
میری پہچان پاکستان
پریس ریلیز
ہم ایک ہیں ہم جاگ چکے ہیں۔ ہم اپنے وطن فوج اور اپنی پہچان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت، میڈیا ہاؤس، ہر عوامی نمائندے سے میں اپیل نہیں تقاضا کرتا ہوں کہ آپ اپنی پوزیشن واضع کریں۔ اگر آپ فوج کے ساتھ نہیں تو حقیقت میں آپ دشمن کے بیانیہ کے ساتھ ہیں۔ یہ وقت غیر جانبداری کا نہیں یہ وقت آئینے میں دیکھ کر فیصلہ کرنے کا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں؟ انکے ساتھ جو نفرت، آگ اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔ یا انکے ساتھ جو ہر محاذپر پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تاریخی خطاب

کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل) سابق گورنر سندھ و روح رواں ایم پی پی ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں افواج پاکستان کے ساتھ یوم یکجہتی کا دن میری پہچان پاکستان کے پلیٹ فارم سے محض ایک تقریب نہیں قومی عزم کا اظہار ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب الفاظ سے زیادہ جذبات بول رہے ہیں۔ ہر چہرہ پر ہر دل پر نگاہ یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم ایک ہیں ہم جاگ چکے ہیں۔ ہم اپنے وطن فوج اور پہچان کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے یہ بات نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایم پی پی کی جانب سے یوم یکجہتی و تشکر کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہیں پاکستان آرمی کا سب سے اعلی رتبہ ملا۔ یہ صرف ایک سرکاری اعزاز نہیں بلکہ ہر وفادار پاکستانی کے لئے فخر کی علامت ہے یہ رتبہ ان تمام قربانیوں کا اعتراف ہے۔ جو ہماری افواج نے دی ہیں۔صرف جنگوں میں نہیں بلکہ ہر موقع پر ہر حالت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس انداز سے ملک کے اندر اور باہر کے دشمنوں کا سامنا کیا۔ پیشہ وارانہ، انداز، دردمندی، اور عوام کے ساتھ جڑے رشتے کو برقرار رکھا۔ وہ ہر پاکستانی کے لئے ہمت اور یقین کا باعث بنا۔ آج پاکستان مختلف چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے پاس ایسی قیادت موجود ہے۔ جو صرف محاذ پر نہیں بلکہ ہر سوچ میں راہنما ہے۔ ایئر چیف مارشل کو بھی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے پاک فضائیہ کو ایک ایسی طاقت میں ڈھالا جو نہ صرف ٹیکنالوجی میں آگے ہے بلکہ حکمت عملی، تربیت اور پیشہ وارانہ معیار میں دنیا کی بہترین فضائی افواج کے برابر ہے۔ انکی قیادت کا عکس ہم نے اسوقت دیکھا جب پاکستان نے دشمن کے فضائی علاقوں میں صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ دنیا حیران رہ گئی۔ پاک فضائیہ کی بلندی میں انکا کردار بےمثال ہے۔ چیف آف نیول اسٹاف کا تزکرہ بھی کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ سمندری محاذ جسے اکثر لوگ نظر انداز کردیتے ہیں وہاں پاک بحریہ کی تیاری، نظم وضبط، حکمت عملی، اور وہ قوت جس سے انہوں نے سمندری سرحد کی حفاظت کی۔ وہ بھی کسی مثال سے کم نہیں۔ بھارت کے وار گیمز اور سی ایکسر سائزر کے مقابلے میں پاک نیوی کی موجودگی ایک بہترین دفاعی طاقت کے طور پر سامنے آئی۔ آج کا پاکستان ایک نیا میدان جنگ ہے دشمن اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں۔ بھارت نے اب ایک نیا محاذ کھولا ہے۔ وہ براہ راست جنگ کے بجائے پراکسی عناصر، جھوٹی خبروں میڈیا کے زریعے ذہنی سازشوں اور داخلی تقسیم کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ انکا یہ منصوبہ ہے کہ پاکستان کے اندر بدگمانی، بے چینی اور بد اعتمادی کا ماحول پیدا کیا جائے۔ عوام کو فوج سے دور کیا جائے۔ نوجوانوں کو وطن سے بد ظن کیا جائے ہر پاکستانی کو شک میں مبتلا کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پوسٹس، جعلی این جی اوز کا نیٹ ورک پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے میں مصروف ہے۔ا نہوں نے کہا کہ آپ سب نے EU Disinfolab کی وہ رپورٹ دیکھی جس میں بھارتی ایجنسیوں نے 750 سے زائد جعلی ویب سائٹس اور این جی اوز بنائیں۔