قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کے تحفظ اور روک تھام بل منظور کرلیا

قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کے تحفظ اور روک تھام بل منظور کرلیا
November 13, 2025

اسلام آباد، قومی اسمبلی نے بل منظور کیا جس کا مقصد گھریلو تشدد کے شکار افراد کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔

یہ بل رکن قومی اسمبلی شرمیلہ فاروقی نے ایوان میں پیش کیا تھا، بل میں متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ، قانونی کارروائی کے عمل کو آسان بنانے اور آگاہی مہمات کے ذریعے تشدد کے انسداد کے اقدامات شامل ہیں۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس، افواج پاکستان سمیت عدلیہ سے متعلق ایکٹ میں ترامیم کی منظوری

قانون سازوں نے اس بل کی منظوری پر زور دیا کہ یہ معاشرتی انصاف اور خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ میں اہم قدم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے گھریلو تشدد کے شکار افراد کو فوری مدد اور قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور معاشرے میں شعور بڑھانے میں مدد ملے گی۔

=====================

ملیر میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے مبینہ خودکشی کرلی، مختلف علاقوں سے 3 افراد کی لاشیں ملیں
13 نومبر ، 2025
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملیر میں شوہر نے بیوی کو قتل کرکے مبینہ خود کشی کرلی ، مختلف علاقوں سے 3افراد کی لاشیں ملیں ،تفصیلات کے مطابق ملیر سٹی تھانے کی حدود برہانی ٹاؤن نزد کے ڈی اے چوک میں واقع گھر سے بدھ کی صبح میاں بیوی کی لاشیں ملیں ، پولیس اور ریسکیو ادارے کے رضاکار وں نے دونوں لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا جہاں ان کی شناخت 35 سالہ ذیشان ولد ہارون اور 30 سالہ ثناء زوجہ ذیشان کے نام سے کی گئی،ایس ایچ او عدیل احمد شاہ نے بتایا کہ خاتون کی لاش گراؤنڈ فلور میں واقع کمرے کے بیڈ سے ملی جبکہ مرد کی لاش گھر کی بالائی منزل پر پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی،انہوں نے بتایا کہ دونوں کی شادی کو 8 سے 10 سال ہوئے ہیں، اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا،شوہر نے پہلے بیوی کو گلا دبا کر قتل کیا اور پھر پنکھے سے پھندا لگا کر خودکشی کر لی، متوفیان کے تین بچے ہیں جو واقعہ کے وقت گھر میں الگ کمرے میں موجود تھے، متوفی ذیشان کسی فیکٹری میں جبکہ بیوی کسی اور جگہ ملازمت کرتی تھی،ایس ایچ او نے بتایا کہ ذیشان نے بدھ کی صبح باہر سے ناشتا منگواکر بچوں کو ناشتا کروایا اور ان سے کہا کہ والدہ کی طبعیت خراب ہے وہ وہ سورہی ہیں اور انھیں نہیں اٹھانا،دوسری جانب متوفین کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ذیشان کی 15 سال قبل ثناء سے شادی ہوئی تھی وہ کافی عرصے سے بے روزگار تھا جس کے باعث میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہوتے رہتے تھے، علاوہ ازیں نارتھ ناظم آباد بلاک K فاروق اعظم مسجد کے قریب رہائشی اپارٹمنٹ سے 18 سالہ رافع ولد ظہور کی لاش ملی جسے اسپتال منتقل کیا گیا ،،ایس ایچ او شارع نور جہاں نے بتایا کہ متوفی سہراب گوٹھ کا رہائشی ، نارتھ ناظم آباد میں گوشت کی دکان پر کام کرتا تھا ،کام پر آتے ہوئے اسے اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے اسکی موت واقع ہوئی لاش اپارٹمنٹ کے قریب سے ملی، چھیپا حکام کے مطابق نوجوان کی لاش فلیٹ سے ملی تھی، دریں ا ثنا نیٹی جیٹی پل پورٹ گرینڈ کے قریب سمندر سے 25 سالہ عبدالوحید ولد سکندر کی ڈوبی ہوئی لاش برآمد ہوئی جسے سول اسپتال منتقل کیا گیا،پولیس نے بتایا کہ متوفی مواچھ گوٹھ کا رہائشی تھا اور گمشدگی کی رپورٹ 10نومبر کو موچکو تھانے میں اس کے اہلخانہ کی جانب سے کرائی گئی تھی،متوفی کے ورثاء کے مطابق متوفی ذہنی طور پر کمزور تھا،ڈاکس تھانے کی حدود مائی کلاچی روڈ جنگل سائیڈ سے 60 سالہ فیض محمد ولد محمد اعظم کی لاش ملی ہے جسے سول اسپتال منتقل کیا گیا،متوفی کے پاس سے ملنے والے شناختی کارڈ پر اس کا عارضی پتہ ٹھٹھہ جبکہ مستقل پتہ تحصیل خاران کا درج ہے۔

===========================

جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت مقرر

جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت مقرر کردیے گئے، وزارت قانون و انصاف نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان کی بطور چیف جسٹس آئینی عدالت تقرری کی منظوری دی تھی۔

صدرِ مملکت نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر دی۔

اس تقرری کے بعد جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس ہوں گے۔

دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی نے خبر دی تھی کہ وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ جسٹس امین الدین کو بنائے جانے کاامکان ہے اور آج ہی نوٹیفکیشن بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
===========================

اغواء کے بعد جبری شادی کی، لڑکی کا عدالت میں بیان، شوہر کی گرفتاری کا حکم
13 نومبر ، 2025
کراچی (اسٹاف رپورٹر) مبینہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی حقیقت عدالت میں کھل کر سامنے آگئی ، سانگھڑ کی رہائشی لڑکی نے اغواء کے بعد جبری شادی کرنے کا بیان دیدیا ، فاضل جج نے لڑکی کو ماں کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے شوہر کی گرفتاری کا حکم دیدیا، جوڑے کی ایف آئی آر خارج کرنے اور تحفظ سے متعلق درخواست پرسماعت کے موقع پر لڑکی روزینہ نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ سکندر نے مجھے اغواء کرکے جبری شادی کی ہے، عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ فوری طور پر ملزم کو گرفتار کیا جائے اور لڑکی کا بیان ریکارڈ کریں، عدالت نے تفتیشی افسر کو متعلقہ عدالت میں تفتیش مکمل کر کے چالان پیش کرنے اور لڑکی اور والدہ کو ان کے گھر پہنچنے تک تحفظ فراہم کر نے کی ہدایت کردی ، لڑکی کے اہلخانہ نے سکندر کے خلاف لڑکی کے اغواء کا مقدمہ درج کروایا تھا۔