جسٹس منصور اور جسٹس اطہر مستعفی اگلا کون ہے؟ | ایک اور ترمیم جلد ہی | ندیم ملک

جسٹس منصور اور جسٹس اطہر مستعفی اگلا کون ہے؟ | ایک اور ترمیم جلد ہی | ندیم ملک

Justice Mansoor, Justice Athar Resign | Who’s Next? | Another Ammendment Soon | Nadeem Malik Live
جسٹس منصور اور جسٹس اطہر مستعفی اگلا کون ہے؟ | ایک اور ترمیم جلد ہی | ندیم ملک
==================

پی ایس ایل فرنچائزز کیساتھ نئے معاہدے، نئی ٹیموں کی فروخت کا مرحلہ بھی جلد شروع
November 14, 2025

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ٹیموں کی ویلیوایشن کا عمل مکمل کر لیا ہے اور موجودہ فرنچائزز کو 10 سالہ نئے معاہدوں کی تجدید کی پیشکش بھی بھجوا دی ہے۔

ترجمان پی سی بی کے مطابق ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اپنے فیصلے سے آگاہ کریں۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ایک عالمی چارٹرڈ فرم نے لیگ میں شامل ہونے والی دو نئی فرنچائزز کی ممکنہ مالیت بھی طے کر دی ہے، جس کے بعد پی ایس ایل میں توسیع کے لیے ٹینڈر کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

ممکنہ نئی ٹیموں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد، فیصل آباد، گلگت اور راولپنڈی شامل ہیں، جن میں سے 2 شہروں کا انتخاب کر کے انہیں لیگ کا حصہ بنایا جائے گا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ فرنچائز مالکان کے ساتھ باہمی احترام اور شراکت داری کے اصولوں پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ لیگ کی توسیع کا مقصد پی ایس ایل کو مزید مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔

پی ٹی آئی کے کسی رکن نے آئینی ترمیم کیخلاف ووٹ نہیں کیا: سینیٹر پرویز رشید
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہوئی ہے، خود پی ٹی آئی کے کسی رکن نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں کیا۔

جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دو درجن کے قریب جج حضرات ہیں، ہائی کورٹس کے ججز حضرات کو شامل کیا جائے تو تعداد سیکڑوں کی بن جاتی ہے، ان میں سے صرف دو جج حضرات نے اعتراض کیا ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ایک اعتراض یہ ہے کہ آئین کو ختم کر دیا گیا، دوسرا اعتراض ہے سپریم کورٹ کے ٹکڑے کر دیے گئے، ان دونوں اعتراضات سے دیگر ججز اختلاف کرتے ہیں، کسی دوسرے جج نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔

جسٹس امین آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر، 27 ویں ترمیم پر تحفظات، جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللّٰہ مستعفی

ن لیگ کے سینیٹر نے کہا کہ انہوں نے اپنے کام کو جاری رکھنا مناسب سمجھا ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ آئین کو نقصان پہنچا نہ ہی سپریم کورٹ کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا۔ صرف دو لوگوں کی کہی بات پر نہیں کہہ سکتے کہ کوئی تحریک چل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں 64 اراکین نے کھڑے ہو کر ووٹ دیا، اختلاف میں کوئی کھڑا نہیں ہوا، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو یہی کہیں گے کہ ترمیم اتفاق رائے سے کردی گئی ہے، کل جو ترمیم ہوئی اس سے صرف 3 لوگوں نے اختلاف کیا جو جے یو آئی (ف) کے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا حق پارلیمنٹ کو ہے، یہ ہمارا آئینی حق ہے، خود سپریم کورٹ کے ججز بھی آئین کی پیداوار ہیں، چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کا وعدہ تمام جماعتوں نے کیا تھا، پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے تھے۔

پرویز رشید نے مزید کہا کہ کیا یہ دو جج حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف وہ مقدمے سنیں گے جس میں ہمارے سامنے سرکاری اہلکار، منتخب نمائندے ہوں اور ہم ان کی تذلیل کریں، تضحیک کریں، رسوا کریں، جیلوں میں بھیجیں، نااہل قرار دے دیں۔

ن لیگی سینیٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں قتل، زمین پر قبضے، شہری سے ناانصافی کا مقدمہ نہیں سنوں گا، آپ کے یہ ذمے کام ہے کہ اعلیٰ عدالت میں بیٹھ کر ہر شہری کو انصاف دینا ہے، آپ کے ذمے یہ کام نہیں ہے کہ ٹی وی کے ٹکر بنوانے ہیں، آج فلاں کو ڈانٹ دیا، فلاں کو رسوا کیا، آپ صرف یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔
==================

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کے متن میں کہا ہے کہ “ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے، آئینی ترمیم ایسی حکومت نے کی جس کی اپنی آئینی حیثیت زیر جائزہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا، سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے”۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور،کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم سےانصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے متن میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔

==================

سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے کے متن میں کہا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور،کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم سےانصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے دوسرے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہناہےکہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔
==================