ہمارے معاشرے میں دولہا اپنی بارات لے کر دلہن کے گھر جاتا ہے لیکن ایک منفرد خطہ جہاں صدیوں سے اس کے الٹ روایت چلی آ رہی ہے۔
شادی دو خاندانوں اور دو انجان افراد کا زندگی بھر کا ملاپ ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے والے دولہا کے ساتھ بارات لے کر جاتے ہیں اور دلہن کو بیاہ کر اپنے گھر لاتے ہیں۔ لیکن ہمارے اسی خطہ میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے، جہاں بارات اس کے بالکل الٹ دلہن لے کر اپنے دولہا کے گھر جاتی ہے اور یہ روایت چند سال یا چند دہائی نہیں بلکہ صدیوں پرانی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ منفرد ثقافتی روایت ریاست اتراکھنڈ کے جونسار باور علاقے میں صدیوں سے قائم ہے اور اس کو جوجوڑا نامی شادی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس غیر روایتی شادی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس میں کسی ایک خاندان پر مالی بوجھ نہیں ڈالا جاتا، بلکہ دونوں خاندان اخراجات اور ذمہ داریوں کو یکساں طور پر بانٹتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس شادی میں دلہن اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے ہمراہ بارات لے کر دولہا کے گھر پہنچتی ہے اور وہاں دلہن سمیت بارات کا روایتی رسومات اور احترام کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عورت کے وقار کی علامت ہے۔
جوجوڑا شادی میں روایتی آلات جیسے ڈھول، دماؤں ، رنسنگھا، اور تھالی کی گونج تہوار کا ماحول پیدا کر دیتی ہے۔ جب دلہن کی بارات دولہے کے گھر پہنچتی ہے تو دونوں خاندان مل کر روایتی رقص کرتے ہیں۔
لوک گیت قدیم کہانیاں، نیک خواہشات اور مقامی ثقافت کی جھلک پیش کرتے ہیں ۔ پورا منظر کسی بڑے ثقافتی تہوار کی طرح لگتا ہے ۔ موسیقی اور رقص کی یہ روایت جونسار کی لوک ثقافت کی بڑی خوبصورتی سے عکاسی کرتی ہے۔
وقت کی دھول میں کئی رسوم اور روایات بدلیں مگر یہاں یہ صدیوں پرانی روایت آج بھی اسی طرح زندہ ہے۔ مقامی مورخ گوپال راوت کے مطابق جوجوڑا روایت کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جونسار باور خطہ مہا بھارت کے دور میں کسی زمانے میں کورو خاندان کا حصہ تھا، جہاں کا سماجی نظام اجتماعی زندگی اور مساوات پر مبنی تھا۔ نتیجتاً عورتوں کو شادی میں برابری کا درجہ دیا گیا۔ جوجوڑا روایت کو آج بھی اس قدیم نظریے کا زندہ عکس سمجھا جاتا ہے۔























