
پشاور ہائیکورٹ کا سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دیدیا۔
ریلیوں، جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری مشینری کے استعمال کے خلاف درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ میں ہوئی۔
درخواست گزارکے مطابق صوبائی حکومت جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال کرتی ہے، فریقین سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین اور مشینری کا استعمال کرتے ہیں، احتجاج میں استعمال ہونے والی صوبائی حکومت کی مشینری اب بھی وفاق کے قبضے میں ہے۔
عدالت نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دیدیا۔
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ کیا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا ہے درخواست گزار کے مطابق سرکاری وسائل کا استعمال آرٹیکل 4، 5 اور 25 کے خلاف ہے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال قومی خزانےکا ضیاع ہے۔
عدالت کا کہنا تھا ریاست سرکاری اور سیاسی تقریبات میں تفریق کرے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
===========================
27ویں آئینی ترمیم سے انصاف کے نظام میں بہتری کے راستے کاتعین ہوا، وزیردفاع خواجہ آصف
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پاس ہو گئی ہے، جس سے انصاف کے نظام میں بہتری کے راستے واضح ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج وہ کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جس سے تلخی بڑھے، تاہم ماضی کے اہم حقائق اور سیاسی پس منظر بھی عوام کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف کو سازش کے تحت وزیراعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا اور کچھ مخصوص افراد آئین کی بے توقیری کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایوان میں بولنے والے اپنے ماضی کو بھول گئے ہیں، جبکہ ماضی میں وہ دہشت گردوں کے سہولت کار بھی بنے۔
وزیردفاع نے اسلام آباد میں وانا کیڈٹ کالج اور کچہری پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان پکڑے جا چکے ہیں اور سب کچھ سامنے آجائے گا، اب کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ہونے والی ڈکیتیوں اور آئین کے ساتھ کھلواڑ پر بھی روشنی ڈالی۔
خواجہ آصف نے قومی دفاع اور مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج سرحدوں، پانیوں اور فضاؤں کی حفاظت میں دن رات مصروف ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت ان کی غیرت کیوں نہیں جاگی، اس پر بھی عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔























