
پردیس میں رہنے والوں میں اگر دیکھا جائے تو دو اقسام کے لوگ بستے ہیں ایک وہ جن کا مقصد صرف معاشی معاملات کے گرد گردش کرتا ہے جبکہ دوسری قسم وہ ہے جو معاشی معاملات کے ساتھ ساتھ معاشرتی و سماجی زندگی میں بھی متحرک رہتے ہیں تاکہ اپنے لوگوں اور خاص طور پر نونہالوں کو وطن عزیز کی اقدار سے روشناس کرایا جا سکے ۔

انہیں ہر لمحہ یہ فکر ستاتی رہتی ہے کہ کہیں وطن سے دور رہ کر اگلی نسل اپنی ثقافت کو نا بھلا بیٹھیں۔اسی طرح کی ایک شخصیت منطقہ شرقیہ میں پچھلے چھ سالوں سے متحرک ہیں ۔
محترم طاہر خان سوری جوُکہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور صنعتی شہر جبیل میں ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اس کے علاوہ محترم کاشف بخاری ، محترم جنید میمن ، محترم توقیر ، محترم ارسلان خان اور محترم سلمان بھی پیشے کے اعتبار سے انجینر ز ہیں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اِ ن کا کوئی ثانی نہیں یہ تمام حضرات با وجود انتہائی مصروفیت کے پاکستانی کمیونٹی کو یکجا رکھتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں کو منعقد کرتے رہنے ہیں۔رائز کلب کے نام سے جاری یہ سلسلہ پاکستانئ کمیونٹی کے لئے اب تک لا تعداد فری طبی ورک شاپس، تعلیمی سرگرمیاں اور بہت سے مقابلے منعقد کر چکا ہے۔

جشن آزادی کا دن ہو یا عید کا رائز کلب کے روایت رہی ہے کہ اس دن کو نہایت اہتمام اور اسلامی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے منعقد کیا جاتا ہے ۔ جیوے پاکستان سے خصوصی ملاقات میں محترم طاہر خان کا کہنا تھا کہ پر دیس میں نا صرف بچوں کے لئے بلکہ بڑوں کے لئے بھی کمیونٹی سے جڑ کو رہنا بہت ضروری ہے آج کے سوشل میڈیا دور میں جہاں رابطے رکھنا بہت آسان ہوگیا ہے پھر بھی لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں وہ موبائل کے قریب اور اپنوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں رائز کلب کے وجود کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا ہم وطن ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور روابط بڑھائیں دوسرا بچوں میں خود اعتمادی کے فقدان کو ختم کیا جائے یہی وجہ ہے کہ رائزکلب کے اکثر پروگرامز میں بچوں کے نا صرف زہنی آزمائش کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ میزبانی کے فرائض بھی کلب کے ہونہار بچے ہی ادا کرتے ہیں ۔
مستقبل کے بارے میں سوال کے جواب پر محترم طاہر خاں نے کہا مستقبل میں کیا ہوگا یہ صرف رب کائنات کو معلوم ہے لیکن رائز کلب کی پوری ٹیم جب تک ممکن ہوا پاکستانی کمیونٹی کی خدمت میں کوشاں رہی گی انشا اللہ۔
مختصرا پردیس میں رہ کر بھی دیس کے لئے اور ہم وطن بہن بھائیوں کے لئے بے لوث کرنا رائز کلب کا خاصہ رہا ہے
جس کے اعتراف میں کلب کو مختلف شیلڈز اور اسناد سے بھی گاہے با گاہے نوازا جاتا رہتاہے۔ یقیناً ایسے پاکستانی قوم کا فخر ہیں جو ملکی اقدار کو زندہ رکھنے کے لئے کوشاں ہیں ۔اللہ رائز کلب کو مزید ترقی عطا کرے آمین
سعدیہ خان