جو ہر فورم پر پاکستان کے خلاف جھوٹ پھیلا رہی تھیں۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کا راستہ کھولا۔ بلوچستان میں انہوں نے ایسے گروہوں کو فنڈ کیا۔ جو ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔کلبھوشن یادیو کا معاملہ سب کے سامنے ہے ایک با وردی بھارتی افسر جو پاکستان میں را کی طرف سے تعینات تھا۔ یہ کوئی سازش یا مفروضہ نہیں بلکہ خود اسکا اعتراف ہے کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردوں کو فنڈنگ کرتا تھا۔ یہ بھارت کا اصل چہرہ ہے۔ آج بھارت کے اندر ایک انتہا پسند حکومت کھلے عام پاکستان کے خلاف جنگی زبان استعمال کر رہی ہے۔ یہ محض الفاظ نہیں۔ یہ ایک منظم حکمت عملی ہے۔ ایک تزویراتی حملہ ہے۔ ڈاکٹر عشرت العبادخان نے بھارت کو واضع پیغام دیا کہ ہم نفرت کا مقابلہ محبت کی سچائی سے کرتے ہیں۔ہم فساد کے طوفانوں کا مقابلہ اتحاد سے کرتے ہیں۔ہم اپنی افواج کے ساتھ صرف اس لئے نہیں کھڑے کہ وہ ہماری حفاظت کرتی ہے۔ بلکہ اس لئے ہیں کہ وہ ہماری پہچان ہیں۔ ہماری عزت ہے۔ہمارا فخر ہے۔ ہم دشمنوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی طاقت صرف اسکے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اسکے عوام کے اتحاد میں ہے۔ جس دن پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کی اسی دن ”میری پہچان پاکستان“ کے کارکن سب سے پہلے باہر نکلے۔ ریلی کراچی سے شروع ہوئی۔ کراچی پریس کلب پہنچی ہزاروں لوگ خود آئے۔ یہ آواز دلوں سے نکل کر سڑکوں پر آئی۔ ہر ایک نے کہا دشمنوں کو جواب دینا ہے۔ انہوں نے ہر سیاسی جماعت، میڈیا ہاؤس، ہر عوامی نمائندے سے کہا کہ میں اپیل نہیں تقاضا کرتا ہوں کہ آپ اپنی پوزیشن واضع کریں۔ اگر آپ فوج کے ساتھ نہیں تو حقیقت میں آپ دشمن کے بیانیہ کے ساتھ ہیں۔ یہ وقت غیر جانبداری کا نہیں۔ یہ وقت آئینے میں دیکھ کر فیصلہ کرنے کا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں؟ انکے ساتھ جو نفرت، آگ اور انتشار پھیلا رہے ہیں یا انکے ساتھ جو ہر محاذ پر پاکستان کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ میری پہچان پاکستان کا ہر سپورٹر، رضا کار، ہر سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک ہی پیغام دے رہا ہے کہ ہم پاکستان کے بیانیہ کے محافظ ہیں۔ ہم آواز پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہیں۔ ہم کسی سیاست یا ذاتی شناخت کے لئے نہیں صرف اپنے وطن اپنے پرچم کے لئے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔ہماری فوج صرف بارڈر پر نہیں ہر بحران میں سب سے آگے ہوتی ہے۔ چاہے سیلاب ہو زلزلہ ہو یا دہشت گردی ہر موقع پر پہلے فوج قدم بڑھاتی ہے۔ ہم اسی فوج کی اخلاقی بنیادہیں۔ جب وہ لڑتے ہیں ہم دعائیں کرتے ہیں جب وہ قربانی دیتے ہیں ہم انکی دلوں سے عزت اور ان پر فخر کرتے ہیں۔ جب بھارت پروپیگنڈہ کرتا ہے ہم سچائی کی دیوار بن جاتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی ورکرزکے حوصلوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل پر فخر کا اظہار کیا۔ کراچی تا خیبر ایم پی پی کے ورکرزکی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے نعرے لگائے۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔افواج پاکستان پائندہ باد۔۔۔میری پہچان پاکستان۔۔تقریب سے ڈاکٹر واجد مغل، صائمہ نور، پاسٹر افضل بھٹی، ڈاکٹر سرفراز راول، علی حسن نقوی، اعجاز شیخ، مجیب الرحمان کیانی، بسم اللہ شریف، ڈاکٹر خالد چوہدری (ڈائریکٹر سی ڈی اے، پیر عظمت سلطان (سجادہ نشین بنوری)، ڈاکٹر طورت نے خطاب کیا۔ شاہد چشتی، فاطمہ مقبول نے تلاوت اور نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ تقریب میں قومی پرچم لہرا رہے تھے اور قومی نغمے پیش کئے گئے۔ افواج پاکستان زندہ باد۔ میری جان میری آن۔پاکستان، ڈاکٹر عشرت العباد۔۔۔زندہ باد۔۔میری پہچان پاکستان اور پاکستان سے عقیدت اور افواج سے عقیدت کے دلفریب مناظر پیش کئے گئے۔
جاری کردہ:
مرکزی میڈیا سیل
میری پہچان پاکستان























