
کراچی کے جمشید روڈ پر 5 سالہ بچے کی موت: میئر کراچی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں؟
جمشید روڈ پر ایک المناک واقعے میں 5 سالہ بچا کھلے مین ہول میں گر کر ہلاک ہو گیا، جس نے شہریوں کے غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ واقعہ شہر میں بنیادی سہولیات کی بدترین حالت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں کھلے مین ہولز اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں روزانہ حادثات کا سبب بن رہی ہیں۔ شہریوں کا سوال ہے کہ اگر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کریں، تو پھر کون ان بدقسمت واقعات کی ذمہ داری لے گا؟
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر الزام ہے کہ وہ شہر کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنی سیاسی مصروفیات میں زیادہ مگن ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین کو خوش کرنے کے لیے ٹینس کھیلنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ شہر کی تباہ حال سڑکیں، نکاسی آب اور کھلے مین ہولز ان کی ترجیح نہیں ہیں۔ شہریوں کا اعتماد میئر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی سے مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر میئر کراچی ان مسائل کو حل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، تو پھر شہر کی بدحالی کا ذمہ دار کون ہے؟ بلدیاتی نظام کی ناکامی اور مختلف اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کی کمی کے باعث کراچی کے مسائل دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی کے قیادت کو اس صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے اور جیمشید روڈ کے اس واقعہ پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بنیادی سہولیات کی بحالی اور مین ہولز کو ڈھانپنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر میئر اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے، تو ایسے المناک واقعات بار بار ہوتے رہیں گے۔ عوام کی ناراضگی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ میئر کراچی اور ان کی انتظامیہ کے خلاف احتجاجی اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر اعلیٰ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین کو چاہیے کہ وہ کراچی کی صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور میئر کراچی کی ناکام کارکردگی پر کارروائی کریں۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ حکومتی ذمہ داری ہے، اور اگر موجودہ انتظامیہ اس فرض کو پورا کرنے میں ناکام ہے، تو فوری تبدیلیاں لانی چاہئیں۔ جیمشید روڈ کے معصوم بچے کی موت ایک المیہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
پانچ سالہ معصوم بچہ اپنے بھائی کے ہمراہ سبزی لینے گیا تھا واپسی پر جمشیدروڈ پر کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوگیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمشیدروڈ پر کھلے مین ہول میں گرکر معصوم بچہ جاں بحق ہوگیا،بچہ اپنے بھائی کے ہمراہ سبزی لینے گیا تھا واپسی پر حادثہ رونما ہوگیا، رضا کاروں نے بچے کی لاش گٹر سے نکالی، سانحہ پر ورثا اور علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور احتجاجاً لاش رکھ کر سڑک بند کر دی، بعدازاں پولیس نے مذاکرات کے بعد ٹریفک کھلوا دی۔ تفصیلا ت کے مطابق جمشید کوارٹرز تھانے کی حدود جمشید روڈ نمبر ایک پی ایس او پمپ کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر 5 سالہ معصوم بچہ جاں بحق ہوگیا،واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی اور اپنے طور پر بچے کو گٹر کے مین ہول نکالنے کی کوشش کی ،اطلاع ملنے پرپولیس اور فلاحی ادارے کے رضا کار بھی موقع پرپہنچ گئے،بعدازاں رضا کاروں نے بچے کی لاش گٹر سے نکالی، بچے کی لاش کو دیکھ علاقہ مکین مشتعل ہوگئے، اس دوران مکینوں اور ورثاء نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج بھی کیا، اس موقع پر مکینوں میں سخت غم غصہ پایا گیا، بعدازاں مذاکرات کے بعد سڑک ٹریفک کیلئے کھلوا دی گئی، بچے کی لاش ضابطے کی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔























