پنجاب کے ضلع سرگودھا میں غربت اور مالی مسائل سے پریشان ایک 24 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔
رپورٹس کے مطابق محمد طیب نامی نوجوان، جو ایک مقامی اسپتال میں ملازمت کرتا تھا، نے زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس کی لاش اسپورٹس اسٹیڈیم کے قریب سے برآمد ہوئی۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی ایک پرچی سے انکشاف ہوا کہ نوجوان پر قرضوں کا بوجھ تھا۔ پرچی پر درج تھا: “بس اتنی سی التجا ہے کہ میرا قرض ادا کر دینا تاکہ کچھ بوجھ ہلکا ہو سکے۔”
یہ واقعہ ملک میں جاری معاشی زبوں حالی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کی ایک تکلیف دہ مثال ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ایندھن اور یوٹیلٹی بلز کی قیمتیں اور بھاری ٹیکسز نے عام افراد کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
معاشی دباؤ، ناکافی سہولیات، اور سماجی تحفظ کی کمی کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوان طبقہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اشرافیہ اور معاشی طبقے کے درمیان مفادات کا خفیہ گٹھ جوڑ معاشی عدم مساوات کو جنم دے رہا ہے، جس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑ رہا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جب تک معاشی نظام میں اصلاحات، سماجی تحفظ، اور ذہنی صحت سے متعلق معاونت فراہم نہیں کی جاتی، ایسے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔























