کے الیکٹرک مافیا ہے کے الیکٹرک بے لگام گھوڑا ہے ،اراکین پارلیمنٹ کے الیکٹرک کے خلاف چپ نہ رہ سکے ،عوام کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو گیا جسے دیکھ کر اراکین اسمبلی بھی بول اٹھے ۔

کے الیکٹرک مافیا ہے کے الیکٹرک بے لگام گھوڑا ہے ،اراکین پارلیمنٹ کے الیکٹرک کے خلاف چپ نہ رہ سکے ،عوام کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو گیا جسے دیکھ کر اراکین اسمبلی بھی بول اٹھے ۔

کراچی: کے الیکٹرک کے خلاف اسمبلی اراکین اور عوام کی آواز

کے الیکٹرک مافیا ہے! کے الیکٹرک بے لگام گھوڑا ہے! یہ نعرے اب صرف عوام ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمنٹ بھی بلند کر رہے ہیں۔ کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ اور مہنگے بجلی کے یونٹس کے خلاف عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، جسے دیکھ کر اراکین اسمبلی بھی خاموش نہ رہ سکے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے کے الیکٹرک کے مسائل اٹھائے اور اسمبلی سیشن کے بعد متعدد اراکین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی اور مہنگے بجلی کے بلوں پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کو روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ بجلی کے نرخ بھی انتہائی زیادہ ہیں۔

اسمبلی اراکین کے مطابق، کے الیکٹرک کی نااہلی اور بدانتظامی کی وجہ سے شہری زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، گھریلو زندگی متاثر ہو رہی ہے، اور ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک میں بجلی کی عدم دستیابی سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔

دوسری جانب، کراچی کے عوام بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مہنگے بل ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے اور کے الیکٹرک کے خاتمے یا اس کے متبادل کے قیام کی مانگ کی ہے۔

سیاسی جماعتوں نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بجلی کی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام اور اسمبلی اراکین کی آواز پر کے الیکٹرک اور متعلقہ حکام کب تک آنکھیں بند کیے رکھیں گے۔ کراچی والوں کا صبر ختم ہو چکا ہے، اور اب وہ کسی بھی قیمت پر انصاف کا تقاضا کر رہے ہیں۔