
کراچی میں بجلی کا بحران: عوام کے لیے کراچی الیکٹرک کی بجلی قومی گرڈ سے فراہم کی جائے
کراچی (27 مئی 2025): کراچی کے مختلف علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شدید گرمی کے باوجود بجلی کی غیر مستقل فراہمی نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ چند گھنٹوں کی بجلی سپلائی نے ان کے کاروبار تباہ کر دیے ہیں، جبکہ بلند ترین بجلی کے بلوں نے معاملات کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔
کے الیکٹرک کے خلاف شدید غم و غصہ:
شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے، جس کے تحت نہ صرف بجلی کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھائی جا رہی ہیں بلکہ لوڈشیڈنگ کے نام پر عوام کو تاریکی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک شہری نے شکایت کرتے ہوئے کہا، “صبح 12 بجے بجلی چلی جاتی ہے، پھر شام 3:30 بجے آتی ہے، اور 5 بجے دوبارہ چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد رات 7:30 بجے واپس آتی ہے، لیکن اس وقت تک مارکیٹیں بند ہو چکی ہوتی ہیں۔”
قومی گرڈ سے بجلی کی فراہمی کا مطالبہ:
عوام اور سیاسی جماعتیں اب کے الیکٹرک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی کو قومی گرڈ سے براہ راست بجلی فراہم کی جائے۔ فی الحال کراچی کو قومی گرڈ سے 1100 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے، جسے بڑھا کر 1600 میگاواٹ کر دیا جائے تو شہر کو لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر نے کے الیکٹرک کو “ایسٹ انڈیا کمپنی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ عوام کا استحصال کر رہا ہے۔
احتجاجی مظاہرے اور سرکاری لاپروائی:
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی ایک میٹنگ میں کے الیکٹرک کے جھوٹ کو بے نقاب کیا گیا، جہاں عوام نے 10 سے 12 گھنٹے کی غیر مقامی لوڈشیڈنگ کی شکایات پیش کیں۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی نے بھی کے الیکٹرک کے عہدیداروں کو طلب کیا ہے، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آ رہا۔
عوامی ردعمل:
جماعت اسلامی کے زیر اہتمام تین روزہ دھرنا جاری ہے، جبکہ دیگر سیاسی و سماجی تنظیمیں بھی اس بحران کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کا خاتمہ کر کے کراچی کو قومی گرڈ سے منسلک کیا جائے، تاکہ اس شہر کو تاریکی اور مہنگائی سے نجات مل سکے۔























