
The Tourism Club (TTC)
Naveed Ashraf Khan ·
سیاحت یا موت کا تعاقب ۔۔؟
رات کے دو بج چکے ہیں ۔۔۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے ۔۔شمالی علاقہ جات کی سیر پر نکلے سیاحوں کے ساتھ جب بھی کوئ حادثہ ہوتا ہے ۔۔ملک بھر کے سیاحتی حلقوں میں ایک تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔۔سانحہ سکردو گنجی پڑی ایک ایسا ہی دل دہلا دینے والا حادثہ تھا ۔۔جس میں گجرات کے چار سیاح دوست حادثہ کا شکار ہونے کے بعد ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر بعد موت کا شکار ہوئے ۔۔۔اور پھر سات دن تک ان کے اجسام کھلے آسمان تلے پڑے رہے ۔۔تلاش جاری رہی اور بالآخر ساتویں دن یہ صبر آزما انتظار ختم ہوا ۔۔۔
یہ لوگ کون تھے ؟
کہاں سے آئے تھے کہاں جارہے تھے ؟
گاڑی کون سی تھی ۔۔اخری رابطہ کب ہوا ؟
انتظامیہ کا کردار کیا تھا ؟
اس سب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔۔۔
آج کے اس مضمون میں میری کوشش صرف یہ ہوگی کہ ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ۔۔کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے حادثات سے بچنے کی کوشش کیجا سکتی ہے ۔۔
سب سے پہلے تو ڈرائیونگ ۔۔۔یاد رکھیں شاہراہ ریشم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں ۔۔جبکہ جگلوٹ سکردو روڈ اس سے بھی بڑا عجوبہ ہے ۔۔ایسے بے پناہ راستے اب شمالی علاقہ جات میں جا بجا بن چکے ہیں ۔۔۔گلگت سے چترال سڑک بن رہی ہے ۔۔شمشال کا ٹریک بذات خود ایک عجوبہ ہے ۔۔استور سڑک کا ابتدائی بیس پچیس کلو میٹر کا حصہ شدید خطرناک ہے ۔۔۔یہاں سڑکیں پہاڑوں کے ساتھ گھومتی ہوئ جاتی ہیں ۔۔سڑک خالی ہے ۔۔۔سڑک کی حالت بھی اچھی ہے ۔۔۔
گاڑی بھگانے کا جی چاہتا ہے ۔۔۔کبھی کوئ ہمسفر گاڑی بھگانے کی فرمائش کردیتا ہے ۔۔تب ساٹھ ستر کی سپیڈ پر چلتی گاڑی کے سامنے یک دم سڑک ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔اگر ڈرائیور نے سڑک پر رہنا ہے تو اسے اسی رفتار پر موڑ کاٹنا ہوگا ۔۔۔اور اگر نہ کاٹ سکا تو پھر سینکڑوں فٹ گہری کھائی یا پھر ٹھاٹھیں مارتا دریا ۔۔۔بہت شاذ و نادر ہی مواقع آتے ہیں کہ یہاں حادثہ کی صورت میں کوئ بچ گیا ہو ۔۔۔
مقامی افراد اور ڈرائیور بھی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں لیکن بہت کم ۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سینکڑوں بار ان راہوں پر سفر کیا ہوتا ہے ۔۔ایک ایک کھڈا اور ایک ایک موڑ ان کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے ۔۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار پر کس موڑ سے قابو رکھتے ہوے گاڑی موڑی جاسکتی ہے ۔۔۔مقامی افراد جب بھی حادثہ کا شکار ہونگے اس کی پچانوے فیصد وجہ اوور لوڈنگ یا حدرفتار سے زیادتی ہوگی ۔۔۔جبکہ باہر سے جانیوالے جو ان راستوں سے انجان ہوتے ہیں ان کے حادثات کی بڑی وجہ ان راہوں سے ناآشنائی ،پہاڑی راہوں پر ڈرائیونگ کی ناتجربہ کاری اور بے احتیاطی ہوا کرتی ہے ۔۔۔
بیس پچیس سال پہلے تک ان علاقوں میں صرف ناٹکو کمپنی کی بسیں چلا کرتی تھیں ۔۔۔لوگ انہی پر سفر کرکے ان علاقوں تک رسائی کیا کرتے تھے ۔۔۔سڑکوں کی حالت بہت اچھی نہیں تھی لیکن حادثات بہت کم ہوتے تھے ۔۔میں خود کئی بار ناٹکو پر سفر کرکے گلگت گیا ہوں ۔۔ڈرائیور حضرات یوں گاڑی چلاتے ہیں جیسے وڈیو گیم ہو ۔۔۔لیکن چونکہ راہیں انہیں ازبر ہوتی ہیں تو حادثات کم ہوتے ہیں ۔۔۔بہتر تو یہی ہے کہ مختلف کمپنیوں کی بسوں میں شمالی علاقہ جات جایا جائے ۔۔اب تمام بڑے شہروں سے گلگت ،استور ،سکردو وغیرہ کے لیے بس ،کوسٹر اور ویگنیں چلتی ہیں ۔۔مطلوبہ مقام پر پہنچ کر مقامی ڈرائیور اور گاڑی کرایہ پر حاصل کریں اور جہاں جی چاہے وہاں جائیں ۔۔۔مقامی ڈرائیور آپ کا محافظ بھی ہوگا اور گائیڈ بھی ۔۔۔اور آپ کو بالکل کہیں بھی یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ گاڑی خراب ہوگئ تو کیا ہوگا ۔۔۔یہ نئی گاڑیاں ۔۔۔بیسویں صدی کی دلہن کی طرح اکڑ جائیں تو جلدی مانتی بھی نہیں ہیں ۔۔۔کیونکہ ان کی پوری مشین ایک کمپیوٹر سے منسلک ہوتی ہے اور ان کا مستری بھی شمالی علاقہ میں ہر جگہ نہیں ملتا ۔۔۔اور ایسی صورت میں یا گاڑی لاد کر لے جائیں یا پھر خراب حالت میں چلانے کی کوشش کریں جوکہ سیدھا سیدھا موت سے پنگا لینے والی بات ہے ۔۔۔
اگر جیپ کرایہ پر لینا جیب پر بھاری ہو تو قریباً ہر جگہ سواریوں والی جیپیں چلتی ہیں جو آپ کو معاشی استحکام بھی دیتی ہیں اور مقامی افراد اور ان کی اقدار کو سمجھنے کا موقع بھی ۔۔۔
فیری میڈوز کا ٹریک چیخیں نکلوانے والا ٹریک مشہور ہے ۔۔لیکن حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں مقامی افراد کے علاؤہ کسی کو گاڑی لیجانے کی اجازت نہیں ۔۔۔بھلے آپ کے پاس V8 انجن کی حامل جدید گاڑی ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔گذشتہ دنوں جدید ترین فرانسیسی رافیل جہاز کے خاک نشین ہونے کی وجہ بھی طیارے کی خامی نہیں بلکہ اس کو اڑانے والے پائلٹوں کی نااہلی اور مدمقابل کی قابلیت تھی ۔۔۔یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے ۔۔جدید گاڑی نہیں بلکہ قابل ڈرائیور ۔۔۔۔اس بات کو تمام حضرات پلے باندھ لیں ۔۔۔کبھی بھی آپ حضرات ایسے ڈرائیور کے ساتھ سفر نہ کریں جو پہلی دوسری یا تیسری بار ان علاقوں کی جانب جارہا ہو۔۔۔جس کے ہمراہ جارہے ہیں اس سے ضرور پوچھیں ۔۔۔
بھائ پہلے کتنی بار گئے ہو ؟
ٹریول کمپنیوں کی اکثریت بھی ناتجربہ کار ڈرائیور بھرتی کرکے کام چلاتی ہے تاکہ کم زیادہ سے زیادہ رقم بٹوری جاسکے ۔۔۔
تو پہلا اصول یہ سمجھ لیں کہ ڈرائیور چاہے آپ خود ہیں یا کوئ اور انتہائ کہنہ مشق ہونا چاہیے ۔۔۔اور اگر کوئ تیس سال سے گاڑی چلا رہا ہے لیکن ان راہوں سے ناآشنا ہے تو اناڑی ہے ۔۔۔
دوسری چیز جو آجکل کے دور میں بہت ضروری ہے گوکہ بیس پچیس سال قبل یہ بھی غیر ضروری تھی ۔۔۔وہ یہ کہ جہاں آپ جارہے ہیں وہاں کی ضروری معلومات لیتے وقت یہ ضرور معلوم کریں کہ وہاں کون سے نیٹ ورک کے سگنل آتے ہیں ۔۔اس کی سم ساتھ ضرور رکھیں ۔۔اور اگر ایسی جگہ جارہے ہیں جہاں صرف ایس کام چلتا ہے تو وہاں ایس کام یا یو فون کی سم استعمال کریں ۔۔۔
