ہمسائیہ جارحیت چاہتا ہے تو اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں گے، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمسائیہ جارحیت چاہتا ہے تو اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔ پاک ایران دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف دورہ ترکیہ کے بعد تہران پہنچ گئے۔ وہ تہران میں سعدآباد محل پہنچے جہاں ان کا ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے استقبال کیا۔ وزیر اعظم شہبازشریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اور تقریب میں دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی۔ شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کے لیے ایرانی صدر اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

شہباز شریف نے مشترکہ گفتگو میں کہا کہ ایران کو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ اور شاندار استقبال پر ایرانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایرانی صدر سے ملاقات مفید رہی۔ جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔ دو طرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری سمیت دیگر امور پر بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان اور ایران کے گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بہترین سفارت کار ہیں جن سے اسلام آباد میں بات چیت ہوئی۔ جبکہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ٹیلیفون کر کے خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں امن کے لیے کام کرتا رہے گا۔ امن کے لیے پانی کے مسئلے پر ہمسائیے سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اور اگر ہمسایہ چاہتا ہے تو تجارت اور انسداد دہشت گردی پر بات کرنے کو بھی تیار ہیں۔ تاہم اگر ہمسایہ جارحیت چاہتا ہے تو ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر بات کریں گے۔ اور ہم یقین دہائی کراتے ہیں کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ ہم غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ اور دنیا کو غزہ میں مکمل سیز فائر کے لیے اپنے اثروسوخ کا استعمال کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران امن اور ترقی کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ اور پاکستان پر امن مقاصد کے لیے ایران کے سول جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے دہائیوں پر محیط ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ جبکہ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر دونوں ملکوں کا مؤقف یکساں ہے۔ سیاست، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں انسداد دہشتگردی سے متعلق دوطرفہ قریبی تعاون ضروری ہے۔ جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔خطے کی ترقی اور خوشحالی امن سے ہی ممکن ہے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اہم ہمسایہ برادر اسلامی ملک ہے۔ پاکستان اور ایران علاقائی، عالمی اور اسلامی دنیا کے مسائل پر ایک مؤقف رکھتے ہیں۔

ایران پہنچنے سے قبل وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ دورہ صدر مسعود پزیشکیان کی دعوت پر کر رہا ہوں۔ اور دورے کا مقصد دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اور دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں 700 ارب روپے تک کی کرپشن ہوئی، فیصل کریم کنڈی

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران میں آزادانہ تجارت کے معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ بلوچستان اور سیستان میں اقتصادی روابط خطے کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ اور روابط دہشت گردی کے خاتمے میں بھی مددگار ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اور دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہو چکے ہیں۔ ایران نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ثالثی کی پیشکش کی۔ اور پاکستان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران کی پیشکش کو قبول لیکن بھارت نے انکار کیا۔

ٹیگز :IranShahbaz Sharif