بھارت کے متنازع اینکر اور مودی کے حمایتی ارنب گوسوامی ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے پر تنقید کی زد میں آ گئے۔
ریپبلک ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام کے دوران ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں پر سنگین الزامات عائد کیے اور اسلام مخالف بیانیہ اپنایا۔
پروگرام میں ارنب نے کہا:
“بھارت کے تعلیم یافتہ مسلمان ملک کے دشمن ہیں، ملک میں ایک ‘وائٹ کالر جہاد’ جاری ہے، جس میں مسلمان بھارت کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔”
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو “منافق” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے محبوبہ مفتی اور دیگر کشمیری رہنماؤں کو “دھوکے باز” اور “فکری فراڈ” جیسے القابات سے نشانہ بنایا۔
ارنب نے ایک صحافی پر بھی طنز کیا اور کہا:
“ایک مخصوص صحافی ہے جسے حافظ سعید کو صحافت کا آئیڈیل قرار دینے پر تعریف ملتی ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، ارنب گوسوامی کے پروگرام میں بار بار ‘وائٹ کالر جہاد’ جیسے الفاظ کا استعمال کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت کے منظم بیانیے کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ نہ صرف صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کو بھی تقویت دے رہا ہے۔























