کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کا فی دن قرضہ کیا ہے…….22 ارب روپے

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کا فی دن قرضہ کیا ہے…….22 ارب روپے

2025 کے دوران سرکاری قرضے میں 9.3 ٹریلین روپے اضافہ ہوا، وزیر خزانہ
15 نومبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
اسلام آباد ( رانا غلام قاد/نیوز ر پو رٹر) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ جون2025کے اختتام پر پا کستان کا سر کاری قرضہ 80اعشاریہ5ٹر یلین روپے تھا، تاہم فسکل رسپانسلبٹی اینڈ ڈیٹ لمیتیشن ایکٹ (FRDLA) کی تعریف کے تحت یہ قرضہ 73اعشاریہ دو ٹریلین روپے تھا۔ 2025کے دوارن کل سر کاری قرضے میں9.3 ٹر یلین روپے کا اضافہ ہواجو یومیہ 25اعشاریہ 4ارب روپے بنتا ہےبیرونی اور اندرونی قرضوں کا بوجھ کو کم کرنے کیلئے مالیاتی نظم وضبط کو مضبوط بنا نے کے پالیسی اقدامات کر ر ہے ہیں۔تاہم فسکل رسپانسلبٹی اینڈ ڈیٹ لمیتیشن ایکٹ کی تعریف کے تحت2025میں8اعشاریہ دو ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا جو یومیہ 22اعشاریہ تین ارب روپے بنتا ہے،ا س اضافے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے کئی اقدامات کئے،یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں نے تحر یری جواب میں بتائی جبکہ وزیر مملکت خزانہ و ریونیو بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ ہمارے سر کا تاج ہے، وہ اپنی بساط سے بڑھ کر ٹیکس ادا کرتے ہیں، ٹیکس نیٹ کی وسعت کیلئے حکومت کوشاں ہے
======================

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین نے پہلا حکم جاری کردیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین ٰخان نے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ کو رجسٹرار آئینی عدالت لگا دیا۔

اس کے علاوہ مظہر بھٹی کو سیکرٹری ٹو چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت تعینات کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی منظوری کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے رجسٹرار کا نوٹیفکیشن جاری بھی کردیا گیا جس کے مطابق محمد حفیظ اللہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے رجسٹرار ہوں گے۔

جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت مقرر

وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین نے عہدے کا حلف اٹھالیا

===================

صدر مملکت نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے,جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا. جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تجویز کردہ شقوں کا ہمارے آئینی نظام پر کیا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرآنے والی نسلیں انہیں کسی مختلف نظر سے دیکھیں گی، تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے سپریم کورٹ جج کے عہدے سے رسمی استعفیٰ پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا۔