راولپنڈی میں 10 اگست تک دفعہ 144 نافذ

راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کی ممکنہ احتجاجی ریلی کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، اور شہر بھر میں 4 اگست سے 10 اگست تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس دوران ہر قسم کے سیاسی جلسے، جلوس، ریلیاں اور عوامی اجتماعات مکمل طور پر ممنوع ہوں گے۔

ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان سات دنوں میں موٹرسائیکل پر دو افراد کے سوار ہونے پر بھی پابندی ہوگی، جبکہ اسلحے کی نمائش اور لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔

اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے اڈیالہ جیل جانے والی سڑک کو سیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اڈیالہ روڈ پر کنٹینرز رکھ کر مکمل بند کیا جائے گا، اور اس علاقے کو ہائی الرٹ پر رکھا جائے گا۔

علاوہ ازیں پنجاب رینجرز کو اطراف میں تعینات کر دیا جائے گا، جبکہ راولپنڈی پولیس اور رینجرز کے اہلکار مشترکہ گشت کریں گے۔ اڈیالہ جیل کے قریب جمع ہونے والے افراد کو سختی سے روکا جائے گا، اور اینٹی رائٹ فورس کے اہلکار رکاوٹوں پر تعینات ہوں گے۔ آنسو گیس اور لاٹھیوں سے لیس فورس کو اضافی طور پر اڈیالہ روڈ پر تعینات کیا جائے گا۔

کچری چوک سے اڈیالہ جیل اور چکری انٹرچینج سے آنے والی ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف موڑ دیا جائے گا، جبکہ اڈیالہ روڈ سے جڑی سڑکیں بھی بند کر دی جائیں گی۔

تحریک انصاف کے پانچ اگست کے شیڈول پر قابو پانے کے لیے راولپنڈی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ سی پی او خالد ہمدانی کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کے تحت تمام پولیس اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی پر موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سیکیورٹی کے ذمہ دار افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام پولیس اسٹیشنز، چوکیاں اور دفاتر پر عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔

دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بھی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت ہر قسم کے اجتماعات اور عوامی اجتماع پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ڈی سی اسلام آباد کے مطابق، کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کا حصہ نہ بنیں۔