پر واضح کردیتا ہوں کہ وہ یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لیں کہ میری وزارت میں ایک صاف اور واضح پالیسی ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم پرو لیبر ہیں اور ہم پرو ورکر ہیں اور جہاں پر بھی کوئی اشیو آئے گا آپ کا جھکائو مزدور کی طرف ہوگا، وہ یونین کی طرف ہوگا اور وہ ورکر کی طرف ہوگا اور یہ بات سب افسران اپنے دماغ میں بٹھا لیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس بار جب میں وزیر محنت بنا ہوں تو میرے کام کرنے کی رفتار کم ہے اور اس کو تسلیم کرتا ہوں کیونکہ میں تیز کام کرنے والا ہوں اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آخری بار جب یہ محکمہ تھا اس وقت ہم نے محکمہ محنت میں کچھ ریفارمز کی تھی اور کچھ پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہمارے دوستوں نے میڈیا سے وابستہ ملازمین اور ورکرز کے حوالے سے بات کی ہے کہ ان کو ہم کسی طرح اپنے سوشل سیکورٹی کے نیٹ میں شامل کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ سوشل سیکورٹی یا ورکرز ویلفیئر بورڈ کے قانون میں یہ انڈسٹریل ورکرز تک محدود ہے اور جو سہولیات ہم ان ورکرز کو دیتے ہیں وہ انڈسٹریل ورکرز ہوتے ہیں اور ان کا کنٹریبیوشن ان کے مالکان ادا کرتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ہم نے ایک ٹرمولوجی شروع کی جو 2008 میں شروع ہوئی تھی جب پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت میں تھی اور یہ محکمہ وفاق کے زیر انتطام تھے کہ ہم یونیورلائزیشن آف سوشل سیکورٹی شروع کریں گے کہ جو مزدور جو چاہے انڈسٹریل ورکرز ہوں، سیلف ایمپلائز ہو، انفارمل سیکٹر ورکر ہو یا کسی بھی طرح کی وہ مزدوری کرتا ہے تو اس کو ہم سوشل سیکورٹی کے نیٹ میں شامل کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت یہ نہیں ہوسکا اس کے بعد یہ محکمہ صوبوں کو منتقل ہوگئے لیکن بدقسمتی سے آج تک بھی محکمہ محنت کے دو اشیوز ای او بی آئی اور ورکر ویلفیئر فنڈ کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور یہ اس وقت بھی وفاق کے پاس ہے اور اس پر یہ معاملہ وفاق سے چل رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے جب گذشتہ دور میں یہ وزارت میرے پاس تھی تو سوشل سیکورٹی ایکٹ میں ترمیم کی تھی اور اس میں ہم نے اجازت دی کہ جو سیلف ایمپلائز لوگ ہیں یا کسی اور طرح کے ملازم ہیں وہ سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ کریں گے اور ظاہر ہے اس کے لئے ہمیں ایک مکمل مکینزم بنانا ہے اور اس پر ہم نے کام شروع کیا اور جو ہم بینظیر مزدور کارڈ لے کر آئے تھے یہ صرف انڈسٹریل ورکرز تک محدود نہیں رہنا تھا شروع میں ہمارے پاس جو 6 لاکھ سے زائد انڈسٹریل رجسٹرڈ ورکرز ہیں ان کا یہ کارڈ بننا ہے اور اس کے بعد اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہونا ہے، جس میں صحافیوں، ہر وہ مزدور جو چاہے پرائیویٹ ملازمت کرتا ہو، رکشہ یا ٹیکسی چلاتا ہو یا کسی قسم کا ٹھیلہ ہی کیوں نہ لگاتا ہو ان سب کو اس نیٹ ورک میں شامل کرنا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس میں ایک اشیو یہ آرہا تھا کہ وہ اپنا کنٹریبیوشن کس طرح ادا کرے گا کیونکہ انڈسٹریل ورکرز کا تو کنٹریبیوشن اس کا مالک ادا کردیتا ہے یہ کس طرح ادا کرے گا۔ اس پر چیئرمین بلاول بھٹو اور ہمارے کچھ ٹریڈ یونین کے دوستوں کی بھی یہی رائے تھی کہ ان سے کنٹریبیوشن نہ لیا جائے اور یہ حکومت ادا کردے۔ میری اس وقت بھی ان سے یہی استدعا تھی کہ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ حکومت ادا کردے گی لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ہوسکے گا اور یہ سارا سوشل سیکورٹی کا نظام زمین بوس ہوجائے گا کیونکہ اس وقت اگر سوشل سیکورٹی کے انڈسٹریل ورکرز کی تعداد 6 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے اور اگر ہم یونیورلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کو متعارف کرائیں گے تو یہ تعداد 50 لاکھ یا شاید ایک کروڑ تک پہنچ جائے اور یہ کسی بھی حکومت کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ زیادہ عرصہ تک اس کو چلا سکے دوسرا اگر ہم اس کو مکمل فری کردیتے ہیں تو وہ مزدور اس کی اوونرشپ نہیں لے گا اور یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب حکومت نے مفت رکشہ اور پلاٹس فراہم کئے اس وقت بھی میں کہتا تھا کہ مفت نہ دیں اور آج اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جن کو رکشہ دیا گیا کہ وہ اس کو چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پال کے گا اس نے وہ دو لاکھ کا رکشہ 60 سے 70 ہزار میں فروخت کردیا اور جو پلاٹس جس سوسائٹی میں دئیے گئے وہ آج بھی آباد نہیں ہوئی اور میری اطلاع کے مطابق ان میں زیادہ تر نے وہ پلاٹس اونے پونے داموں دوسروں کو فروخت کردئیے ہیں اور وہ سارے منصوبے ہمارے فلاپ ہوگئے اور وہ اس لئے کہ ہم نے ان پر کوئی چارجز نہیں رکھے اور انہیں اپنی اونرشپ کا احساس نہیں دلایا۔ اس لئے سوشل سیکورٹی میں اس کی کچھ نہ کچھ کنٹریبیوشن ہونی چاہیے تاکہ اس کو اونرشپ کا احساس رہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ہم سیلف ایملائز یا اس طرح کے مزدوروں کو کہتے ہیں کہ وہ ماہانہ دو ہزار روپے کنٹریبیوشن جمع کروائے اور اس کے بدلے میں ہم اس کو کیا دے رہے ہیں ایک تو ان کے بچوں کی تعلیم مفت چاہیے وہ دو بچے ہو، تین ہو یا پانچ سب کو تعلیم مفت دوسرا اس کی پوری فیملی بمعہ اس کے والد اور والدہ کے تمام طبی سہولیات کی فراہمی مفت دیں گے اس لئے میری یہ رائے تھی کہ لوگ یہ دو ہزار خوشی سے دیں گے کیونکہ اس کے بدلے میں جو سہولتیں ہم اس کو دیں گے وہ بہت زیادہ ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس حوالے سے ہماری بہت ہی بحث و مباحثہ ہوئے اس میں سنئیر ورکرز رہنمائوں حبیب الدین جنیدی، مرحوم کرامت علی سمیت دیگر سے اور ان کا موقف تھا کہ ہم سوشل سیکورٹی میں اسٹینڈرڈ ممالک کی طرح کی سہولیات فراہم کریں لیکن اس پر بھی میرا موقف ان سے مختلف ہے کیونکہ اسٹینڈرڈ ممالک میں صحت اور تعلیم کا تو کوئی اشیو ہی نہیں ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ اشیو سب سے بڑا ہے اس لئے میرا موقف ہے کہ ہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ان مزدوروں کو اس طرح کی سہولیات ان کی دہلیز تک بآسانی فراہم کردیں تو پھر وہ دیگر سے نبردآزما ہوسکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نے اس حد تک بھی کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سے ہائوسنگ کو نکال دیں کیونکہ اس میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے اور یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ 50 سالوں میں ہم صرف 10 ہزار فلیٹس ہی بنا سکیں ہیں اور اس پر اربوں روپے خرچ ہوگئے ہیں۔ زمین کی خریداری پر کرپشن، اس کی تعمیرات پر کرپشن، اس کی الاٹمنٹ میں کرپشن اس کی مرمت پر کرپشن ہوتی ہیں۔ یہ سارا پیسہ اگر ہم تعلیم اور صحت پر لگاتے تو ہم لاکھوں مزدوروں کا معیار زندگی بنا چکیں ہوتے۔ سعید غنی نے کہا کہ حکومت نے میری اس تجویز پر کہا کہ یہ تو غلط ہوجائے گا کہ آپ ہائوسنگ نہ کریں تو میں نے حکومت کو اس کی بھی تجویز دی ہے کہ وہ ہمیں مفت زمین فراہم کرے۔ ہم ہر ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو ایک ایک پلاٹ فراہم کردیں گے اور اس پر اس کو گھر کی تعمیر کے لئے کچھ رقم دیں گے باقی وہ خود گھر بنائے، خود رہے اور خود ہی اس کی مرمت بھی کرواتا رہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم اس بات کو بھی سب مانتے ہیں کہ پچھلے 15 سے 25 برسوں کے دوران تنزلی ہوئی ہے اور پورے معاشرے تمام شعبوں اور سیکٹرز میں تنزلی ہوئی ہے۔ چاہے وہ سیاسی جماعتیں ہوں، چاہے وہ عدالتیں ہوں، چاہے وہ میڈیا ہو الغرض ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہوا ہے البتہ ایک فرق جو میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ جو سیٹھ ہیں یا مالکان ہیں انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں اور طریقہ واردات کو بھی تبدیل کیا ہے۔ ہم ٹریڈ یونینسٹ آج بھی 50 سے 70 سال پرانے طرز پر لیبر سیاست کررہے ہیں اور معذرت کے ساتھ اگر ہمارا انداز یہی رہا تو ہم نہیں چل سکتے اور آنے والے 10 سال کے بعد اور زیادہ نیچے چلیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بدلتے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ ٹریڈ یونین کی قانون میں اجازت ہے لیکن معاشرے میں وہ برائی کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ عام لوگ اس کو برا اس لئے سمجھتے ہیں کہ یہ ٹریڈ یونین والا ہے کام نہیں کرتا ہوگا صرف سیاست کرتا ہوگا ادارے کو تباہ کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اگر ترقی کرے تو چیئرمین کی وجہ سے وہ ترقی کر رہا ہے اور ڈوبتا ہے تو الزام لگا دیا جاتا ہے کہ ٹریڈ یونین نے تباہ کردیا ہے۔ اگر چیئرمین کی اچھی پالیسی کی وجہ سے کوئی ادارہ ترقی کرتا ہے تو پھر اس کے ڈوبنے کا بھی وہی ذمہ دار ہوگا۔ اگر کوئی ادارہ ترقی کرتا ہے تو پھر اس کا کریڈٹ مزدور یونین کو بھی جاتا ہے اور پھر اس کے ڈوبنے کا الزام بھی ٹریڈ یونین کے سر تھونپا جائے تو سمجھ میں آتا ہے۔ اگر آپ نے کریڈٹ اچھائی کا کسی چیئرمین کو مینجمنٹ کو دینا ہے تو پھر ڈوبنے کا جو ذمہ دار بھی وہی ہے اگر یونین کی ذمہ داری ہے کہ وہ خراب کرتی ہے اس کو تو جب اچھا ہوتا ہے تو اچھائی کی ذمہ دار بھی یونین کو ملنا چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ عام سی بات ہے جو ادارہ ڈوبنے لگتا ہے کہتا ہے لوگ بھرتی ہو گئے کام نہیں کرتے ہیں لوٹ کے کھا گئے ہیں یہ اس وقت مینجمنٹ کہاں ہے جب سب کھا گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہیں پر ٹریڈ یونین کرپٹ ہوئی ہے تو وہ کرپٹ مینجمنٹ کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے بغیر وہ نہیں ہو سکتی۔ یہ نہیں ہو سکتا کرپٹ مینجمنٹ ہوگی تو یونین کرپٹ ہوگی ورنہ نہیں ہوسکتی۔ تو یہ پرسیپشن جو میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ برا بنا دیا جاتا ہے ہمیں بیٹھ کے اس بات پہ غور کرنا ہوگا کہ ہم جو حالات بدل گئے ہیں اس میں کیسے اپنے آپ کو سمو سکتے ہیں کس طرح سے ہم تھوڑی سی چیزیں ٹھیک کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ باقی جو آپ نے کم سے کم اجرت کے حوالے سے کہا کہ انسپکٹر کو بھیج دیں تو یہ سلیوشن نہیں ہے کہ میں انسپیکٹر کو کہہ دوں اپ کے ہاں وزٹ کریں ہو سکتا ہے کہ پیسے لے کے چلا جائے یہ ممکن ہے زیادہ امکانات اسی بات کے ہیں۔ یہ ٹھیک اسی وقت ہوگا جب آپ پراپر ان چیزوں کو فالو کریں گے اور یہ جو کم سے کم اجرت کی آپ بات کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس ڈیپارٹمنٹ میں ریسورسز ہی نہیں ہمارے پاس لوگ ہی نہیں ہیں اتنے کہ ہر جگہ جا کر چیک کرا سکیں۔ میں نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر بھی یہ کہا کہ میں مانتا ہوں کہ اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ لیکن میں یہ آپ کو بتا دوں کہ اگر کہیں سے شکایت آئی ہے کہ فلاں فیکٹری والا کم سے کم اجرت نہیں دے رہا تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں اس بات کو کہ ہم نے وہاں پر عملدرآمد کرایا ہے اگر پتہ چلا کہ کہیں تو نہیں دے رہا۔ آپ ہمیں مطلع کرتے جائیں مجھے پتہ ہی نہیں آپ بتاتے جائیں گے فلاں اس پر عملدرآمد نہیں کررہا اور اگر اس پر میں ایکشن نہ لوں تو پھر میں ذمہ داری اور میری نااہلی ہے۔ کہ اگر مجھے پتہ نہیں چلا کہ جنگ، جیو یا اور کوئی اور چینل کو یا ادارہ نہیں دے رہا اور وہاں پر یہ زیادتی ہو رہی ہے اور عملدرآمد نہیں ہو رہا میرے علم میں آنے کے باوجود بھی تو پھر غلط ہے اور دوسری بات ہے غلط چیز لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ کم سے کم اجرت اگر 40 ہزار ہے تو وہ ان اسکیل ورکر کی ہے۔ اسکیل ورکر کی 40 نہیں ہے اس سے اوپر ہے مختلف کیٹگریز ہیں اور ہر کیٹگری کے حساب سے اس کی الگ ہے تو آپ 40 ہزار نہ مانگیں اگر آپ کا ورکر اسکیل ہے تو اس کی کم سے کم اجرت زیادہ ہے وہ مانگیں۔ تو اس میں میری طرف سے ہر طرح کا تعاون صرف صحافی تنظیموں کو نہیں اس صوبے کی تمام جو ٹریڈ یونینز کے لیے ہے، میرے دروازے سب کے لئے کھلیں ہوئے ہیں۔ لیکن میں پھر کہتا ہوں چونکہ میرے لئے یہ کہنا آسان ہوتا ہے باقی وزیر کے لئے نہیں کہہ سکتا کہ جو خرابیاں ہماری ٹریڈ کے اندر ہیں ہمیں اس کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جو کمپرومائز ہوتے ہیں لوگ کہیں نہ کہیں جا کر ان میں ان کی اپنی قیمتی خرابیاں خامیای ہوتی جس کی وجہ سے کمپرومائز ہوتی ہے ہم اگر اپنے آپ کو ٹھیک رکھیں گے یا 100 فیصد یقین ہے کہ ہم بہت ساری چیزیں کر سکتے ہیں میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم 70 کی دھائی کی طرف پہنچیں گے لیکن ہم اگر ڈائریکشن ٹھیک کرلیں ہیں تو شاید گریجولی میری زندگی میں ہم آپ کی زندگی میں نہ سہی لیکن اگر ڈائریکشن ہم سیدھی کریں گے تو شاید آگے چل کے انے والی نسل کے لیے بہت ساری چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔ آپ نے امپلیمنٹیشن کمیشن کی بات کی میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں، لیکن ڈسکس کر لوں گا اگر اس کی ممکن ہے کہ کسی قانون کے تحت اگر ہم یہ کمیشن صوبے میں بنا سکتے ہیں تو سندھ حکومت اس معاملے میں تو بہت آگے ہے یہ چیزیں کرتے ہیں بہت سارے ایسے ادارے عام طور پر وفاقی حکومت بناتی ہے ہم نے اپنے صوبے میں قائم کیے ہیں اور اچھے طریقے سے چلا بھی رہے ہیں تو انشاءاللہ تعالٰی یہ ضرور کریں گے۔
Load/Hide Comments























