
یاسمین چانڈیو۔۔
یہ ملک خود کو “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کہتا ہے۔ مگر کیا واقعی یہ ملک اسلامی ہے؟ اگر اسلام انسانیت، محبت، خلوص اور معصومیت کا نام ہے، تو پھر مدارس میں معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ عمل کس دین کی عکاسی کرتے ہیں؟ کیا ایسے “اساتذہ” کو مولوی کہنا نہ صرف اس لقب کی توہین نہیں، بلکہ اسلام کی بھی بےحرمتی نہیں ہے؟ کیا ایسے مدارس کو بند نہیں کر دینا چاہیے جہاں تعلیم کی جگہ جبر، تربیت کی جگہ تشدد، اور دین کی جگہ دہشت دی جا رہی ہو؟
مدرسہ: جہاں قرآن کی تعلیم دی جانی چاہیے، وہاں آج ظلم کا ورد ہو رہا ہے۔ حالیہ افسوسناک واقعہ پنو عاقل سے تعلق رکھنے والے مجیب الرحمان کلہوڑو کے ساتھ کراچی کے ایک مدرسے میں پیش آیا، جہاں اس بچے کے ساتھ زیادتی کی گئی اور پھر بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔ ایسے واقعات کبھی میرپور خاص، کبھی راولپنڈی، تو کبھی لاڑکانہ سے سامنے آتے ہیں۔ مگر کیا کسی مجرم کو عبرتناک سزا ملی؟ کیا کبھی کسی مدرسے کو بند کیا گیا؟
اعداد و شمار کے مطابق “ساحل” نامی تنظیم کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں صرف اس ایک سال میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 4,253 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 55 واقعات مدارس میں پیش آئے۔ اور یہ صرف وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ ہزاروں ایسے واقعات ہیں جو یا تو غریب والدین کے خوف کی وجہ سے دبا دیے گئے، یا پھر مولویوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس رپورٹ ہی درج نہ ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ مدارس میں ہزاروں بچے ایسے وحشی اساتذہ کے حوالے کیے جاتے ہیں جن کے پاس نہ تربیت ہوتی ہے، نہ انسانیت۔ ان پر کوئی قانون بھی لاگو نہیں ہوتا۔ “اے پی نیوز” کی ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان کے مختلف مدارس میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بیشتر کیسز میں نہ کوئی گرفتاری ہوئی، نہ سزا۔ یہ صرف قانون کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی بھی غفلت ہے۔
مفتی عزیز الرحمان جیسے مولوی، جن پر ویڈیو ثبوت موجود ہوں، وہ بھی چند مہینوں میں ضمانت پر آزاد گھومتے ہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور، اور سکھر کے کئی مدارس سے 2015 سے 2023 تک 178 سے زیادہ زیادتیوں کے کیسز رپورٹ ہوئے، مگر صرف 9 میں سزا ہوئی، اور ان میں بھی بیشتر میں یا تو ثبوت نہ ہونے یا صلح کے بہانے مجرم چھوٹ گئے۔ یہ واضح ہے کہ یہ نظام ظالم کے لیے محفوظ ہے، مظلوم کے لیے نہیں۔
2019 میں وفاقی حکومت نے “ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن” (DGRE) قائم کیا، نیت یہ تھی کہ ملک کے تمام مدارس رجسٹر ہوں گے، لیکن 2025 تک صرف 5,000 مدارس رجسٹر ہوئے، جبکہ ملک میں مدارس کی تعداد 35,000 سے بھی زیادہ ہے۔ باقی مدارس کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ یعنی ہزاروں مدارس میں کون کیا پڑھاتا ہے؟ بچوں سے کیا سلوک ہوتا ہے؟ حکومت کو کچھ معلوم نہیں۔
یہ ملک اسلامی ہے، یا استاد کی شکل میں چھپے درندوں کی جنت؟ کیا ہم اسلام کے نام پر چلنے والے ان اداروں میں قرآن پڑھانے کی آڑ میں ہونے والے ظلم کو نظرانداز کر سکتے ہیں؟ کیا ایسے اساتذہ کو “عالم” کہہ دینا ان کے گناہوں کا کفارہ ہے؟ اسلام تو بچوں پر نرمی، شفقت، اور تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: “وہ ہم میں سے نہیں جو بچوں پر رحم نہ کرے۔” تو پھر یہ مولوی ہم میں سے کیسے ہو سکتے ہیں؟