سٹیٹس کو جسے معاشرتی برائی کا بخار بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔اس کے مارے ہم لوگ جیسے تیسے کرکے تین کیمروں والا آئ فون لے لیتے ہیں ۔۔جس پر سم بھلے نہ چلتی ہو ۔۔۔لیکن ہاتھ میں آئ فون ہوگا ۔۔۔یادرکھیں جس بندوق میں گولی نہ ہو وہ شکاری اور چوکیدار کے کسی کام کی نہیں ۔۔۔اسی طرح آئ فون اور دیگر ایسے مہنگے فون جن میں سم نہیں چلتی ان کے ساتھ فونز کے دادا ابو نوکیا کو ضرور رکھیں ۔۔۔سگنل کھینچنے کے معاملہ میں آج بھی چچا نوکیا پہلے نمبر پر ہیں ۔۔۔
گاڑی چلاتے تصاویر بنانا ،گانے لگانا اور پھر من پسند گانے بدلنا ،سٹیک ،سنیپ ،لائیو وڈیو ،ٹک ٹاک ،واٹس ایپ اسٹیٹس ،فیس بک سٹوری ۔۔۔۔۔یہ سب دور حاضر کے وہ خوفناک جن ہیں جو پلک جھپکتے میں ہمیں کسی گہری آندھی کھائ یا کسی ٹھاٹھیں مارتے مچلتے دریا میں دھکیل سکتے ہیں ۔۔۔ان جنات سے ضرور دوستی رکھیں لیکن گاڑی چلانے کے دوران نہیں ۔۔۔
انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کریں ۔۔جہاں آپ کو اندراج کے لیے روکا جائے وہاں رکیں اور مکمل معلومات فراہم کریں ۔۔۔یاد رکھیں یہ سب ہماری سہولت اور تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے ۔۔۔گوکہ پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے سو مختلف طریقے موجود ہیں لیکن پھر بھی سرے سے لائسنس ہی موجود نہ ہو تو ایسے ڈرائیور سے یوں بھاگیں جیسے غلیل یا چھرے والی بندوق کو دیکھ کر کوا بھاگتا ہے ۔۔۔نہ صرف بھاگتا ہے بلکہ شور مچا کر باقیوں کو بھی جمع کرلیتا ہے کہ وہ دیکھو ہماری جان کا دشمن آرہا ہے ۔۔۔ایسے ہی بغیر لائسنس اور اناڑی آپ کی جان کے دشمن ہی ہیں ۔۔۔
بارش یا خراب موسم میں فورا کوشش کریں کسی محفوظ جگہ پر رک جائیں ۔۔کوئ بھی ایسی جگہ جو قدرے کشادہ ہو ۔۔یہاڑ کے دامن میں گاڑی کھڑی کرنے سے گریز کریں ۔۔۔
آجکل بہت سی جگہوں پر نیٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے ۔۔۔اپنی لائیو لوکیشن اپنے کسی قابل بھروسہ آدمی کے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔۔۔یہ بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔۔۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ طویل سفر ،تھکاوٹ اور نیند کا مکمل نہ ہونا بھی ہے ۔۔اٹھ ،دس گھنٹے سے زیادہ سفر نہ کریں ۔۔۔دوران سفر جہاں قیام کریں رات بہت جلد بستر میں جائیں تاکہ آپ کو طویل استراحت کا موقع ملے اور جسم اور دماغ کو آسودگی حاصل ہو ۔۔۔
سوشل میڈیا پر دکھائ جانیوالی دیگر چیزوں کی طرح سیاحت کا بھی صرف ایک پہلو دکھایا جاتا ہے ۔۔۔پہاڑ ،دریا ،جھیلیں ،جنگل ،برف زار ،سرسبز میدانوں میں گھومتے رنگ برنگی تصاویر ۔۔۔اور پھر سوشل میڈیا جو کہ پچاس فیصد دکھاوے اور حقیقت سے دور جعل سازی وملمع کاری کا ایک دلکش مجموعہ ہے اس سے متاثر ہوکر لوگ دھڑا دھڑ سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔کوشش کریں اپنے قریب ترین مقام کا انتخاب کریں ۔۔۔یقین مانیں ہمارے اردگرد پورے ملک میں بہت خوبصورتی ہے ۔۔۔
