پریس ریلیز
پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے معذور افراد کا بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ اگر ترقی کے دھارے میں افراد باہم معذوری کو شامل نہیں کیا گیا تو SDGs کا سفر نامکمل رہے گا۔ عابد لاشاری
کراچی: نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (NDF) پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معذور افراد کی شمولیت اور بااختیاری، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے مؤثر نفاذ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عابد لاشاری (تمغہء امتیاز)، صدر NDF پاکستان نے کہا کہ جب تک معذور افراد کو تعلیم، روزگار، صحت اور رسائی کے میدانوں میں رکاوٹوں کا سامنا رہے گا، پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں۔
انہوں نے یہ بات SDPI کی 28ویں پائیدار ترقی کانفرنس 2025 کے دوران شرکت کہی، جو UN ESCAP، حکومتِ پاکستان اور SDPI کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کی تقریباً 15 فیصد آبادی معذور افراد پر مشتمل ہے، لہٰذا ان کی شمولیت محض انسانی حقوق کا تقاضا ہی نہیں، بلکہ ایک اہم ترقیاتی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا،
“SDGs کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔ اس عالمی عہد کو پورا کرنے کے لیے ہمیں مساوی مواقع، شمولیت اور رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔”
عابد لاشاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معذوری کو خیرات یا ہمدردی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے عزت، مساوات اور سماجی انصاف کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ معذور افراد کو بااختیار بنانے سے سماجی یکجہتی مضبوط ہوتی ہے، معاشرتی طبقات مضبوط ہوتے ہیں، اور مہارتوں کے فروغ اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے معاشی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔
انہوں نے حکومت، سول سوسائٹی، بین الاقوامی اداروں اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ جامع پالیسیوں کو فروغ دیں، بحالی کی سہولیات میں سرمایہ کاری کریں، قابلِ رسائی تعمیرات تیار کریں، اور ہر سطح پر معذور افراد کی معنی خیز شمولیت کو یقینی بنائیں۔ عابد لاشاری اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر معذور افراد کو شامل نہ کیا گیا تو SDGs کا سفر نامکمل رہے گا۔ ہمیں آگاہی سے آگے بڑھ کر عمل کی طرف آنا ہوگا — عزم سے عملدرآمد کی طرف ہی ہماری کامیابی ہے۔























