
Shehzad Bhutta
پی ٹی آئی کے ننھے منے جذباتی اور نالائق سپورٹر کو یاد کروادوں ..Seemore
وقت بہت ظالم چیز ہے ڈکٹیٹر مشرف نےجب ریفرنڈم کروایا تھا تو عمران خان پرویز مشرف کو ووٹ دینے آیا تھا
عمران خان نے اُس وقت ایک غیر آئینی ریفرنڈم کی حمایت کی،
اور پھر مشرف نے اپنی پسند کے مطابق آئین میں ترامیم کیں تاکہ وہ اقتدار میں رہ سکے
تب عمران خان نے اپنے مفادات کیلئے ایک ناجائز اور غلط ترمیم کے حق میں ووٹ کیوں دیا تھا 🖐️
=========================
ڈوب کر جاں بحق ڈاؤ یونیورسٹی کے 2 طالبعلم سپردِ خاک، ایک کی میت ٹوبہ ٹیک سنگھ روانہ کردی گئی
سید محمد عسکری
سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے فائنل ایئر کے طالبعلم احمد کاشف رسول اور اشہد عباس فاطمی کی نماز جنازہ جمعرات کو ادا کردی گئی۔
احمد کاشف رسول کی نماز جنازہ ڈی ایچ اے فیز ون کی مسجد مصطفیٰ میں ادا کی گئی، بعد ازاں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں ڈاؤ کے اساتذہ، طلبہ اور عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اشہد عباس فاطمی کی نماز جنازہ کنٹری گارڈن اپارٹمنٹ گلستان جوہر کی مسجد میں ادا کی گئی جبکہ اشارب منیر چوہدری کی میت ٹوبہ ٹیک سنگھ روانہ کردی گئی۔
جمعرات کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سوگ کی کیفیت رہی اور طالب علم افسردہ دکھائی دیے۔
ڈوب کر جاں بحق ڈاؤ یونیورسٹی کے 2 طالبعلم سپردِ خاک، ایک کی میت ٹوبہ ٹیک سنگھ روانہ کردی گئی
ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس پرنسپل ڈاکٹر صباء سہیل کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر اور اساتذہ ڈوب کر جاں بحق ہونے والے طالب علم کی تعزیت کے لیے جمعے کو ان کے گھر پر جائیں گے اور اہلِ خانہ سے تعزیت کریں گے جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے جاں بحق ہونے والے طلبہ کے لیے جمعے کے روز تعزیتی اجلاس معین آڈیٹوریم میں صبح 9 بجے ہو گا۔
علاوہ ازیں واقعے میں بچ جانے والے 3 طلبہ کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں 2 طلبہ رضوان اور ربیع کو طبی امداد دے کر داخل کر لیا گیا ہے جبکہ ایک طالب علم عبدالمجید کو میڈیکل آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے زیرِ علاج طلبہ کی طبی نگہداشت کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ سول اسپتال کی انتظامیہ ان کی خصوصی نگہداشت کر رہی ہے۔
=========================
سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ مستعفی
سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ دے دیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمانداری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، 27ویں ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے، انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا، ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور، کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا، جس عدالت سے آئینی کردار ہی لے لیا گیا اس میں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔
جسٹس منصور نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم نے قوم کی اعلیٰ عدالت کی یکجہتی کو توڑ کر، اس نے عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا ہے، ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے، آئینی نظام کی ایسی بگاڑ ناقابل برداشت ہے اور وقت کے ساتھ اسے پلٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے جج کے طور پر میرے سامنے صرف دو راستے کھلے ہیں، ایک راستہ ایسے نظام کے اندر رہنا ہے جو اس ادارے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے، دوسرا راستہ اس کی غلامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الگ ہو جانا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے مزید لکھا کہ 26ویں ترمیم میں بھی سپریم کورٹ آئینی سوالات کا جائزہ لینے اور ان کا جواب دینے کے اختیار کی حامل تھی، موجودہ ترمیم نے اس عدالت سے وہ بنیادی اور اہم اختیار چھین لیا ہے، کمزور عدالت میں خدمات انجام دیتے ہوئے میں آئین کا تحفظ نہیں کر سکتا، جج رہتے ہوئے اس ترمیم کا عدالتی جائزہ بھی نہیں لے سکتا جس نے آئین کو بگاڑا۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللّٰہ بھی مستعفی ہوگئے۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استعفیٰ صدرِ پاکستان کو بھجوادیا۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا ہے کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
انہوں نے مزید تحریر کیا کہ تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان سے تھا۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل، میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی، اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔
میٹنگ منٹس پبلک کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے نیا خط لکھ دیا
اس سے قبل 10 نومبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں مجوزہ آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ اگر متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے دونوں متاثر ہوں گے، تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سر بلندی کے لیے کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے۔
چیف جسٹس بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں، جسٹس منصور علی شاہ کا خط
خط میں چیف جسٹس پاکستان سے تمام آئینی عدالتوں کےجج صاحبان کا اجلاس بلانے کی سفارش کرتے ہوئے سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت سے باضابطہ مشاورت کی تجویز دی گئی تھی۔
جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی، آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب منظرِ عام پر آ گیا
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں کہا تھا کہ آپ اس ادارے کے ایڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈر شپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے۔
خط کے متن میں کہا گیا تھا کہ عدلیہ کا ادارہ جاتی مؤقف تحریری طور پر حکومت اور پارلیمان کو بھجوایا جائے، جب تک مشاورت مکمل نہ ہو، حکومت کو ترمیم پیش نہ کرنے سے آگاہ کیا جائے، میری گزارش اختلاف نہیں، ادارہ جاتی یکجہتی کی اپیل ہے۔























