پاکستان میں ہر بچے کو 13 بیماریوں کی ویکیسن لگائی جاتی ہے 3 لاکھ 97 ہزار بچوں کو ایک بھی ویکیسن نہیں لگی جبکہ 4 لاکھ 63 ہزار بچوں کو 13 میں سے کچھ ویکسین لگی ہیں


پاکستان میں ہر بچے کو 13 بیماریوں کی ویکیسن لگائی جاتی ہے 3 لاکھ 97 ہزار بچوں کو ایک بھی ویکیسن نہیں لگی جبکہ 4 لاکھ 63 ہزار بچوں کو 13 میں سے کچھ ویکسین لگی ہیں

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر بچے کو 13 بیماریوں کی ویکیسن لگائی جاتی ہے 3 لاکھ 97 ہزار بچوں کو ایک بھی ویکیسن نہیں لگی جبکہ 4 لاکھ 63 ہزار بچوں کو 13 میں سے کچھ ویکسین لگی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈرل ڈائیکوریٹ آف امیونائزیشن میں 118موبائل وین کی ویکسی نیشن مہم کیلئے صوبوں کوبھیجوانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں تین لاکھ 97ہزاربچوں کو ویکسین نہیں لگی۔جن بچوں کی۔ویکسی نیشن ہوجاتی ہے وہ 13بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں،4 لاکھ 63ہزاربچوں کوچند بیماریوں سے بچائو کے ٹیکے ہی لگاسکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام بچوں کو 13مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے ویکسی نیشن مکمل کروانی ہوگی۔

اگر لاکھوں بچوں کی۔ویکسی نیشن نہیں ہوگی توہسپتال بھرجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 118گاڑیاں صوبوں کوبھیجوارہے ہیں تاکہ ہربچے کی ویکسی نیشن ممکن بناسکیں،8 لاکھ بچوں کی حالت قابل توجہ ہے ان کو 13 میں سے کوئی بیماری بھی لگ سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم ہسپتال بناکر مریضوں کا انتظار کرنے کے بچائے لوگوں کو بیماریوں سے بچائیں ۔24 کروڑ لوگوں ہیں،ہر سال 65 لاکھ بچے پیدا ہورہے ہیں، ہر گلی کے کونے میں ہسپتال بنالیں،علاج کی ضرورت پھر بھی پوری نہیں ہوگی ،حفاظتی ٹیکہ جات موبائل وینز کا مقصد ایسے بچوں کے گھروں تک جانا ہے جو ویکسین سے محروم ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 1 کروڑ 30 لاکھ لوگ بیماریوں سے غربت کے لکیرکےنیچے چلے گئے، 1 کروڑ 30 لاکھ فیملی غریب نہیں تھے ،بیماری کی وجہ سے وہ غریب ہوگئے لوگوں کے گھر فروخت ہوگئے،سامان فروخت ہوگیا ۔انہوںنے کہا کہ ویکسین کے لئے 1166 نمبر ڈائل کرکے ٹیم کو گھر بلاکر حفاظتی ٹیکے لگوائیں اگرکسی جگہ بچوں کی ویکسی نیشن کیلئے ہماری ٹیم نہیں پہنچ سکی تووالدین ہم سے رابطہ کریں،حکومت اکیلے اس نظام کو بدل نہیں سکتی،والدین اورہرشہری صحت مندزندگی گزارنے کیلئے سنجیدہ ہوں۔
انہوں نے کہا ہم مصیبت اورتکلیف میں مبتلالوگوں کی مشکلات میں کمی لانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم اپنی استطاعت کے مطابق ایمانداری سے کام کرسکتے ہیں،ہم نے ہسپتالوں میں بیماروں کا انتظار نہیں کرنا،ہم نے شہریوں کو بیمارہونے سے بچاناہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں 53 اور کہیں 40 گاڑیاں ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں صرف ایک ایک گاڑی ناکافی ہے ۔ طے کریں گے کہ کس کو مزید گاڑیاں دینی ہیں۔ تقریب میں پنجاب،خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے نمائندگان کو گاڑیوں کی چابیاں دی گئیں جبکہ آزاد کشمیر،گگت بلتستان اور اسلام آباد کو بھی گاڑی کی چابیاں دی گئیں۔