چین کی سرحد دیکھنے خنجراب جانے سے بہتر ہے واہگہ یا قصور وسیالکوٹ کی پاک بھارت سرحد دیکھ لیں۔۔۔کراچی سے ہیں تو سندھ بہت خوبصورت ہے ،بلوچستان کی اپنی خوبصورتی مثالی ہے ،پنجاب ،سرحد ،کشمیر ۔۔۔۔غرضیکہ کونسا ایسا علاقہ ہے جہاں فطرت کے عشاق کو تسکین نہیں ملتی ۔۔۔۔نکل آئیں اس سوشل میڈیا پر نمود و نمائش کی دوڑ سے ۔۔۔دیکھیں اگر کوئ پاکستان کرکٹ ٹیم میں کھیلتا ہے یا فٹبال کا بہت اچھا کھلاڑی ہے تو ضروری تو نہیں کہ ہم بھی فٹبال کے پیچھے بھاگنا شروع کردیں اور اپنی ٹانگیں تڑوا بیٹھیں ۔۔۔ہم اس کا کھیل دیکھ کر بھی تو محظوظ ہوسکتے ہیں ۔۔۔
ذندگی بہت قیمتی ہے اس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے ۔۔۔۔اپنے رب کے لیے ، اپنے عزیز واقرباء کے لیے ۔۔۔پیچھے رہ جانیوالی تاحیات روتی ماں کے لیے ، ایک رات میں کمر جھک کر بوڑھا ہو جانیوالے باپ کے لیے ، سسکتی بہن اور پیٹھ ننگی ہوجاتے بھائ کے لیے ۔۔۔اس قیمتی ذندگی کی حفاظت کریں ۔۔۔۔
ان پہاڑوں پر دل کے قافلے چلا کرتے تھے اور میلوں پیدل چلا کرتے تھے ۔۔۔گاڑیوں کے قافلوں نے جہاں ان کا حسن گہنا دیا ہے وہاں ہمہ وقت سر پر لٹکتی ایک تلوار بھی موجود ہے ۔۔۔نہ جانے کب فون کی گھنٹہ بجے اور کب کیا اطلاع آئے ۔۔۔یا فون ملنا ہی بند ہو جائے ۔۔۔۔
جتنی ذمہ دار انتظامیہ ہے اس سے دوگنا ذمہ داری ان حادثات کی ہم پر عائد ہوتی ہے ۔۔۔ہم سب ذمہ دار ہیں ۔۔میں بھی آپ بھی ہم سب ۔۔۔ہم لاپرواہ ہیں ۔۔۔میرا ذاتی تجربہ ہے گاڑی میں اضافی ٹائر نہیں، گاڑی اٹھانے کے لیے جیک نہیں ٹائر کھولنے کے لیے اوزار نہیں ۔۔۔اور میلوں دور پہاڑوں میں گھوم آتے ہیں ۔۔۔
میری گاڑی کے بریک فیل تھے جی تو میں خنجراب سے ہو آیا ۔۔۔۔
یہ ہم اپنی نجی محفلوں میں فخریہ بتاتے ہیں ۔۔۔
الو کے پٹھے اگر تو بریک فیل تھے اور خیریت سے واپس آگیا ہے تو رب کا شکر ادا کر اور آئندہ ایسی بیوقوفی پر توبہ ۔۔۔
نہ کہ اس کو فخریہ بیان کرکے دوسروں کو موت کے منہ میں دھکیل ۔۔۔۔
بہت کچھ ہے کہنے کو ۔۔۔۔لیکن شاید میں کہہ نہ پاؤں اور شاید سچائ ہم سن بھی نہ پائیں ۔۔۔
اپنی غلطی کو انتظامیہ اور اداروں کے کھاتے ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوا جاسکتا ۔۔۔اداروں میں خامیاں ضرور ہیں ۔۔لیکن ہمیں بھی اپنا احتساب ضرور کرنا ہوگا ۔۔۔
فیض احمد فیض کے چند اشعار سانحہ سکردو کے مرحومین کی نظر ۔۔۔
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
نوید اشرف خان
واہ کینٹ
=====================================
کراچی: شادی کے 6 دن بعد شوہر نے بیوی کو قتل کر کے لاش جلا دی، ملزم گرفتار نہ ہو سکا
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن، مومن آباد میں 17 مئی کو بیوٹی پارلر سے خاتون کی لاش ملنے کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات کا مرکزی ملزم شاہ ویر مانسہرہ میں مفرور ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ فرار ملزم مقتولہ کا شوہر ہے، جس نے واردات سے 6 روز قبل صائمہ سے شادی کی تھی۔
دونوں میں جھگڑا ہوا ملزم نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے تیز دھار آلے سے گردن پر وار کیے اور لاش کو جلا دیا تھا، فرار ملزم کی ٹیکنیکل بنیاد پر تلاش کی جا رہی ہے۔























