ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ ڈاکٹر شرجیل نور چنہ نے کہا ہے کہ پولیو کی طرح خسرہ سے بچاؤ کے لیے بھی بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں، اس سلسلے میں 17 نومبر سے 29 نومبر 2025ء تک خسرہ مہم چلائی جائے گی

لاڑکانہ(بیورورپورٹ) ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ ڈاکٹر شرجیل نور چنہ نے کہا ہے کہ پولیو کی طرح خسرہ سے بچاؤ کے لیے بھی بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں، اس سلسلے میں 17 نومبر سے 29 نومبر 2025ء تک خسرہ مہم چلائی جائے گی، اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے گھر گھر آگاہی دی جائے اور اس حوالے سے سیمینار بھی منعقد کیے جائیں، ان خیالات کا اظہا انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس لاڑکانہ کے دربار ہال میں خسرہ و روبیلا کیچ اپ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لاڑکانہ، محکمے کے افسران اور ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ نے کہا کہ آپ یونین کونسل کی سطح تک آگاہی پہنچائیں، ضلع کے ہر تعلقے کی یونین کونسل میں ٹیمیں مقرر کریں اور مائیکرو پلان بھی ترتیب دیں تاکہ مہم زیادہ سے زیادہ کامیاب ہو اور مقررہ ہدف حاصل کیا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہماری ٹیمیں پولیو مہم میں کام کرتی ہیں، اسی طرح خسرہ مہم کے دوران بھی ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور منصوبہ بندی کی جائے، اس میں سوشل موبلائزرز بھی شامل ہوں اور ساتھ ہی ریسکیو 1122 کو بھی مہم میں شریک کیا جائے، ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ ڈاکٹر شرجیل نور چنہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لاڑکانہ نے ہر پولیو مہم میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، اسی طرح اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بھی بھرپور محنت کریں، مہم کے دوران ٹیم کے اراکین کی کارکردگی کی جانچ پڑتال بھی کی جائے، اور خاص طور پر اسکولوں میں سیمینار منعقد کیے جائیں جن میں بچوں کے والدین کو بھی مدعو کیا جائے، اس سے قبل نقشوں اور چارٹس کے ذریعے آگاہی دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خسرہ ایک ایسا وائرس ہے جو ایک بچے سے دوسرے بچے تک پھیلتا ہے، جس سے قوتِ مدافعت ختم ہو جاتی ہے، بتایا گیا کہ سال 2000ء سے 2023ء کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 16 ملین بچے اس بیماری کے باعث جاں بحق ہوئے، اور اس بیماری کی بنیادی وجہ نمونیا اور بخار ہے، مزید بتایا گیا کہ مہم کے دوران سپروائزرز اور تعلقہ افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ یہ مہم زیادہ سے زیادہ کامیاب ہو، ہمارا ہدف 2 لاکھ 63 ہزار بچوں تک پہنچنا ہے، جن میں سے صرف ضلع لاڑکانہ میں 1 لاکھ 13 ہزار 609 بچے شامل ہیںٍ، اس سلسلے میں پولیو کی طرز پر ایم آر پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے، جس پر ہماری ٹیمیں عمل کریں گی، بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ چار سالوں کے بعد 2025 میں یہ مہم چلائی جا رہی ہے اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تعلیم کے محکمے کے افسران اور تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کو بھی شامل کیا جائے۔