اندھیرے اور ظلم کی سازباز: کے الیکٹرک — نگران سے لے کر شریکِ جرم تک

یاسمین چانڈیو۔۔۔
===========

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے باسیوں کے لیے گرمی کا موسم محض موسم نہیں بلکہ ایک عذاب ہوتا ہے۔ یہ عذاب دو طرفہ حملہ کرتا ہے: ایک طرف سورج کی جھلسا دینے والی تپش، اور دوسری طرف “کے الیکٹرک” نامی ایک نجی بجلی فراہم کرنے والا ایسا سفاک ادارہ، جو نہ صرف نااہل ہے بلکہ جان بوجھ کر ظلم کرنے والا بے حس نظام ہے — جسے ادارہ کہنا دراصل “ادارے” جیسے باعزت لفظ کی توہین ہے۔
گرمی کی شدت بڑھتے ہی کے الیکٹرک غائب ہو جاتی ہے، اور نام رکھ دیا جاتا ہے “لوڈشیڈنگ”۔ لیکن یہ محض لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی، یہ ایک مستقل نفسیاتی، معاشی اور سماجی جنگ ہوتی ہے، جس کے تیر براہِ راست عام انسان کے سینے پر لگتے ہیں۔
اگر کے الیکٹرک کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادارہ محض نااہل نہیں بلکہ بدنظمی، استحصال اور بے حسی کی علامت بن چکا ہے۔ متوسط اور غریب آبادیوں میں روزانہ 12 سے 15 گھنٹے لوڈشیڈنگ معمول ہے، جب کہ پوش علاقوں میں بجلی بلا تعطل فراہم کی جاتی ہے۔ یہ طبقاتی فرق کسی ٹیکنیکل وجہ یا لائن لاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور طبقے کی سہولت اور کمزور کی سزا ہے۔
اس کے علاوہ فیك بلنگ، اوورچارجنگ، اور میٹروں میں چھیڑ چھاڑ کے بے شمار الزامات اخباروں، سوشل میڈیا، اور عدالتوں کے ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ کے الیکٹرک کے نمائندے لوگوں کو زبردستی بل بھرنے پر مجبور کرتے ہیں، بصورت دیگر بجلی کاٹنے کی دھمکی دی جاتی ہے — یہ سب کچھ قانونی ڈاکے کی مانند ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کئی آبادیاں ایسی بھی ہیں جہاں چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹہ یا اس سے بھی کم بجلی آتی ہے، اس کے باوجود بل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں — گویا اب اندھیرے کا بھی حساب لیا جا رہا ہے۔
میں جس سوسائٹی میں رہتی ہوں، وہاں بجلی کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود میں نے سولر سسٹم اور جنریٹر کا انتظام کیا تاکہ اپنے بچوں اور گھر کی ضروریات کے لیے خود سے سہولت حاصل کر سکوں۔ مگر افسوس، کے الیکٹرک کی بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ میرے گھر کا میٹر صرف الزام کی بنیاد پر کاٹ دیا گیا — الزام تھا کہ ہم نے “کنڈا” لگایا ہے، حالانکہ موجودہ وائرنگ میں کنڈا لگانے کی تکنیکی گنجائش ہی نہیں۔
میٹر کاٹنے کے بعد ڈیڑھ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا، جو سراسر زیادتی تھی۔ کے الیکٹرک کے جبر کے آگے کوئی ٹھہر نہیں سکتا، سو مجبورن دوسرا میٹر لگوایا گیا، جو چین کا سستا اور ناقص میٹر تھا، جو بجلی کے استعمال کے بغیر بھی چلتا رہتا ہے۔ نتیجتاً ہر مہینے پچاس ہزار روپے سے زائد کا بے بنیاد بل آتا ہے، جب کہ حقیقت میں نہ بجلی ہے نہ استعمال۔
ایسا ظلم، ایسی بے انصافی شاید دنیا کے کسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں نہ ہوتی ہو۔ یہ صرف بجلی کا مسئلہ نہیں، بلکہ عزت، حق اور انصاف پر ڈاکہ ہے، جہاں عوام کو بے گناہی کی سزا دی جاتی ہے اور ادارے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے عام انسانوں کو قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔
