وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت بڑی شاہراہوں کے ترقیاتی کاموں پر جائزہ اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ نے بڑی شاہراہوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کردی
شاہراہیں سندھ کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
سندھ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی (11 نومبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وفاقی، صوبائی اور غیر ملکی امداد سے جاری بڑی شاہراہوں کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ انہیں مقررہ وقت میں مکمل کیا جاسکے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء جام خان شورو اور حاجی علی حسن زرداری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی عوامی شعبہ جاتی ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2025-26، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26، اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے جاری سیلاب ایمرجنسی بحالی منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ سندھ کی معاشی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام کو زمین پر واضح ترقی نظر آنی چاہیے۔ ہماری ترجیح ایسے منصوبوں کی تکمیل ہے جو براہ راست عوام کو فائدہ پہنچائیں اور علاقائی روابط کو مضبوط بنائیں۔
سندھ کوسٹل ہائی وے (36 کلومیٹر)
یہ 3.7 ارب روپے کا منصوبہ ہے جس میں وفاقی حکومت کا حصہ 2.6 ارب روپے اور صوبائی حکومت کا حصہ 1 ارب روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے اسے ساحلی ترقی کے لیے “اسٹریٹجک لائف لائن” قرار دیا اور جون 2027 تک تکمیل کی ہدایت دی۔
روہڑی گڈو بیراج روڈ (105 کلومیٹر)
یہ 17.79 ارب روپے کا منصوبہ ہے جو بالائی سندھ کو جنوبی پنجاب سے جوڑتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ منصوبے پر کام تیز کیا جائے اور جون 2027 تک مکمل کیا جائے۔
ٹنڈو الہ یار ٹنڈو آدم دو رویہ سڑک (31.4 کلومیٹر)
9.28 ارب روپے کی اسکیم میں وزیراعلیٰ نے سندھ حکومت کے 2.59 ارب روپے کے حصے کی فوری ادائیگی کی ہدایت دی تاکہ منصوبے کی رفتار تیز کی جا سکے۔
مہران ہائی وے (نوابشاہ–رانی پور، 135 کلومیٹر)
یہ 41.03 ارب روپے کا منصوبہ ہے جو صوبے کے اندر تجارتی روابط کے لیے نہایت اہم ہے۔ وزیراعلیٰ نے جون 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
سانگھڑ–روہڑی بذریعہ مدھ جمراؤ اور صالح پٹ (221 کلومیٹر)
یہ 35.08 ارب روپے کا منصوبہ ہے جس میں صوبائی حکومت کا حصہ 1.12 ارب روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ سڑک دیہی علاقوں میں نئی معاشی راہیں کھولے گی اور زرعی تجارت کو فروغ دے گی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے جاری ایمرجنسی سیلاب بحالی منصوبہ
وزیراعلیٰ نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے جاری سندھ فلڈ ایمرجنسی ریکنسٹرکشن پروجیکٹ (ای ایف اے پی) کا بھی جائزہ لیا جو 48.4 ارب روپے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ 724 کلومیٹر سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی پر مشتمل ہے جسے اقتصادی امور کی قومی کونسل (ایکنک) نے دسمبر 2022 میں منظور کیا تھا اور جنوری 2024 میں اس کا آغاز کیا گیا۔
اب تک 538 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حکومت کے حصے کے 4.25 ارب روپے میں سے 96 فیصد استعمال ہو چکے ہیں۔ نظرثانی شدہ پی سی-ون کے مطابق منصوبے کے دائرہ کار کو بڑھا کر 873 کلومیٹر تک کیا جا رہا ہے جس کی نئی لاگت 62.53 ارب روپے ہوگی جو اضافی کاموں اور ٹیکس ایڈجسٹمنٹس کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری یہ بحالی سندھ کے اس عزم کی عکاس ہے کہ ہم سیلاب کے بعد بہتر اور مضبوط انداز میں تعمیر نو کریں گے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اضافی فنڈز بروقت جاری کیے جائیں اور منصوبہ جون 2026 تک مکمل کیا جائے۔
شفافیت، احتساب اور پائیدار ترقی کے عزم کو دہراتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سندھ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، علاقائی روابط کو فروغ دینے اور ایسے منصوبے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو صوبے کی طویل المدتی ترقی اور لچک میں اضافہ کریں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ























