پاکستان کے کون سے 3 ایئرپورٹس کی نجکاری ہو رہی ہے؟

نجکاری کمیشن بورڈ نے 3ہوائی اڈوں کو موجودہ نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کر دی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیرصدارت نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ایچ بی ایف سی ایل، پی آئی اے اور 3 انٹرنیشنل ایئرپورٹس کی نجکاری سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کو موجودہ نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے بارے میں کمیشن کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں کا انتظام طویل مدتی رعایتی بنیاد پر نجی شعبے کو دیا جائے گا۔

ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کےلیے ریفرنس پرائس اور سیل پرچیز ایگریمنٹ فائنل کیا گیا ہے جب کہ شرائط کو حتمی شکل دے کر کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو ارسال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان مورگیج ری فنانس کمپنی لمیٹڈ نے اپنی بولی جمع کرا دی ہے اور بولی ریفرنس پرائس کی منظوری اور کابینہ کی توثیق کے بعد کھولی جائے گی۔

ایچ بی ایف سی ایل کی کنسورشیم میں اےکےڈی گروپ ہولڈنگز کی شمولیت کی منظوری دی گئی ہے۔ شمولیت کنسورشیم کی درخواست اور کوالیفکیشن اسٹیٹمنٹ میں دی گئی شرائط کے مطابق کی گئی۔

ایچ بی ایف سی ایل پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں شریک 4اہل کنسورشیم میں سےایک ہے۔
=====================

امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کا 40 واں دن، وفاقی فنڈنگ معطل اور پروازوں میں بڑے پیمانے پر کمی

واشنگٹن، امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کو آج 40 روز گزر چکے ہیں، جبکہ ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان فنڈنگ بل پرتاحال کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

خبرایجنسیوں کے مطابق دوردورتک شٹ ڈاؤن ختم ہونے کے آثارنظرنہیں آ رہے، جس کے باعث وفاقی اداروں کی فنڈنگ مکمل طورپر بند ہوچکی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایئرٹریفک کنٹرولرزپردباؤ میں نرمی لانے کی غرض سے ملک بھر میں پروازوں کی تعداد میں کمی کا حکم دیا ہے۔

نیویارک سٹی کے نئے میئر زہران ممدانی کا عہدہ سنبھالتے ہی نئی نوکریوں کا اعلان

اس فیصلے کے تحت آج امریکا بھر میں 800 پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ 40 بڑے ہوائی اڈوں پرفضائی آپریشن محدود کردیا گیا ہے۔

متاثرہ ایئرپورٹس میں اٹلانٹا، نیویارک، ڈینور، شکاگو، ہیوسٹن اور لاس اینجلس جیسے مصروف ترین مراکزشامل ہیں، شٹ ڈاؤن کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین اورایئرپورٹس کا عملہ یا تومعطل ہے یا بغیرتنخواہ کے فرائض انجام دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بحران امریکا کی معیشت، ایوی ایشن سیکٹراورعوامی خدمات کے نظام پرشدید منفی اثرات ڈال رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرفنڈنگ بل پرجلد اتفاق نہ ہوا تو شٹ ڈاؤن مزید طویل ہو سکتا ہے۔