
جیل میں 660 دن مکمل ہوئے۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ: عمران خان کو 660 دن سے غیرقانونی طور پر جیل میں رکھا گیا ہے
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ 660 دنوں سے غیرقانونی طور پر جیل میں رکھا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات “سیاسی انتقام” کا حصہ ہیں اور انہیں بے گناہ ہونے کے باوجود مسلسل حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ “عدالتیں بھی عمران خان کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بین الاقوامی اور ملکی سطح پر بھی مسترد کیا جا چکا ہے، لیکن حکومت انہیں جیل میں رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی صحت کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عمران خان کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کیے جائیں۔ پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر انصاف نہیں ملا تو وہ ملک بھر میں احتجاجی مہم چلائیں گے۔
دوسری طرف، حکومتی نمائندوں نے پی ٹی آئی کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو عدالتی کارروائی کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات میں شفاف عدالتی عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے اور عمران خان کو بھی اپنے کیسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
عمران خان کو گزشتہ سال مئی میں گرافٹ کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ مسلسل جیل میں ہیں۔ پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ یہ تمام مقدمات “جعلی” ہیں اور ان کا مقصد عمران خان کو سیاسی طور پر غیرموثر بنانا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی کی تحریک عمران خان کی رہائی کا باعث بنتی ہے یا انہیں مزید عرصے تک عدالتی کارروائی کا سامنا رہے گا۔























