
تحریر: سہیل دانش
کمال اظفر ایک سچے اور بھرپور پاکستانی تھے۔ سوچ و فکر کے انسان تھے۔ انہوں نے زندگی کا ہر لمحہ بھرپور انداز سے گزارا۔ وہ ایک سیاسی دانشور تھے سیاست کے ساتھ مضمون نویسی اور وکالت کے میدان کے شہسوار تھے اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ اپنی 95 سالہ زندگی کا ہر دور انہیں ایسے ازبر تھا جسے سُن کر اُن کی یادداشت کی پختگی پر رشک آتا تھا۔ بچپن کی شرارتوں سے گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں متحرک کردار آکسفورڈ جیسی قانون کی اعلیٰ درسگاہ میں گزرے شب و روز، سیاست سے لگاؤ اور اُس کے چونکا دینے والے نشیب و فراز سے آگاہی کی جستجو، بھٹو صاحب سے رفاقت اور پیپلز پارٹی سے وابستگی، گورنر ہاؤس میں گزرے دنوں کی یادیں سیاست کے اسرار و رموز،




سیاستدان کے بدلتے رنگ، حکمرانوں کے انداز لیکن یہ بات پورے یقین سے کہتے تھے کہ ہم دراصل سبق حاصل کرنے والی قوم نہیں ہیں۔ جب کبھی نوکیلے سوالات سے اُن کے ذہن کو ٹٹولنے کی کوشش کرتا تو اندازہ ہوتا کہ وہ پیٹ پر سے کپڑا اُٹھانے میں بھی محتاط رہتے۔ لیکن سیاسی اور قانون تاریخ کے بعض فیصلہ کُن موڑ پر اُن کے دِل پر جو گزری وہ بلا جھجک بیان کرجاتے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان پر اُن کا نقطہ نظر بڑا واضح تھا۔ ایک دِن جذباتی انداز میں بتارہے تھے کہ اُس وقت اسلام آباد کے غیر سیاسی حکمران حلیج بنگال کے سیلاب سے لے کر مجیب کی سیاسی آندھی سے صرف انتظامی اور عسکری انداز سے نبردآزما رہے۔ اُنہیں سانحے سے پہلے اُبلنے والے سیاسی لاوے کی حدت کا انداز نہ ہوسکا۔ وہ ایک دانشور کی طرح کہتے تھے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا درحقیقت ہماری تاریخ کا المیہ ہی یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخلاقی، قانونی اور انسانی روایات دم توڑرہی ہیں۔ یہاں پر رعایا حیران و پریشان بھی ہے اور گُم سُم بھی ہمارے ہاں ہمیشہ سے اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیات زمینی حقائق سے نابلد ہیں ہم سمجھ نہیں پارہے کہ ہم کس منزل کے مسافر ہیں اور ہم اپنی قومی تاریخ میں کیا رقم کررہے ہیں۔ ہماری سیاست میں بالغ النظری اور سوجھ بوجھ کا قحط الرجال ہے، اِس لئے ہم ایک سرے کو ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے مجھے اُن کے ساتھ گپ شپ کرنے میں بڑا مزا آتا تھا۔ اُن کی اقامتگاہ حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے سامنے تھی۔ ممتاز بھٹو ایک عرصے تک اُن کے پڑوسی رہے۔ لیکن اتنی قربت کے باوجود دونوں کا طرز فکر مختلف تھا۔ ممتاز بھٹو کہتے تھے۔ سندھ میں بہت سی لسانی اکائیاں بستی ہیں لیکن سندھی سندھ کے اصل وارث ہیں۔ مشرف کے دور میں کمال اظفر کا خیال تھا کہ اِس دور میں سندھ کی انتظامی اور سیاسی کنٹرول کی “Master Key” اُردو بولنے والوں کے ہاتھ میں ہیں پھر الطاف بھائی کا شکوہ بے معنی لگتا ہے۔ ممتاز بھٹو کہا کرتے تھے کہ ہم دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر خود کو قدآور سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ کمال الدین اظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے یہ تصور بہت اچھا ہے “سب اچھا ہے” “ہر چیز کنٹرول میں ہے” اور “میری سوچ حرفِ آخر ہے” لیکن ہم یہ نہیں سمجھ پارہے کہ 70 سے زائد سال سے ہم یہ گنگناتے ہوئے اپنا ہی نقصان کربیٹھے ہیں ہاں کمال اظفر اور ممتاز بھٹو میں ایک بات مماثل ہے دونوں نے 90 سال سے زیادہ زندگی کا چہرہ دیکھا۔ اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ بے مثال خوبیوں کے مالک کمال اظفر کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین۔
کمال اظفر کا سفر زندگی تمام ہوا!























