تحصیل لیاقت پور میں امن و امان مثالی ہے، ڈی ایس پی لیاقت پور، نوید نقوی کے ساتھ خصوصی نشست

ون پوائنٹ
نوید نقوی
=========

پولیس کسی بھی معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کا ایک اہم ترین ادارہ ہے۔ جن معاشروں میں پولیسنگ کا ماٹو عوام کی خدمت ہے، وہاں نہ صرف امن ہے بلکہ جرائم نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا لوگ پولیس سے ڈرتے تھے اور اپنی جائز شکایات کے لیے بھی تھانے میں جانے سے گریز کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس صوبہ پنجاب جناب عثمان انور نے عوام اور پولیس کے درمیان گیپ ختم کر دیا ہے۔ اب پورے صوبے کے تھانے ماڈل بن چکے ہیں۔ فرنٹ ڈیسک کے قیام نے گیم چینجر کا کام کیا ہے۔ اب ایف آئی آر کے لیے لمبی چوڑی رقم اور سفارش کی نہیں، بلکہ سچ اور حق کو دیکھا جاتا ہے۔ کوئی بھی سائل بلا جھجک تھانے جا کر اپنا مسئلہ بیان کر سکتا ہے اور ہر صورت اس کی دادرسی کی جاتی ہے۔ اگر ضلع رحیم یار خان کی بات کی جائے تو اس وقت عرفان علی سموں ضلعی پولیس کے کپتان ہیں اور ان کے آنے سے جرائم میں واضح کمی ہوئی ہے۔ کچے کے ڈاکو ہوں یا پکے کے ٹھگ، انہوں نے سب کو لگام ڈالی ہے اور عوام کا اعتماد چند ہفتوں میں ہی ایک بار پھر بحال کیا ہے۔ ضلع لیول کی کارکردگی پر انشاء اللہ تعالیٰ جلد ان سے ملاقات کر کے تفصیل سے لکھوں گا کہ کس طرح انہوں نے مختصر وقت میں پورے ضلع کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے، فی الحال رحیم یار خان کی اہم ترین تحصیل لیاقت پور میں مثالی امن و امان کی بات کرتے ہیں۔ تحصیل لیاقت پور میں اس وقت ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ آف پولیس جناب فخر زمان صاحب ہیں۔ آپ ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ میں کئی بار ان کے آفس گیا ہوں اور سائلین کو کس طرح ڈیل کرتے ہیں، تفصیل سے مشاہدہ کیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کہ آپ دلیر، با اخلاق اور ایک ایماندار پولیس آفیسر ہیں۔ اپنے آفس آنے والے ہر سائل کو نہ صرف توجہ دیتے ہیں بلکہ مسئلہ فوری طور پر حل کر کے دعائیں لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں میری سمر کیمپ کے حوالے سے ماڈل ہائی سکول میں ٹریننگ تھی تو ان کو میسیج کیا کہ میں لیاقت پور ہوں، تو انہوں نے فرمایا کہ چائے میرے ساتھ لازمی پیئیں۔ خیر ان کے آفس گیا تو انہوں نے گپ شپ بھی جاری رکھی اور ساتھ ساتھ سائلین کے مسئلے بھی حل کرتے رہے۔ آپ نہ صرف اکنامکس میں ماسٹر ہیں بلکہ گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں۔ سسٹم کو بدلنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے ہر وقت ان کے چہرے پر اطمینان نظر آتا ہے۔ لیاقت پور تحصیل اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں فخر زمان جیسے قابل پولیس آفیسر موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں ہم پولیس پر کھل کر تنقید کرتے ہیں

