
پاکستان کی ترقی کے لیے ہمارے تعلیمی اداروں کو تنقیدی سوچ، استدلال اور جدت پر مبنی حل فراہم کرنے والے مراکز بننا چاہیے،فیلڈمارشل
راولپنڈی:چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے علمی حلقوں پر زور دیا ہےکہ وہ قومی بیانیے کو ہم آہنگی، استحکام، امن اور ترقی کی سمت لے جانے میں فعال کردار ادا کریں۔ پاکستان کی ترقی کے لیے ہمارے تعلیمی اداروں کو تنقیدی سوچ، استدلال اور جدت پر مبنی حل فراہم کرنے والے مراکز بننا چاہیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے آج آرمی آڈیٹوریم میں منعقدہ “ہلال ٹاکس” کے شرکاء سے ملاقات کی۔ بین الاقوامی، علاقائی اور قومی موضوعات پر مبنی مباحثوں اور گروپ ڈسکشنز پر مشتمل یہ سلسلہ “ہلال ٹاکس” پاکستان کی علمی برادری کے مابین خیالات کے تبادلے کا ایک اہم فورم ہے۔
آئی ایس پی آرکاکہناہے کہ علمی شعبے کے قومی ترقی میں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اس فورم میں ملک بھر سے تقریباً 1800 ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی جن میں وائس چانسلرز، سربراہانِ شعبہ، سینئر فیکلٹی ممبران، پرنسپلز اور طلبہ شامل تھے۔ اکثریت نے اس میں آن لائن شرکت کی جبکہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے خصوصی شرکت کو یقینی بنایا گیا۔
فیلڈمارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علمی حلقوں پر زور دیا کہ وہ قومی بیانیے کو ہم آہنگی، استحکام، امن اور ترقی کی سمت لے جانے میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ہمارے تعلیمی اداروں کو تنقیدی سوچ، منطق اور جدت پر مبنی حل فراہم کرنے والے مراکز بننا چاہیے۔
آرمی چیف نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے، خصوصاً تحقیق کے میدان میں درپیش چیلنجز کا ذکر کیا اور حکومت کے تعلیمی اقدامات کی حمایت کے لیے پاک فوج کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سوال و جواب کے اوپن سیشن کے بعد شرکاء نے “ہلال ٹاکس” کے قیام کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف تحقیق اور جدت کو فروغ دیں گے بلکہ خیالات کے تبادلے کا ماحول پیدا کر کے قومی یکجہتی کو مضبوط کریں گے۔
آئی ایس پی آرکاکہناہے کہ فورم کا اختتام ایک مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ سب مل کر ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کی جانب پیش رفت جاری رکھیں گے۔
========================
چینی تجزیہ کار نے بھارتی میزبان اور ریٹائرڈ افسر کو پچھاڑ کر رکھ دیا
چین کے ایک سینئر تجزیہ کار پروفیسر وکٹر گاؤ نے لائیو شو کے دوران بھارتی (ر) میجر جنرل جی ڈی بخشی اور میزبان ارنب گوسوامی کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔
بدھ کو ریپبلک ٹی وی کے پروگرام میں میزبان ارنب گوسوامی نے بھارتی (ر) میجر جنرل جی ڈی بخشی اور چین کے سینئر تجزیہ کار پروفیسر وکٹر گاؤ کو مدعو کیا۔
شو کے دوران چینی تجزیہ کار نے اعادہ کیا کہ چین اور پاکستان کی دوستی چٹان کی طرح مضبوط ہے۔
اس مباحثے میں گرما گرمی اس وقت بڑھی جب بھارتی (ر) میجر جنرل جی ڈی بخشی نے چین پر تبت پر حملے کرنے کا دعویٰ کردیا اور کہا کہ یہ حملہ بھارت اور چین کے درمیان تعلقات بگڑنے کی وجہ بنا۔
بس پھر کیا تھا چینی تجزیہ کار نے کمزور تاریخی معلومات کے سبب (ر) میجر جنرل جی ڈی بخشی کو تاریخ کا مطالعہ کرنے کا کہا۔
انہوں نے جی ڈی بخشی سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ فوج کا مطالعہ کرتے ہیں، لیکن تاریخی سیاق و سباق کے بغیر ملٹری کا مطالعہ آپ کو ایک عظیم فوجی رہنما نہیں بنائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا کی کوئی طاقت چین اور پاکستان کی دوستی کو متزلزل نہیں کر سکتی، یہ اتحاد مئی 2025 میں قائم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط اور اٹوٹ ہے۔
جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام میں ارنب گوسوامی کیخلاف مقدمہ درج
چینی تجزیہ کار نے بھارتی میزبان پر واضح کیا کہ پاکستان کی قانونی حیثیت، اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اگر چین اور پاکستان قریبی تعاون کریں تو حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
22 اپریل کے پہلگام واقعے کے بعد ہندوستان کی جارحانہ بیان بازی پر تبصرہ کرتے ہوئے چینی تجزیہ کار نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی قوم کو مناسب تحقیقات یا ثبوت کے بغیر دہشت گرد حملوں کے جواب میں فوجی کارروائیاں شروع نہیں کرنی چاہیے۔
اس شو کے دوران جب میزبان ارنب گوسوامی نے غیر منطقی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارت نے 6-7 مئی کی رات پاکستان پر میزائل داغے تو چینی ٹیکنالوجیز غیر موثر تھیں، تو چینی پروفیسر نے گوسوامی کو بھارت کی شکست کی یاد دلا دی۔
انہوں نے ارنب گوسوامی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ملک 6-7 مئی کی درمیانی رات فضائی لڑائی میں ہارا اور وہ پاکستان نہیں ہے۔
انہوں نے بھارتی فضائیہ کے پانچ لڑاکا طیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ جنہیں پاکستان ایئر فورس نے اس ماہ کے شروع میں ڈاگ فائٹ کے دوران مار گرایا تھا ان میں تین رافیل بھی شامل تھے۔
چینی تجزیہ کار کے معقول دلائل نے بخشی اور گوسوامی کو خاموش کروا دیا اور بلآخر پروگرام کا موضوع اس وقت تبدیل کرنا پڑا۔























