
G M Hydri
سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے سیکرٹری محکمہ صحت سندھ ریحان اقبال بلوچ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ جب ریحان اقبال بلوچ گریڈ 20 کے افسر ہیں تو انہیں گریڈ 21 کی پوسٹ پر کیسے تعینات کیا گیا…..؟؟
عدالتِ عالیہ کا یہ فیصلہ بالکل درست اور میرٹ کے عین مطابق ہے، کیوں کہ نظام میں شفافیت اسی وقت ممکن ہے جب تقرریاں اور تعیناتیاں قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں۔
اب اگر عدلیہ نے ایک گریڈ کم ہونے کی وجہ سے سیکرٹری لیول کے افسر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے تو پھر محکمہ جیل خانہ جات سندھ پر بھی ایک نظر ڈالنا لازمی ہے، جہاں سپریم کورٹ کے واضح احکامات اور قواعد و ضوابط کے خلاف کئی جونیئر افسران سینئر پوسٹس پر براجمان ہیں۔ حیرت انگیز طور پر لاڑکانہ شکارپور گھوٹکی دادو بدین ٹھٹھہ نوشہرو فیروز نوابشاه سمیت مختلف 13 جیلوں پر جونیئر اور ناتجربہ کار افسران اپنے گریڈ سے دو دو/تین تین گنا بڑے عہدوں پر بطور سپرنٹنڈنٹ جیل خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
کیا یہ کھلی خلاف ورزیاں کسی کو نظر نہیں آتیں…؟؟
=====================
پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر لاہور میں واقع داتا دربار کے قریب واقع پالتو جانوروں کی ایک مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران درجنوں دکانیں مسمار کی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ بلڈوزر چلائے جانے سے پہلے انھیں اپنی دکانوں سے سامان نکالنے کا موقع نہیں دیا گیا جبکہ بعض نے الزام لگایا کہ دکانوں میں موجود پرندے اور جانور ‘ملبے تلے زندہ دب گئے۔’
اگرچہ کچھ ویڈیوز میں پرندہ مارکیٹ میں موجود دکانداروں کو ملبے سے جانور نکالتے دیکھا جا سکتا ہے تاہم لاہور ڈیوپلمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ‘جانوروں اور پرندوں کی ہلاکت کی خبر بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔’
ان کا مزید کہنا ہے کہ ‘سوشل میڈیا انفلویئنسرز کی جانب سے ایسی منفی باتیں کرنے کا مقصد ریٹنگ اور ویورشپ حاصل کرنا ہے۔’
====================























