
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کو جاگنے کا وقت آگیا! کیا پرندوں کے حادثات کا خطرہ نظرانداز ہو رہا ہے؟
عید الاضحیٰ کے موقع پر ہوائی جہازوں سے پرندوں کے ٹکراؤ کا خدشہ بڑھ گیا
عید الاضحیٰ کے موقع پر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی پرندوں کے ہوائی جہازوں سے ٹکراؤ روکنے کی تیاریاں سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔ ماضی میں پرندوں کے ہوائی جہازوں سے ٹکرانے کے سنگین واقعات، بشمول 2019ء کا ایک قریب المرگ حادثہ، ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر چکے ہیں۔ خبردار کیا جا رہا ہے کہ پی اے اے کا پرندوں کے انتظام کے لیے موثر حکمت عملیوں کا فقدان ہوائی سفر کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
لاپروائی کا تسلسل؟
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پی اے اے بارہا کی گئی تنبیہات اور واقعات کے باوجود پرندوں کے حادثات روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی۔
ایک ایوی ایشن ماہر کا کہنا ہے: “یہ ایک ٹائم بم ہے۔ پی اے اے کی غفلت انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہیں جاگنا ہوگا اور اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔”
ناکافی پرندوں کی روک تھام کی حکمت عملی
پی اے اے کے اندرونی ذرائع کے مطابق، ادارے کی پرندوں کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملیاں ناکافی اور غیر موثر ہیں۔ ایک پی اے اے اہلکار کا اعتراف: “ہمارے پاس ہوائی اڈوں کے اردگرد پرندوں کو کنٹرول کرنے کے لیے وسائل یا مہارت نہیں ہے۔ ہم پرانے طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں اور بہتر کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔”
عید الاضحیٰ: خطرے کا بڑھتا دور
6 جون 2025ء کو عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی موجودگی ہوائی اڈوں کے قریب پرندوں کی تعداد بڑھا دیتی ہے، جس سے ہوائی جہازوں سے پرندوں کے ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
فوری اقدامات کی اپیل
ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز پی اے اے پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر پرندوں کے حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
ایک ماہر کا مطالبہ: “پی اے اے کو بین الاقوامی معیارات اپنانے چاہئیں، جدید پرندوں کی روک تھام کے نظاموں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، اور اپنے عملے کو تربیت دینی چاہیے۔ اس سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں۔”
کیا پی اے اے انتباہ پر عمل کرے گی؟
عید الاضحیٰ کے قریب آتے ہوئے سب کے ذہن میں یہ سوال ہے: کیا پی اے اے آخرکار پرندوں کے حادثات روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی، یا وہ اپنی لاپروائی جاری رکھے گی اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی رہے گی؟ وقت ہی بتائے گا۔
ایسے ہی میں واقع پر حادثات سے بچاؤ کے لیے کچھ سوالات کتنی طور پر لوگوں کے ذہن میں اتے ہیں اور یہ سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ کیا پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے متعلقہ حکام نے ورلڈ ہیزرڈ کنٹرول کمیٹی قائم کی ہے اس کے سربراہ اور ممبران کون کون ہیں اور مختلف ایئرپورٹس پر ان کا کیا کردار ہے اس کمیٹی کے اجلاس کب منعقد ہوئے اور انہوں نے کیا کیا تجاویز پیش کی کیا مختلف ایئرپورٹس پر سول ضلعی اور ماحولیاتی اداروں کے نمائندوں کے اجلاس منعقد کیے گئے اور انہوں نے پرندوں سے بچاؤ کے لیے جامعہ حکمت عملی وضع کی یا نہیں ؟ اس حوالے سے منعقدہ اجلاس کا ایجنڈا کیا تھا اور ان کے منٹس میں کیا طے پایا ؟ ایئرپورٹ کے راستوں سے احساس علاقوں سے کوڑا کرکٹ ہٹانے پرندوں ڈرونز اور ہوائی فائرنگ جیسے خطرات پر قابو پانے کی تجاویز پیش کی گئی تھی یا نہیں ؟ اگر پیش کی گئی تو پھر ان پر عمل درامد کی صورتحال کیا ہے فلائٹ سیفٹی افیسرز کا کردار کیا ہے انہوں نے اب تک کے اقدامات کیے ہیں کیا مختلف ایئرپورٹس پر برڈ شوٹرز برڈ ریپلی ایلینٹ سسٹمز اور ڈیسٹنگ فوگنگ اور برڈ میپنگ جیسے اقدامات پر غور کیا گیا ہے کچھ کام ہوا ہے یا نہیں یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ضلعی سطح پر اور صوبائی سطح پر مطالقہ حکام کے تعاون اور رشتہ رات سے کوئی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں اور وہاں پر شعور اور اگاہی کو وہ جا کر کرنے کے لیے کیا تجاویز دی گئی اور کیا اقدامات ہوئے اور ان کے نتائج کیا نکلے کیا پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹیز نے اس حوالے سے اخبارات ٹی وی چینلز سوشل میڈیا نیوز ویب سائٹس مساجد میں اعلانات اور پمفلٹس کے ذریعے جانوروں کی الائشیں مناسب جگہ پر پھینکنے کی ترغیب دی یا نہیں اور کیا پی اے اے نے اس حوالے سے کوئی حکمت عملی بنا رکھی ہے کہ مختلف حساس علاقوں سے الائشوں کی فوری صفائی اور چونا چھڑکاؤ وغیرہ کے کاموں میں کتنی تیزی لائی جائے گی اور اس میں کون کیا کردار ادا کرے گا ماہرین بتاتے ہیں کہ ایک پرندہ بھی تیارے کا انجن تباہ کر سکتا ہے جو کہ ایک سنگین خطرہ ہے اور اس لحاظ سے ہر ممکن حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا پی اے اے کی ذمہ داری ہے
























