لاہور سے راولپنڈی جانے والی اسلام آباد ایکسپریس کالا شاہ کاکو کے نزدیک پیش آنے والے خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں سات بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ اس واقعے میں 30 سے زائد مسافر زخمی ہوئے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے جس میں ٹرین کے ڈرائیور کو قصوروار قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس نے مقررہ رفتار کی خلاف ورزی کی۔ مزید یہ کہ روانگی سے قبل ایک بوگی کی الائنمنٹ میں خرابی کی نشاندہی کی گئی تھی جسے نظر انداز کر دیا گیا، جس کے باعث حادثے میں مجموعی طور پر نو بوگیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم ٹرین کا انجن محفوظ رہا۔
حادثے کی وجہ سے تقریباً 800 میٹر ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا، جس کی مرمت کے لیے ہیوی مشینری کے ذریعے عارضی ٹریک بچھانے کا کام جاری ہے تاکہ جلد از جلد ٹرینوں کی آمدورفت بحال کی جا سکے۔ مکمل بحالی میں مزید پانچ گھنٹے لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ریلوے حکام نے معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹریک میں دراڑ آنے کی وجہ سے بھی حادثہ پیش آیا۔
وفاقی وزیر ریلوے نے اس سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ریلوے اور ڈی ایس ریلوے کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت جاری کی۔ حادثے کے بعد ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہو چکی ہے جس سے مسافروں کو شدید مشکلات درپیش ہیں، تاہم جلد بحالی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
وزیر ریلوے نے ریلوے عملے کو فوری امدادی کارروائیاں تیز کرنے، زخمیوں کے لیے طبی ٹیمیں روانہ کرنے اور حادثے کی جامع رپورٹ سات دن میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔























