سندھ ہائیکورٹ نے کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔ ہائیکورٹ میں کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او سمیت اعلیٰ عہدوں پر تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ میں اس رویئے پر معذرت خواہ ہوں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن میں تقرریاں صوبائی حکومت کرتی ہے۔ صلاح الدین کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔ عدالت کے حکم امتناع کے بعد اسد اللہ کو ہٹا کر ڈپٹی کمشنر احمد علی صدیقی کو ایڈیشنل چارج دیا گیا۔ درخواستگزار نے اسد اللہ کی سی ای او کی حیثیت سے تقرری کو نہیں بلکہ عہدے کے اختیارات کو چیلنج کیا۔ سی ای او کے اختیارات ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو سونپنے کے بعد یہ اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ درخواست غیر مؤثر ہوچکی، نمٹادی جائے۔ عدالت کے حکم امتناع کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کو پانی فراہم کرنے والا ادارہ مفلوج ہے۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں واٹر کارپوریشن کے پبلک یوٹیلیٹی ہونے سے متعلق تقریر مت سنائیں۔ یہ پبلک یوٹیلیٹی ہے لیکن پبلک مفاد کیلیے استعمال نہیں ہورہی، نجانے کس کے لیئے استعمال ہورہی ہے۔ خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا صوبہ سندھ میں سقراط، بقراط، افلاطون صرف اسداللہ ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اسد اللہ خان مئی 2022 میں اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے اور ستمبر میں دوبارہ تقرری کردی گئی۔ تمام عہدوں کے اختیارات اسد اللہ خان کو دیئے گئے ہیں، چار چار ٹوپیاں پہنا دی گئیں۔ اب گریڈ 19 کے من پسند ڈپٹی کمشنر کو سی ای او لگا دیا گیا، کراچی کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جارہا ہے۔ جنگ میں ہی نہیں، عدالتوں میں بھی سچائی کا قتل ہوتا ہے جب کوئی سرکاری افسر عدالت آجائے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اسد اللہ طویل عرصے واٹر کارپوریشن میں رہے، کے فور کی لاگت میں اضافہ ہوتا رہا۔ خواجہ شمس اسلام نے موقف دیا کہ شہر میں صرف پائپ بچھائے گئے ہیں پانی نہیں ہے۔ جس پائپ میں پانی ہوتا ہے وہ توڑ دیا جاتا ہے، عدالت میں موجود سابق جسٹس محمود عالم کے جملے نے کمرہ عدالت زعفران زار بنادیا۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ افسران کی نااہلی کے سبب کراچی میں بار بار پانی کی لائنیں پھٹ جاتی ہیں۔عدالت نے کنٹریکٹ پر سی ای او اسد اللہ خان اور احمد علی صدیقی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے۔ عدالت نے ریٹائرڈ افسران کی کنٹریکٹ پر دوبارہ تقرریوں اور حکومت سندھ کے رویئے پر اظہارِ افسوس کیا۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومت سندھ عدالتوں کا احترام نہیں کرتی۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ 4 ماہ پہلے ایک نے کہا کہ واٹر کارپوریشن خود مختار ادارہ ہے، حکومت سندھ کا کوئی لینا دینا نہیں، جب عدالت نے حکم امتناع جاری کیا تو افسران کو بچانے کیلیے حکومت سندھ کے وکلاء پہنچ گئے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے متعلق سندھ حکومت کے رویئے میں فرق محسوس ہوتا ہے۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ چند دنوں میں سنایا جائے گا۔ عدالت نے دونوں افسران کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر حکم امتناع میں توسیع کردی۔