کے الیکٹرک کے مظالم کا اثر صرف بلوں تک محدود نہیں۔ یہ نظام پورے معاشرے کی نفسیاتی اور معاشی ساخت کو جھٹکا دے رہا ہے۔ نیند کی کمی، بے آرامی، اور گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریاں، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہیں۔ اسپتالوں میں جنریٹر کی مہنگائی کی وجہ سے ایمرجنسی سروسز متاثر ہو رہی ہیں۔ بچے پڑھائی کے بجائے گرمی اور پسینے میں تڑپتے ہیں، مزدور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اور کاروباری طبقہ اس نظام کے رحم و کرم پر ہے۔
نفسیاتی طور پر لوگوں میں مایوسی، احساسِ محرومی اور اداروں سے بے اعتمادی بڑھ رہی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے درد کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ احساس معاشرے میں بے چینی، انتشار اور احتجاج کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے کان اب بھی بہرے ہیں۔
نیپرا، جسے بجلی کے نظام کا نگران ادارہ بنایا گیا تھا، دراصل عوام کی تکلیفوں کا بڑا سبب بن چکا ہے۔ یہ ادارہ صارفین کو تحفظ دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی کا بوجھ ڈالنے میں مصروف ہے۔ فیس سسٹم، یعنی بلوں میں اضافہ، نیپرا کا معمول بن چکا ہے۔ ہر مہینے فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر نئے بل جاری ہوتے ہیں، جن میں متواتر اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ اس اضافے کی بنیاد کیا ہے، اور اس کا بوجھ ہمیشہ عام آدمی پر ہی کیوں؟
لائسنس جاری کرنے کا عمل بھی سیاسی یا مالی مفادات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسے اداروں کو لائسنس دیے جاتے ہیں جو نہ تو فراہمی میں ایماندار ہوتے ہیں، نہ ہی سہولیات فراہم کرنے کے اہل۔ کیا نیپرا نے کبھی کسی کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا؟ کیا کبھی کسی کمپنی کو صارفین کے ساتھ بدسلوکی یا مسلسل لوڈشیڈنگ پر سزا ملی؟ ہرگز نہیں۔
عوامی شکایات کی تو نیپرا کے ہاں گویا کوئی حیثیت ہی نہیں۔ ہزاروں شکایات درج ہوتی ہیں، لیکن ان کا یا تو کوئی جواب نہیں، یا پھر روایتی، بے معنی اور اداروں کے حق میں گھسے پٹے جوابات۔ نیپرا کے لیے عام آدمی کی فریاد محض شور کی مانند ہے — نہ کوئی شنوائی، نہ انصاف، نہ درد۔
یہ ادارہ، جو عوام کے مفادات کا محافظ ہونا چاہیے تھا، آج استحصالی پالیسیوں کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ اس کا وجود، اس کی پالیسیاں اور اس کے فیصلے سب سرمایہ دار اداروں کے مفاد میں ہیں، جن میں حکومت میں بیٹھے بااثر افراد برابر کے شریک ہیں۔ عوام کے لیے نیپرا صرف بربادی، بے بسی اور اندھیرا لے کر آیا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ صرف کے الیکٹرک کی ناکامی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایک منظم ناانصافی کا حصہ ہے، جہاں ریگولیٹری ادارے، جیسے نیپرا، تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کے الیکٹرک کے خلاف ہزاروں شکایات کا کوئی اثر نہیں ہوتا، نہ ہی کوئی سنجیدہ کارروائی۔ نیپرا کی رپورٹس اور سماعتیں محض رسمی کارروائیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے یا تو یہ ادارے ناکام ہو چکے ہیں یا پھر مجرموں کے شریکِ جرم ہیں۔
حکومت کی طرف سے بھی کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔ کبھی خاموشی، کبھی کے الیکٹرک کے حق میں یا مخالفت میں بیانات، عوام کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ یہ ادارہ حکومت کے آشیرباد سے چل رہا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ حکومت اور نجی اداروں کے درمیان کوئی ناقابلِ قبول مفاہمت موجود ہے، جس کی قیمت عام آدمی چکا رہا ہے۔
اب ایک اور سوال اٹھتا ہے: اگر کوئی ادارہ عوام کی تکلیف کا باعث بنے تو اس کے وجود کا کیا جواز ہے؟ کیا نجکاری کا مطلب یہ تھا کہ عوام کو مزید اذیت دی جائے؟ کے الیکٹرک کی موجودگی ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقتور فائدہ اٹھاتے ہیں اور کمزور اذیت سہتے ہیں۔
ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب یا ترقی پذیر معاشرے میں ناقابلِ تصور ہے۔ فرانس، جرمنی، ناروے، یا حتیٰ کہ بنگلادیش جیسے ممالک میں بھی بجلی کی فراہمی شفاف، صاف اور صارف دوست ہوتی ہے۔ بجلی کے بل واضح ہوتے ہیں، اوورچارجنگ کا تصور نہیں۔ صارف کی ہر شکایت کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جاتا ہے، اور ادارے جواب دہ ہوتے ہیں۔
ان ممالک میں بجلی کی فراہمی صرف کاروبار نہیں، بلکہ ایک عوامی سہولت سمجھی جاتی ہے۔ جہاں نجی ادارے ہیں، وہاں سخت ریگولیشنز لاگو ہیں۔ کیا ہماری حکومت کو ایسا کوئی ماڈل نہیں اپنانا چاہیے؟
اگر واقعی حکمرانوں کو عوام کی فکر ہے تو انھیں ان بنیادی نکات پر عمل کرنا ہوگا:
کے الیکٹرک کو ریاستی کنٹرول میں لایا جائے: اگر یہ ادارہ عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے، تو اسے قومی ملکیت بنا کر ریاستی ذمے داری کے تحت چلایا جائے۔
متبادل کمیونٹی یا شہری سطح پر بجلی کے نظام قائم کیے جائیں: جیسے کہ سولر گریڈز، کوآپریٹو الیکٹرک یونٹس وغیرہ۔
نیپرا کو فعال، بااختیار اور جواب دہ ادارہ بنایا جائے: جس کے پاس جرمانے عائد کرنے، ادارے معطل کرنے یا لائسنس منسوخ کرنے کے اختیارات ہوں۔
صارف کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے، اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو عوام کی طویل خاموشی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ کے الیکٹرک کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج، سماجی تحریکیں اور قانونی جنگیں مزید شدت اختیار کریں گی — جو کہ شروع ہو چکی ہیں۔
یہ محض بجلی کا سوال نہیں — یہ قومی اثاثوں، انسانی حقوق، اور ریاستی ذمے داری کا سوال ہے۔ اگر آج ہم ان ظالم اداروں کو برداشت کریں گے، تو کل یہ ہمارے سارے حقوق ہڑپ کر لیں گے۔
جب بجلی والے لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے جھوٹے مقدمات بناتے ہیں، جرمانے عائد کرتے ہیں، میٹر کاٹتے یا تاریں کاٹتے ہیں، تو یہ سب ان کی روزانہ کی “حرام کمائی” کا حصہ بن چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: جس کے گھر چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹہ بھی بجلی نہیں آتی، اسے اتنا بڑا بل کیوں دیا جاتا ہے؟ اور بجلی کی عدم فراہمی اور بے بنیاد بلوں پر کے الیکٹرک اور اس کے سرپرست ادارے کب کٹہرے میں آئیں گے؟ اصل مجرم یہی ہیں، لیکن قانون کی گرفت ان کے گریبان تک نہیں پہنچتی۔
آخر میں سوال یہی ہے: کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اندھیرا، ناانصافی اور بے حسی پر مبنی ایک سماج چھوڑنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر اب ہی ان اداروں کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی — نہ صرف الفاظ میں بلکہ عمل کے ذریعے۔ کیونکہ ظلم کے اندھیرے سے کبھی کوئی سچا سویرا جنم نہیں لیتا۔