
ون پوائنٹ
نوید نقوی
=========

الحمدللہ ہم دنیا کے ان نو ممالک میں شامل ہیں جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں۔ وطن عزیز کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ 57 مسلم ممالک میں واحد ایٹمی طاقت ہے۔ پانچ اور چھ مئی کو بھارت کے ساتھ شروع ہونے والی جھڑپوں میں پاکستان کی مسلح افواج نے جس اعتماد اور قوت کے ساتھ بھارتی فوج کو ہر میدان میں شکست دی، بلاشبہ یہ اعتماد قوم کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے تھا۔ بھارت سمیت پاکستان کے تمام دشمن اچھی طرح یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان روایتی فوجی طاقت کے لحاظ سے دنیا بھر میں چند ممالک کی صف میں شامل ہے جن کے پاس جدید ترین فضائیہ اور نیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور بری افواج کا لشکر بھی ہے جو خطرناک اور مہلک ہتھیاروں سے لیس ہے۔ لیکن اس تمام طاقت کے باوجود پاکستان کا نیوکلیئر پاور ہونا اس کو ناقابل تسخیر بناتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جو سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد برسراقتدار آئے تھے اور جنہوں نے پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ بھٹو جانتے تھے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے جس کے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں ہے۔ روایتی اسلحے کے مقابلے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پاس گیم چینجر ہتھیار کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سنہ 1973 میں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلے میں انھوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کرتے ہوئے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان لے آئے۔ وطن عزیز کے سائنس دانوں نے کہوٹہ کی تجربہ گاہ میں سنہ 1976 میں یورینیم کی افزودگی کا کام شروع کیا اور ان کی شبانہ روز کی محنت اس وقت رنگ لائی جب سنہ 1982 تک وہ 90 فیصد یورینیم افزودگی کے قابل ہو گئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنسدانوں نے سنہ 1984 میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔ اب پاکستان اس انتظار میں تھا کہ مناسب وقت آنے پر دنیا کو بتایا جائے کہ الحمدللہ۔۔۔ آخر کار مئی سنہ 1998 میں جب انڈیا نے جوہری تجربات کیے تو پاکستان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان نے بھی 28 مئی کے تاریخی دن کو صوبہ بلوچستان کے علاقے چاغی میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے دشمنوں کو سکتے میں ڈال دیا۔ اس طرح پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ پاکستان کے نوجوانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ جوہری پروگرام بیشک ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا لیکن آنے والے تمام حکمرانوں نے اس پروگرام کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ ان کی بیٹی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام بھی پاکستان کو تحفے میں دیا تاکہ وطن عزیز کا دفاع مضبوط اور مستحکم ہو جائے۔ حکمرانوں نے اپنا تعاون جاری رکھا لیکن اس عظیم کارنامے کا سہرا بلا شبہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے کو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے نیدرلینڈز میں اپنی اعلیٰ پائے کی جاب چھوڑی اور طویل عرصے تک پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ڈاکٹر صاحب 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔ آپ نسلاً اورکزئی پٹھان تھے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان سمیت دنیا کی تاریخ کے وہ وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں، جنھوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصے میں انتھک محنت و لگن کیا ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ 28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں چھ دھماکے کیے تو نہ صرف پاکستان میں ان کو ایک عظیم ہیرو کا درجہ ملا بلکہ سعودی مفتی اعظم نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا۔ انھیں دو مرتبہ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشانِ امتیاز دیا گیا۔ پہلے چودہ اگست 1996 کو صدر فاروق لغاری اور پھر 1998 کے جوہری دھماکوں کے بعد اگلے برس 1999 میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے انھیں اس اعزاز سے نوازا۔ اس سے قبل 1989 میں انھیں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔ ایران سے لے کر مراکش تک امت مسلمہ نے پاکستان کے ایٹم بم کو اسلامی بم کہا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی پوری اسلامی دنیا کو پیغام دیا کہ ہم نے اسلام کے عظیم قلعے، پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان سے عشق کرتے تھے اس لیے ان کی زندگی کا ایک مقصد تھا کہ پاکستان کو ناقابل تسخیر اسلامی قلعہ بنانا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ آج پاکستان ایک ایٹمی پاور ہے اور دنیا بھر کے تمام مسلمان اس پر فخر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے عظیم کارنامے کی بدولت پاکستان مسلم امہ کا لیڈر بننے میں کامیاب ہوا ہے اور آنے والے وقتوں میں پاکستان کا شمار انشاء اللہ تعالیٰ عالمی قوت کے طور پر ہوگا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کیا جائے گا کہ انہی کی بدولت آج وطن عزیز مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے۔ ڈاکٹر صاحب 10 اکتوبر 2021 کو 85 سال کی عمر میں پوری پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ کر اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کا نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کیا گیا۔ آئیں مل کر ڈاکٹر صاحب کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں، وہ محسن پاکستان تھے، وہ سچے عاشق پاکستان تھے۔ وہ پوری پاکستانی قوم کے محسن تھے۔ ہم ان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے























