ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی بدانتظامی

پاکستانی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی بدانتظامی

لاہور/کراچی: پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کو انتہائی غیر محفوظ طریقے سے ہینڈل کیا جا رہا ہے، جس پر مسافروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں پر ان کے سوٹ کیسز اور سفر بیگز کو اس طرح پھینکا جاتا ہے کہ وہ خراب ہو جاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں آج کل معیاری سوٹ کیسز اور بیگز انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں۔

مسافروں کے مطابق، جب وہ اپنا سامان لینے کے لیے بیگج بیلٹ پر پہنچتے ہیں تو اکثر انہیں دیکھ کر صدمہ ہوتا ہے۔ کئی مسافروں نے شکایت کی ہے کہ ان کے سوٹ کیس کے ہک ٹوٹ گئے ہیں، کسی کے بیگ کے پہیے خراب ہو گئے ہیں، تو کسی کے کیس کا ہینڈل کام نہیں کر رہا۔ یہ مسئلہ تقریباً ہر ہوائی اڈے پر دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوائی اڈے کے انتظامیہ کو اپنے عملے کی کارکردگی پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

پی اے اے اور سی اے اے کا کردار کیا ہے؟

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) ہوائی اڈوں کے انتظام اور مسافروں کے سامان کی حفاظت کی ذمہ دار ہیں۔ تاہم، مسافروں کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح پالیسی یا احکامات نظر نہیں آتے۔ اگر سامان کو نقصان پہنچتا ہے تو کیا ایئرلائنز یا ہوائی اڈے کا عملہ اس کی ذمہ دار ہوگا؟ اس بارے میں کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

مسافروں کا مطالبہ
مسافر چاہتے ہیں کہ پی اے اے اور سی اے اے اپنے فرائض کی وضاحت کریں اور سامان کی حفاظت کے لیے بہتر انتظامات کریں۔ ساتھ ہی، اگر کسی مسافر کا سامان خراب ہو جائے تو اسے معاوضہ دیا جائے یا کم از کم اس کی مرمت کی جائے۔ ہوائی اڈوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے گراونڈ ہینڈلنگ اسٹاف کو تربیت دیں اور سامان کو محتاط طریقے سے ہینڈل کرنے کے لیے جدید سہولیات فراہم کریں۔

اگر یہ مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو پاکستانی ہوائی اڈوں کی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ مسافروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