فیصل ممتاز راٹھور۔۔۔ کون ہیں؟

مظفر آباد:پیپلز پارٹی نے فیصل ممتاز راٹھور کو آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے نامزد کردیا ہے۔
راولپنڈی میں 11 اپریل 1978 کو پیدا ہونے والے فیصل ممتاز راٹھور اس وقت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے سیاسی منظرنامے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مضبوط سیاسی پس منظر، متعدد بار کی کامیاب پارلیمانی نمائندگی اور عملی حکمرانی کے وسیع تجربے نے انہیں آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر نامزدگی کا موقع دیا ہے۔
سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے فیصل ممتاز راٹھور کے والد نے وزیراعظم، سپیکر، اپوزیشن لیڈر اور سینئر وزیر کے عہدوں پر خدمات انجام دیں، جو راٹھور خاندان کی سیاسی میراث کا ثبوت ہے۔ یہ گھرانہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے باعث فیصل ممتاز راٹھور کو کشمیر کاز اور پاکستان اے جے کے تعلقات کی تاریخی اور ادارہ جاتی سمجھ حاصل ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور متعدد مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، جو عوامی قبولیت اور انتخابی مضبوطی کا اظہار ہے۔ وہ بطور وزیرِ بجلی اور وزیر بلدیات و دیہی ترقی اہم حکومتی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، جنہوں نے انہیں گورننس، ترقیاتی منصوبہ بندی اور سروس ڈیلیوری کا عملی تجربہ فراہم کیا ہے۔
اپوزیشن بنچوں پر مکمل مدت گزارنے سے وہ حکومتی پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ احتساب اور نگرانی کے نظام سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ 2017 سے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے وہ تنظیمی امور، سیاسی حکمت عملی اور علاقائی سطح پر پارٹی کی مضبوطی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
پارٹی قیادت، خصوصاً بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کو ان پر بہت زیادہ اعتماد ہے۔ ان کی شائستہ، مفاہمتی اور غیر متنازع سیاسی طرزِ گفتگو نے انہیں مختلف سیاسی، عوامی اور ادارہ جاتی حلقوں میں یکساں مقبولیت دلائی ہے۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا، جو ان کی مصالحتی اور مذاکراتی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نجی ٹی وی پر ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرچکے ہیں اس سے ان کی میڈیا ہینڈلنگ اور عوامی پیغام رسانی کی صلاحیتیں بھی نکھر کر سامنے آئی ہیں۔
فیصل راٹھور ایک پختہ سیاست دان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان میں بہترین قائدانہ صلاحیتیں ہیں جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت پارٹی اور لوگوں میں زیادہ ہے۔ ان صلاحیتوں کی وجہ سے وہ آزاد کشمیر کے اگلے وزیراعظم کے لیے نہایت موزوں امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
=======================

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چودھری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی طرف سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے، تحریک عدم اعتماد پر 17 اراکین سے زائد کے دستخط موجود ہیں، تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والوں میں جاوید ایوب، قاسم مجید، رفیق نیئر، ملک ظفر اور علی شان سونی شامل ہیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے فیصل راٹھور کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے لئے نامزد کر دیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمیشہ کہتا تھا پیپلزپارٹی آپسی مشاورت کے ساتھ تمام فیصلے کرتی ہے، تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی حکومت بنائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر پیپلزپارٹی کے دل کے قریب ہے، پوری کوشش کریں گے کشمیریوں کیلئے آسانیاں لیکر آئیں، ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، ہمارے پاس تعداد پوری ہے تو کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔

فیصل ممتاز راٹھور کی زندگی پر ایک نظر
آزاد کشمیر کے نامزد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا شمار خطے کی مضبوط سیاسی روایات رکھنے والے گھرانوں میں ہوتا ہے، 11 اپریل 1978 کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والے فیصل ممتاز راٹھور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر ممتاز حسین راٹھور کے فرزند ہیں۔

ان کے والد 1975 میں سینئر وزیر، 1990 میں وزیراعظم، 1991 میں اپوزیشن لیڈر اور 1996 میں سپیکر قانون ساز اسمبلی رہے، فیصل راٹھور کی والدہ بیگم فرحت راٹھور بھی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہی ہیں، یہ خاندان آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔

سیاسی سفر
فیصل ممتاز راٹھور نے 2006 میں حلقہ ایل اے 17 حویلی کہوٹہ سے پہلی بار الیکشن لڑا اور 2011 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، وہ چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیرِ اکلاس اور وزیرِ برقیات بھی رہے۔

سال 2021 میں وہ دوسری بار ایوان کا حصہ بنے اور ایک مؤثر اپوزیشن لیڈر کے طور پر شناخت بنائی، 2023 میں چوہدری انوارالحق کی اتحادی حکومت میں انہیں وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کا قلمدان دیا گیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق فیصل ممتاز راٹھور، بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کے انتہائی قریبی اور بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

ایوان کی موجودہ پارلیمانی صورتحال
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کل نشستیں 53 ہیں، پی ٹی آئی کے رکن محمد اقبال برطانیہ میں ہونے کے باعث ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکیں گے، اس طرح ایوان کی مؤثر تعداد 52 رہ جائے گی۔

موجودہ پارلیمانی عددی صورتحال

پیپلز پارٹی: 17
مسلم لیگ ن: 9
فارورڈ بلاک: 10
پاکستان تحریک انصاف: 5
جموں کشمیر پیپلز پارٹی: ایک
آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس: ایک

چوہدری انوارالحق 20 اپریل 2023 کو وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور 2 سال چھ ماہ سے زائد عرصہ منصب پر فائز رہے، انہیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے منحرف ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک، پی ٹی آئی اور مسلم کانفرنس کی حمایت حاصل تھی۔

ان کے دور میں مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے جن میں بیس کے قریب افراد اور پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