اب لوگوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار موسیقی اور انسانوں کی بنائی ہوئی موسیقی میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سروے کمپنی اپسوس نے فرانس کی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’ڈیذر‘ کے لیے کیے گئے ایک سروے میں 9 ہزار افراد کواے آئی سے تیار کردہ موسیقی کے 2 اور انسانی تخلیق کردہ ایک موسیقی سنائی گئی۔
ڈیذر کے مطابق ’97 فیصد لوگ اے آئی سے مکمل طور پر تیار کردہ اور انسانوں کی بنائی گئی موسیقی کے درمیان فرق نہیں بتا سکے‘۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں پہلی بار ایک ملک سطح کی موسیقی کا گانا، جس میں مرد گلوکار کی آواز مصنوعی ذہانت سے تخلیق کی گئی تھی، چارٹ میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ’بریکنگ رسٹ‘ نامی آرٹسٹ کا اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تخؒیق کردہ گانا ’واک مائی واک‘ پیر کو شائع ہونے والے ڈیٹا کے مطابق ’بل بورڈ‘ میگزین کے ڈیجیٹل کنٹری میوزک کے سیلز چارٹ میں پہلے نمبر پر آگیا۔
ڈیذر نے بتایا کہ سروے میں شامل نصف سے زائد افراد نے اس بات پر عدم اطمینان ظاہر کیا کہ وہ اے آئی اور انسانی موسیقی میں فرق نہیں کر سکتے۔
سروے میں لوگوں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اے آئی کے اثرات کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے، 51 فیصد نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے کم معیار کی موسیقی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بڑھے گی، جبکہ تقریباً دو تہائی کا ماننا تھا کہ اس سے تخلیقی صلاحیت میں کمی آئے گی۔
ڈیذر کے سی ای او الیکسس لانترنیئر نے کہا کہ ’سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ لوگ موسیقی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ جو سن رہے ہیں وہ انسان نے بنایا ہے یا اے آئی نے‘۔
ڈیذر کے مطابق، اب نہ صرف پلیٹ فارم پر اے آئی سے تیار کردہ مواد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ صارفین میں مقبول بھی ہو رہا ہے۔
جنوری میں پلیٹ فارم پر روزانہ چلنے والے گانوں میں سے ہر 10 میں سے ایک مکمل طور پر اے آئی سے تخلیق شدہ تھا، دس ماہ بعد یہ شرح بڑھ کر ہر 3 میں سے ایک ہو گئی، یعنی روزانہ تقریباً 40 ہزار گانے اے آئی سے بنائے جارہے ہیں۔
سروے میں شامل 80 فیصد افراد نے مطالبہ کیا کہ مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ موسیقی کو واضح طور پر لیبل کیا جائے تاکہ سامعین جان سکیں۔
ڈیذر اس وقت واحد بڑا میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہے جو اپنے صارفین کے لیے اے آئی سے مکمل طور پر تیار شدہ مواد کو واضح طور پر شناخت کرتا ہے۔
جون میں یہ مسئلہ اُس وقت نمایاں ہوا جب ”دی ویلویٹ سن ڈاؤن“ نامی ایک بینڈ اچانک ”اسپاٹیفائی“ پر وائرل ہوگیا اور ایک ماہ بعد تصدیق کی کہ ان کا سارا مواد دراصل اے آئی سے تیار کیا گیا تھا۔
اے آئی بینڈ کا سب سے مقبول گانا تین ملین سے زیادہ بار سنا جا چکا ہے۔
اس کے ردعمل میں، اسپاٹیفائی نے کہا کہ وہ فنکاروں اور پبلشرز کو موسیقی کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کے بارے میں ایک رضاکارانہ ضابطے پر دستخط کرنے کی ترغیب دے گا۔
ڈیذر کا یہ سروے 6 سے 10 اکتوبر کے درمیان آٹھ ممالک میں کیا گیا: برازیل، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، نیدرلینڈز اور امریکا۔