اکثر وہ بچے غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے پاس اسکول کا خرچ نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ دین سیکھے گا، مگر بدلے میں ان کا بچہ لاش بن کر لوٹتا ہے۔ کراچی، حیدرآباد، لاہور، کوئٹہ، ملتان — کوئی شہر محفوظ نہیں۔ “فرنٹ لائن ڈیٹا” کے مطابق، سندھ میں 2023 کے دوران 160 بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 23 مدرسوں میں پیش آئے۔ بلوچستان میں بھی زیادتی کی رپورٹس کے باوجود کسی مدرسے کو بند نہیں کیا گیا۔
وہ سیاستدان جو مسجدوں میں اگلی صف میں کھڑے ہونے کے شوقین ہیں، ان میں سے کسی نے ایسے مدرسے کو بند کرانے کا مطالبہ کیا؟ کسی جج، کسی وفاقی وزیر، یا کسی عالم دین نے ان مولوی درندوں کے خلاف آواز بلند کی؟ نہیں! کیونکہ دین کے نام پر کوئی سوال کرنا منع ہے۔ لگتا ہے جیسے اسلام ان کی جاگیر ہے۔
یہ کہنا تکلیف دہ ضرور ہے، مگر سچ ہے: وہ مغربی ممالک جنہیں ہم “کافر” کہتے ہیں، وہاں بچوں کے تحفظ کے لیے Child Protection Units، ہاٹ لائنز، اور لازمی رپورٹنگ کے قوانین موجود ہیں۔ اسکولوں میں سی سی ٹی وی، ریکارڈنگ، اور اساتذہ کی کسی بھی شکایت پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔ مگر یہاں اگر آپ کسی مولوی پر انگلی اٹھائیں تو آپ پر توہینِ اسلام کا الزام لگ سکتا ہے۔
یہ صرف ایک مولوی کا جرم نہیں، بلکہ پورا معاشرہ، اس کی پسماندہ سوچ، اور اندھے عقائد ذمہ دار ہیں جنہوں نے معصوم بچوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔ آج بھی لاکھوں والدین بغیر تحقیق، بغیر معلومات، صرف دین کے نام پر اپنے بچوں کو ایسے مدرسوں کے حوالے کر دیتے ہیں، جہاں نہ تعلیم ہے نہ تحفظ۔ یہ بے حسی کی انتہا ہے، جب ماں باپ خود اپنے بچے کو درندوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس صورت میں قاتل صرف مولوی نہیں، بلکہ معاشرہ بھی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ والدین کی بھی تربیت کی جائے۔ انہیں سمجھایا جائے کہ صرف “مدرسہ” لکھا ہونے سے دین نہیں ملتا۔ اگر تحفظ نہ ہو تو ایسا علم زہر ہے، علم نہیں۔ والدین کو سمجھنا ہوگا کہ اپنے بچوں کو دوسرے شہروں، اجنبی افراد، یا اندھے عقیدے کی بنیاد پر بھیجنا معصومیت کے قتل کا دروازہ کھولنا ہے۔ اپنے بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے پڑھائیں، ان کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں، ورنہ سوائے رونے کے کچھ نہ بچے گا۔
مدارس میں جو اساتذہ مقرر ہوتے ہیں، ان کی نفسیاتی جانچ، قانونی تصدیق، اور اخلاقی تربیت ضروری ہے۔ جیسے ایک درزی سے لے کر ڈاکٹر تک ہر شعبے میں تربیت اور لائسنس ہوتا ہے، ویسے ہی مولوی کے لیے بھی کیوں نہیں؟ ان کی بھی جانچ ہونی چاہیے، ان سے بھی سوال ہونا چاہیے۔
جنسی زیادتی کے کیسز کے لیے خاص قانون لاگو ہونا چاہیے، جس پر فوری اور سخت عملدرآمد ہو۔ کسی بھی معصوم کے ساتھ ظلم ہو تو مجرم کو صرف جیل نہیں، عبرت کا نشان بنانا چاہیے تاکہ کوئی دوبارہ ایسی جرأت نہ کرے۔ مدرسوں میں چوبیس گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی ہونی چاہیے، اور والدین کو ہفتہ وار ملاقات کا حق ہونا چاہیے۔ مدرسہ عبادت کا مقام ہونا چاہیے، نہ کہ کسی معصوم کی قبر کا پتا۔
اور سب سے اہم بات: جو شہری جہاں رہتا ہے، اسے اپنے بچوں کو اسی شہر میں تعلیم دینی چاہیے۔ بچوں کو کسی اجنبی شہر، اجنبی لوگوں کے حوالے کرنا، اور پھر قسمت پر چھوڑ دینا عقیدہ نہیں، جہالت ہے۔ عقیدے کو عقل سے، اور تعلیم کو تحفظ سے جوڑنا ہی معاشرے کی بقا ہے۔
اسلام کے نام پر قائم وہ مدارس جو معصومیت کی قبریں بن چکے ہیں، اب ان پر تالا لگنا چاہیے۔ ہمیں مدرسے اور درندگی میں فرق کرنا ہوگا۔ اگر صرف “اللہ” کے نام پر خاموش رہنا ہے، تو پھر اللہ ہی حساب لے گا۔ مگر اگر ہم واقعی ایک اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں ان درندہ صفت مولویوں کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی۔ کیونکہ اسلام میں ظلم دیکھ کر خاموش رہنا، ظلم میں شریک ہونے کے برابر ہے ۔۔