وہیں اسی ادارے میں عوام دوست پالیسی کو اپنانے والے بہادر، فرض شناس اور قابل افسران کو بھی کھل کر سراہنا چاہیئے تاکہ جہاں ایک طرف ان کی حوصلہ افزائی ہو وہیں دوسری طرف دیگر ارباب اختیار کی توجہ بھی مبذول ہو کہ حقیقی عوامی خدمت کیسے کی جا سکتی ہے؟ فخر صاحب ایک دلیر، ذہین، معاملہ فہم، دوراندیش اور سحر انگیز شخصیت کے مالک انسان ہیں۔ بلا شبہ جہاں ان کے لبوں پر سجی دائمی مسکراہٹ نے پولیس کے جوانوں اور شہریوں کے دل جیت لیے ہیں۔ وہیں ان کے انصاف اور اعلیٰ معیار کی پولسینگ کی بدولت چور، اچکوں اور بدمعاشوں پر ہیبت طاری ہے ۔ آپ ایک پیشہ وارانہ اور محکمہ پولیس سے متعلق جدید مہارتوں کے حامل پولیس آفیسر تصور کیے جاتے ہیں۔ اپنے ماتحت افسران و اہلکاروں سے بہتر اور موثر طریقے سے کام لینے کیلئے جدت پسند خیال کیے جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آئی جی سے لے کر کانسٹیبل تک تمام پولیس افسران کو محکمہ کی عزت و وقار کو ہر وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے۔ آفیسرز اور ماتحتان میں اعتماد کی فضاء ہونی چاہیئے۔ جب ایک آفیسر اور جوان ایک دوسرے پر اعتماد اور محبت کریں گے تو ایک مضبوط ٹیم بن کر جرائم پیشہ عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کر کے ان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔ فخر زمان صاحب کہتے ہیں وہ 2001 میں بطور سب انسپکٹر پنجاب پولیس کو جوائن کرنے کے بعد ڈی ایس پی بننے تک لاہور کے مختلف تھانوں میں ایس ایچ او رہے ہیں۔ بطور ڈی ایس پی ان کی پہلی تعیناتی لیاقت پور میں ہوئی ہے اور یہاں کے شہریوں کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے تو وہ مکمل دلجمعی سے جرائم کے خاتمے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ لیاقت پور پولیس کے مورال کو بلند کرنے کے لیے اچھی کارکردگی کے حامل پولیس افسران و اہلکاران میں انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کسی بھی ریاست کے شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ انہیں پرامن ماحول فراہم کیا جائے اس لئے ہر ریاست پولیس اور دیگر فورسز کی مدد سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف متحرک رہتی ہے، اس وقت پنجاب میں امن و امان ک صورتحال دیگر صوبوں سے کہیں بہتر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ضلع رحیم یار خان میں جرائم میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے۔ ڈی پی او عرفان علی سموں صاحب نے میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہادر اور ایماندار افسروں کو ایس ایچ او تعینات کیا ہے، جن کی شبانہ روز محنت سے ضلع میں امن کا دور واپس آ چکا ہے۔ فخر زمان صاحب کہتے ہیں کہ شہریوں کو ریلیف اور ان کی شکایات کا ازالہ کر نے کے لیے وہ اپنے دفتر سمیت دیگر پولیس اسٹیشنز جا کر فوری فیصلے کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہر جگہ اور محکمے میں کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں تاہم تحصیل بھر میں ایسے کرپٹ و غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں و افسران پر میری کڑی نگاہ ہے۔ سزا کے ساتھ وہ جزا کے بھی قائل ہیں تاکہ ایماندار پولیس افسران و اہلکاروں کا مورال بلند رہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہیں۔ پنجاب پولیس نے قوم کے لیے پندرہ سو کے قریب شہداء کا نذرانہ پیش کیا ہے اور شہیدوں کے خون کی لاج رکھتے ہوئے ہر شہری کو پرامن ماحول میں زندگی گزارنے کے لیے ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم ہمیشہ اپنی عوام کی حفاظت کریں گے اور اپنے عہد کی پاسداری کریں گے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ آج وقت ہے کہ ہم پولیس کے ان محنتی اور راہِ حق کے شہیدوں کی خدمات اور خون کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں جنہوں نے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کیا اور جتنے شہداء نے جامِ شہادت نوش کیا آج تک تاریخ میں کبھی کسی نے پیٹھ پیچھے گولی نہیں کھائی بلکہ سینہ تان کر دشمن کامقابلہ کیا۔ وہ یہ بھی گلہ کرتے ہیں کہ محدود وسائل اور لامحدود مسائل کے باوجود ضلعی پولیس عوام الناس کی حفاظت اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے ہردم کوشاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ہر سپاہی کا حوصلہ بلند ہے اور وہ گلشن کی حفاظت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے