چار اہم نکات اور وزیراعلی سخت مایوس ، مسائل کا حل کیا ہے اجلاس میں نشاندہی کر دی دیکھیں نتیجہ کب نکلتا ہے ؟

چار اہم نکات اور وزیراعلی سخت مایوس ، مسائل کا حل کیا ہے اجلاس میں نشاندہی کر دی دیکھیں نتیجہ کب نکلتا ہے ؟

گزشتہ روز منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس میں چار نکات پر وزیراعلی بالکل مطمئن نہیں تھے بلکہ وہ فکر مند بھی تھے ناراض بھی تھے اور مایوس بھی نظر آئے ،ان کی فکر مندی ان کی ناراضگی اور ان کی مایوسی بالکل بجا تھی کیونکہ طویل عرصے سے ان کو جو لالی پاپ دیا جاتا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں عوام پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں ان چار بڑے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ تو ایم 6 کا ہے پورے ملک میں موٹرویز بن گئی ہیں اور بن رہی ہیں لیکن نہیں بن رہی تو حیدراباد سے سکھر موٹروے ۔ اس کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ سیہون اور جام شورو روڈ کی تاخیر ہے جہاں بڑے بڑے خوفناک حادثات ہو چکے ہیں اور ابھی تک یہ روڈ مکمل نہیں ہو پائی ۔ تیسری بڑی مایوسی لیاری ایکسپریس وے کے حوالے سے تھی جس پر پورٹ کا سارا ٹریفک جانا تھا سپر ہائی وے موٹروے تک لیکن وہ نہیں ہو سکا اور اب تو یہ بتا دیا گیا ہے کہ لیاری ایکسپریس وے پر ہیوی ٹریفک نہیں گزر سکتا بہت ہنگامی صورتحال میں شاید ایسا کر لیا جائے لیکن انجینئرنگ کے لحاظ سے یہ ممکن نہیں ہوگا گویا اس منصوبے نے اپنی افادیت کھو دی اور اس کے اہداف حاصل نہیں ہو سکے تو پھر اتنا پیسہ خرچ کرنے کا فائدہ کیا ہوا ۔چوتھا بڑا مسئلہ سر اپ گوٹ پر ٹریفک جام کا مسئلہ ہے کیونکہ وہاں پر سروس روڈ کی ضرورت ہے جو شہر میں انے والے ٹریفک کو ہیوی ٹریفک سے الگ کر سکے اور اس کے لیے ٹریفک انجینئرنگ کی ضرورت ہے ان چاروں اہم نکات پر گزشتہ روز ہونے والی میٹنگ میں این ایچ اے حکام اور وفاقی وزیر کے سامنے بات کی گئی مسائل رکھے گئے اور نشاندہی کر دی گئی اب دیکھنا ہے کہ نتیجہ کب نکلتا ہے کیا نکلتا ہے اور کس حد تک مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے
=======================

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ کراچی پورٹ سے موٹرویز کا ربط لازم ہے، بصورت دیگر منصوبہ ادھورا رہے گا، ایم 6 کی تعمیر وفاقی حکومت اور بینکوں کی فنڈنگ سے کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے کراچی میں ملاقات کی، جس میں ایم 6 موٹروے، نیشنل ہائی وے اور جامشورو سیہون سڑک سمیت دیگر مواصلاتی امور پر گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیرمواصلات نے کہا کہ کراچی پورٹ سے موٹرویز کا ربط لازم ہے، بصورت دیگر منصوبہ ادھورا رہے گا، موٹروے کا مقصد ابتداء سے انتہاء تک رابطہ فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم 6 کو 5 سیکشنز میں تقسیم کیا گیا ہے، 3 سیکشنز کی فنڈنگ مکمل ہوگئی، باقی پر کام جاری ہے، ایم-6 کی تعمیر وفاقی حکومت اور بینکوں کی فنڈنگ سے کی جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی سے پشاور اور لاہور تک موٹروے کا تسلسل ضروری ہے، جامشورو سے سیہون سڑک کو جلد مکمل کرایا جائے۔

جس پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ سڑک کی تکمیل کیلئے کام شروع ہوچکا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر کے ہمراہ سیکریٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

این ایچ اے نے بریفنگ میں بتایا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ میں لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کیلئے غیر موزوں قرار دیا گیا، پیک آورز میں ہیوی ٹریفک کو گزرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے، انجنیئرنگ سلوشن کے ذریعے سہراب گوٹھ پر ٹریفک جام کے مسئلے کا حل نکالنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سہراب گوٹھ پر سروس روڈ کی ضرورت ہے جس سے مقامی اور ہیوی ٹریفک الگ ہوسکے، سہراب گوٹھ پر مقامی اور پورٹ ٹریفک ساتھ چلتی ہے، ایکسپریس وے کو سہراب گوٹھ پر اتارا گیا ہے، لیاری ایکسپریس وے کا مقصد پورٹ سے ٹریفک موٹر وے پر پہنچانا تھا جو حاصل نہ ہوا۔

ABDUL ALEEM KHAN
M6
MOTORWAYS